شیر شاہ سوری: وہ افغان سردار جس نے مغلوں اور افغانوں کی کمزوریاں جان کر ہندوستان پر راج کیا

انتظامی صلاحیتیں
شیرشاہ کی جنگی مہمات سے کہیں زیادہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف ہوتی ہے۔ اگرچہ ان سے قبل علاؤالدین خلجی، محمد بن تغلق اور فیروز شاہ نے اس جانب کچھ توجہ مبذول کی تھی لیکن شیر شاہ نے انتہائی کم عرصے میں بہت ہی انمٹ نقش چھوڑے۔
ودیا بھاسکر کے مطابق انگریز مورخ کین نے شیر شاہ کے انتظام سلطنت کی خاص طور پر تعریف کرتے ہوئے لکھا: کسی حکومت نے، یہاں تک کہ برٹش حکومت نے بھی ملک کے نظم و نسق میں اتنی مہارت کا ثبوت یا جتنا کہ شیر شاہ نے دیا۔ اس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ بہتر نظم و نسق اور عمدہ فوجی تنظیم کے لیے صرف کیا۔ وہ شاہی کروفر اور شان و شوکت کا قائل نہ تھا اور عیش و عشرت کی محفلوں سے کوسوں دور رہتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہمایوں کا سفیر شیر شاہ سے مل کر واپس آیا تو اس نے بتایا کہ شیر شاہ کڑی دھوپ میں گڑھا کھود رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ زمین پر بیٹھ گیا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا۔‘
واضح رہے کہ شیر شاہ نے آسام سے لے کر ملتان اور سندھ تک اور کشمیر سے سدپارہ کی پہاڑیوں تک اپنی حکومت قائم کی اور ایک جیسا نظام حکومت رائج کیا۔ پوری سلطنت کو سرکاروں اور پرگنوں میں تقسیم کیا جو کہ آج کے دور میں کمشنری اور اضلاع ہیں۔
شیر شاہ نے شروع سے ہی حکومت کے زوال کی وجہ عدل کی کمی کو قرار دیا اور جب بھی انھیں کہیں سربراہی ملی تو انھوں نے نظام عدل کو قائم کرنے کی کوشش کی اور ہر شہر میں عدالت قائم کی۔

انھوں نے بنگال سے لے کر افغانستان تک ایک ایسی شاہراہ بنائی جسے گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے جانا گیا۔ یہی نہیں انھوں نے آگرہ سے جنوب کی سمت میں برہان پور تک اور دوسری آگرہ سے جودھ پور اور چتور تک اور تیسری لاہور سے ملتان تک سڑک بنائی اور ان سڑکوں پر تقریباً 1700 کاروان سرائے بنوائیں جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے قیام و طعام کے علیحدہ انتظامات تھے۔
یہاں ٹھنڈے اور گرم پانی کے انتظامات تھے۔ سرائے میں گھوڑوں کے کھانے پینے کا بھی نظم تھا اور حکومت کی جانب سے مسافروں کو مفت کھانا ملتا تھا۔ سرائے میں مسجد کی تعمیر اور اس میں امام و موذن کی تقرری بھی کی گئی۔ مسافروں کے مال و اسباب کی حفاظت کے لیے چوکیدار ہوتا تھا اور ان سب پر ایک شحنہ یعنی مینیجر ہوتا تھا۔
شیر شاہ نے سڑک کے کنارے درخت بھی لگوائے تھے تاکہ مسافر گرمیوں میں اس کی چھاؤں تلے آرام کر سکیں۔ سرائے کے انتظامات کے لیے اطراف کے کئی گاؤں کے محصول وقف تھے۔
شاہراہوں کی حفاظت کے لیے انتظامات تھے اور عامل یا شقدار کو حکم جاری کیا گیا تھا کہ ان کے علاقے میں کہیں بھی چوری یا راہ زنی ہوتی ہے اور مجرموں کا پتا نہیں چلتا ہے تو اسے لازم ہے کہ قریبی گاؤں کے مقدم (مکھیا) کو گرفتار کر لیں اور ان سے نقصان کی تلافی کرائی جائے لیکن اگر وہ مجرموں کا پتا چلانے میں معاونت کرتے ہیں تو انھیں کوئی سزا نہ دی جائے۔

شیر شاہ نے سہسرام کے قلعے کو تو مضبوط کیا ہی، انھوں نے روہتاس کا قلع بھی بنوایا جو کہ اب پاکستان کے ضلع جہلم میں ہے جبکہ بہار میں بھی روہتاس ایک جگہ ہے جہاں شیر شاہ نے تعمیرات کروائیں۔ اس کے علاوہ دہلی کے پرانے قلعے کی کئی عمارتیں بھی ان کی یادگار ہیں۔
شیر شاہ جب اپنی عمر کے 60ویں سال میں تھا کہ انھوں نے مہوبا کے راجپوتوں کے خلاف بندیل کھنڈ میں کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ عباس سروانی بتاتے ہیں کہ ان کی موت جمعے کے دن 22 مئی سنہ 1545 کو قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر آنے والے ایک بارود کے گولے سے ہوئی کیونکہ جہاں وہ کھڑے تھے وہاں بارود کے بہت سے گولے تھے جس میں شیر شاہ کے ہمراہ بہت سے دوسرے افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ لیکن ان کا ایک بچہ اس بارود کے ڈھیر میں بھی زندہ سلامت رہا۔
کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ نے کالنجر کے قلعے کا محاصر کر رکھا تھا اور اس قلعے کے سامنے اتنا بلند پشتہ تیار کروایا کہ قلعے کے اندر جو نظر آتے ان کا شکار کر لیتے تھے۔
’لیکن قلعہ لینے میں تاخیر کا باعث راجہ کیرت سنگھ کے حرم کی ایک لونڈی ناچنے والی تھی کہ اس کی تعریف شیر خان نے بہت سن رکھی تھی اور یہ ارادہ اپنے دل میں رکھتے تھے کہ کسی طرح سے وہ لونڈی ہاتھ آجائے۔ (وہ سوچتے ہوں گے) اگر طاقت سے قلعے کو لوں گا تو راجہ کیرت سنگھ پھر جوہر کر لے گا اور اس لونڈی کو جلا دے گا۔‘
ان کے نوٹ میں تاریخ شیر شاہی کے اردو مترجم مظہر علی خان ولا نے لکھا: ’اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیر شاہ جیسا قابل اور سمجھدار حکمران بھی کیسی رکیک حرکت کر سکتا تھا۔ ایک ناچنے والی لڑکی کی خاطر اس نے محاصرے کو طوالت دی اور آخر میں خود اپنی جان بھی کھو دی۔‘
شیر شاہ کا مزار سہسرام میں ہے جو ان کے بیٹے سلیم شاہ نے ایک مصنوعی جھیل کے کنارے تعمیر کرایا ہے جو آج تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔


