مغربی عورتوں کی آزادی کی طویل جدوجہد کی مختصر کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورتیں اپنے مسائل کو سلجھانے کی کوشش انفرادی طور پر تو صدیوں سے کر رہی تھیں لیکن مغرب میں عورتوں کی اجتماعی جدوجہد کی باقاعدہ تحریک کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی جب عورتوں کے مسائل سیاسی اور مذہبی حلقوں میں زیر بحث آنے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب ذاتی آزادی کا تصور مقبول عام ہو رہا تھا۔

1833 میں اوہائیو امریکہ میں اوبرلن وہ پہلا کالج تھا جس نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لیے علم کے دروازے کھولے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا مقصد اچھی بیویاں اور مائیں پیدا کرنا تھا۔ ان تعلیمی سرگرمیوں کا سہرا ایما ولارڈ اور فرانسس رائٹ کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی پراثر تقریریں کر کے عوام کو تعلیم نسواں کے مسئلے کی سنجیدگی کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عورتوں کو معاشرے میں ان کا صحیح مقام نہیں ملے گا معاشرہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

1830 کی دہائی میں عورتوں کی تحریک نے کھل کر سیاسی رنگ اپنایا جب انہوں نے غلامی کے خاتمے کی تحریک میں زور و شور سے حصہ لیا۔ سارا اور انجیلینا گرمکی جو ایک غلام خاندان کی بیٹیاں تھیں اس تحریک میں بہت فعال تھیں۔ انہوں نے معاشرے میں اتنی ہلچل مچا دی کہ اس وقت کے میساچیوسٹس کے پادریوں کی ایک جماعت نے اعلان کیا

’ عورت کا مقام اور ذمہ داریاں بائبل پہلے ہی مقرر کر چکی ہے۔ عورت کی طاقت اس کی کمزوری اور مجبوری میں ہے جو خدا نے اسے عنایت کی ہے۔ جب وہ مردوں کی طرح کام کرتی ہے اور معاشرے کی فلاح چاہتی ہے تو وہ اپنی حقیقت بھول رہی ہوتی ہے‘

گرمکی بہنوں نے جب یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عورتوں اور غلاموں کے مسائل میں یکسانیت ہے تو ان پر بہت سے نفسیاتی اور سماجی اور اخلاقی حملے ہوئے۔ انہوں نے اس مفروضے کو چیلنج کیا کہ

’ مرد عورتوں سے فطری طور پر بہتر ہیں‘

انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ مذہب اور شادی دونوں اداروں نے صدیوں سے عورت کو نقصان پہنچایا ہے اور ملازمتوں میں بھی عورت کا استحصال ہوتا رہا ہے۔

سنہ 1840 میں لندن میں غلامی کے خلاف تحریک میں امریکہ کی نمائندہ عورتوں نے شمولیت کی۔ اس سے عورتوں کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کے بعد الزبتھ سٹینٹن سوزن اینتھنی اور میٹلڈا گیج

ELIZABETH STANTON
SUSAN ANTHONY AND
MATILDA GAGE

نے مل کر "عورتوں کی مظلومیت کی تاریخ” نامی کتاب مرتب کی جس سے عوام و خواص کو عورتوں کی غلامی اور سیاہ فام لوگوں کی غلامی میں گہرا تعلق نظر آنے لگا۔

جولائی 1848 میں نیویارک میں ’عورتوں کے حقوق‘ کی کنونشن کی دعوت کا اعلان ہوا۔ تین سو مردوں اور عورتوں نے شرکت کی۔ اس کنونشن کو عورتوں کی جدوجہد میں ایک اہم مقام حاصل ہوا۔ اس موقع پر عورتوں نے اپنے حقوق جائیداد۔ کمائی۔ بچے۔ طلاق۔ اور دیگر مسائل پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے ایسے ریزولوشن پاس کیے جن سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ

عورتیں اور مرد برابر ہیں
انسانی تاریخ مردوں کی عورت پر ظلم اور نا انصافی کی داستان ہے
اس کنونشن کے بعد ہر سال عورتوں کا اجتماع ہوتا رہا۔

جب 1861 میں سول وار شروع ہوئی تو لوگوں کی توجہ عورتوں کی جدوجہد سے وقتی طور پر بٹ گئی یہ علیحدہ بات کہ عورتوں کی نمائندہ رہنما سوزن اینتھنی اور الزبتھ سٹینٹن مصر رہیں کہ آزادی کی کوئی جنگ اس وقت تک کامل نہیں جب تک اس میں عورتوں کی آزادی کی جدوجہد شامل نہ ہو۔

جنگ کے بعد جب غلامی کے خاتمے کے لیے تیرہویں آئنی ترمیم پاس ہوئی جس کے تحت غلامی غیرقانونی ثابت ہوئی تو عورتوں کی جدوجہد چودھویں شک کی طرف بڑھی جس کے تحت حقوق و مراعات کی گفتگو زیر بحث آئی۔ اس وقت کاغذات پر لفظ۔ مرد۔ MAN استعمال کیا گیا۔ عورتوں نے احتجاج کیا کہ انہیں یہ کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسئلہ غلاموں کا زیر بحث ہے عورتوں کا نہیں۔ حالانکہ اس جدوجہد میں عورتیں بھی بڑھ چڑھ کر شریک رہیں۔

1869 میں عورتوں کی آزادی کی تحریک میں نظریاتی اور عملی بنیادوں پر خلیجیں پڑنے لگیں تو مئی 1869 میں سوزن اینتھنی اور الزبتھ سٹئنٹن نے نیشنل وومن سفریج ایسوسئیشن NATIONAL WOMAN SUFFRAGE MOVEMENT قائم کی اور چھ ماہ بعد لوسی سٹون اور ان کی رفقا نے ایمیریکن وومن سفریج ایسوسئیشن AMERICAN WOMAN SUFFRAGE MOVEMENT تشکیل دی۔

اینتھنی اور سٹیٹن نے ایک رسالہ۔ انقلاب۔ REVOLUTION بھی جاری کیا جس میں عورتوں کے مسائل اور حقوق پر زور دار بحث ہوئی۔ ان کارروائیوں کا ایک بنیادی مقصد عورتوں کے لیے ووٹ حاصل کرنا تھا۔

سنہ  1875 میں سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ ووٹ کا حق صرف مردوں کو ہوگا عورتیں اس حق سے محروم رہیں گی۔

1890 میں عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی دونوں جماعتیں یکجا ہو گئیں اور نیشنل ایمیریکن سفریج ایسوسئیشن  معرض وجود میں آئی الزبتھ سٹنٹن اس کی پہلی صدر اور دو سال بعد سوزن انتھنی اس کی دوسری صدر منتخب ہوئیں۔

سٹینٹن نے اپنی تمام تر توجہ عورتوں کے مسائل اور مذہب اور گرجے کے باہمی تعلق پر مرکوز کر دی۔ اس نے تئیس عورتوں کے ساتھ مل کر عورت کی انجیل۔ WOMAN ’S BIBLE۔ مرتب کی۔ جس میں عورتوں کے نقطہ نگاہ کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے اپنی کارروائیوں کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا

’وقت آ گیا ہے کہ ہم بائبل کو بھی اور کتابوں کی طرح پڑھیں اس کی اچھی چیزوں کو قبول کریں اور بری چیزوں کو نکال دیں۔‘

اس بائبل نے عورتوں کی تحریک میں کھلبلی مچا دی۔ اینتھنی نے ایک طویل عرصے تک تحریک نسواں کی قیادت کی اس کے بعد فیمنسٹ تحریک کی دوسری نسل کی عورتوں نے سربراہی قبول کی۔

اس جدوجہد میں ایک نام ایلس پال کا ہے جنہوں نے 1930 میں کانگرشنل یونین تشکیل سی یہ بہت ہی زور دار جماعت تھی جس کے اراکین نے زبردست مظاہرے کیے۔ بھوک ہڑتالیں کین اور جیلیں گئیں۔

اس پوری جدوجہد میں عورتوں کا ووٹ حاصل کرنے کا مسئلہ ہمیشہ سر فہرست رہا۔ وہ تجویز جو 1868 میں پیش کی گئی تھی پہلے وومن سفریج امنڈمنٹ اور بعد میں اینتھنی ایمنڈمنٹ کہلائی۔ کانگریس میں کئی دفعہ زیر بحث آئی لیکن رد کر دی گئی۔ اگست 1920 عورتوں کی جدوجہد کے لیے ایک اہم مہینہ تھا کیونکہ اس ماہ اس تجویز کو قبول کیا گیا اور عورتوں کو طویل جدوجہد کے بعد ووٹ کا حق حاصل ہوا۔

1920 تک پہنچتے پہنچتے عورتوں کی تحریک مسلسل محنت اور دشواریوں کا سامنا کرتے کرتے تھک کر نڈھال ہو گئی تھی۔ اس لیے ووٹ حاصل کرنے کے بعد جو عورتوں کے انقلاب کا پہلا قدم تھا وہ وقت سے پہلے مر گئی اور چالیس سال تک خاموش رہی۔

19601920 تک بہت سی تبدیلیاں یا زیر سطح آتی رہیں یا انفرادی کوششوں کی مرہون منت رہیں۔ یہ وہ دور تھا جب سیمون دی بووژا کی تصنیف دی سیکنڈ سیکس۔ نے عورتوں کے شعور کو نئی جلا بخشی لیکن عورتوں کی مجموعی تحریک فعال نہ رہی۔ ان تبدیلیوں کا ایک اثر یہ مرتب ہوا کہ ووٹ حاصل کرنے والی عورتوں کی پوتیاں ووٹ دینے کے قابل ہوئیں تو فیمنسٹ کا لفظ۔ ایک گالی۔ بن چکا تھا۔

سنہ 1960 کی دہائی میں عورتوں کی تحریک خواب سے ایک دفعہ پھر انگڑائیاں لیتی ہوئی بیدار ہوئی اس دور میں امریکہ میں ان عورتوں کی تعداد بڑھ رہی تھی جو تعلیم یافتہ تھیں ملازمت کر رہی تھیں لیکن ماحول کے شکنجوں میں جکڑی ہوئی تھیں۔ صدر کینیڈی نے 1961 میں۔ عورتوں کے مسائل کو زیر غور لانے کے لیے قوم سطح پر کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن ترتیب دیا۔ اس طرح عورتوں کی جدوجہد کی تحریک کو دوبارہ توانائی حاصل ہوئی۔

بے ٹی فریڈین نے 1966 میں نیشنل آرگنائزیشن آف وومن تشکیل دے کر عورتوں کی تحریک میں ایک نئی روح پھونکی۔

1968 میں امدبکج اور کینیڈا کے دو سو سے زیادہ نمائندوں نے قومی سطح پر ایک کانفرنس منعقد کی اور اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا۔ تحریک فعال ہوئی تو رسالوں اخباروں اور انٹرویوز کے ذریعے پیغام چاروں طرف پھیلنے لگا۔ تحرک نے اس موڑ پر اپنی کارروائیوں اور مقاصد کو دو حصوں میں تقسیم کیا

ا۔ پہلا گروہ جنسی برابری کو زیر بحث لانے لگا اور شادی محبت گھر بار بچے اور جنسی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے لگا

ب۔ دوسرے گروہ نے معاشی معاشرتی اور سیاسی برابری کا بیڑا اٹھایا

اسی دوران کانگریس نے EQUAL RIGHTS AMENDMENT پاس کیا اور سپریم کورٹ کی ہمدردیاں اسقاط حمل کے حق میں ہونے لگیں۔

اسی دور میں اور بھی بہت سے گروپ معرض وجود میں آئے جن کا مقصد عورتوں کو یکجا کرنا اور معاشرے میں اہم تبدیلیاں لانا تھا۔ عورتوں کو شعوری طور پر یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کی ابتر حالت کا معاشرے کی روایات سے گہرا تعلق ہے۔ اس لیے جب تک معاشرہ نہیں بدلے گا ان کی حالت بھی بہتر نہ ہوگی۔ بعض گروہوں کے اراکین نے جان بوجھ کر مردوں کو اپنی جدوجہد میں شامل نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مرد ان کی محفلوں میں موجود ہوں گے تو وہ روایتی اندز میں گفتگو کریں گے اپنے مسائل کو زیر بحث لائیں گے اور عورتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرنے میں مزاحم ہوں گے۔ اس طرح عورتوں کے گروہ میں سالمیت پیدا ہونے میں دیر لگے گی۔

سنہ 1973 تک پہنچتے پہنچتے۔ بے ٹی فریڈین کی NOW ایک بہت بڑے اور فعال جماعت بن چکی تھی اور اس کے چالیس ہزار سے زائد ممبر اور سات سو شاخیں بن چکی تھیں۔

1971 میں قومی سطح پر دوسری بڑی جماعت نے جو بہت اہم تھی اس کا نام NATIONAL WOMEN ’S POLITICAL CAUCUS تھا اس جماعت کی کارروائی کا محور سیاسی تھا اور مقصد عورتوں کو زیادہ سے زیادہ سیاسی قوت دلوانا تھا۔

ان دو بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ بیسیوں چھوٹی چھوٹی جماعتیں تھیں جنہوں نے مختلف مسائل کو اپنی کارروائیوں کا محور بنایا تھا۔ نظریاتی طور پر بھی عورتوں کی جدوجہد میں کئی تبدیلیاں آئیں، عورتوں کی زندگی کو بہتر بنانے اور ماضی کے شکنجوں سے آزاد کرانے میں کئی نئے خیالات پیش کیے گئے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ایسا معاشرہ تیار کرنا تھا جس میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ انسانی برابری حاصل ہو سکے۔

عورتوں کی جدوجہد کا ایک گروہ مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا تھا اس گروپ نے اپنی سوچ کو FEMINIST HUMANISM کا نام دیا۔ عورتوں کے مختلف گروہوں کو دھیرے دھیرے یہ احساس ہونے لگا کہ اگر مرد اور عورتیں علیحدہ علیحدہ حلقوں میں رہیں گے تو نئے اور بہتر معاشرے کی تشکیل میں دیر لگے گی۔ لیکن اگر وہ مل کر جدوجہد کریں گے تو ایسے معاشرے کا قیام زیادہ آسان ہوگا جس کی عمارت انصاف اور آزادی کی بنیادوں پر استوار ہوگی۔

۔
نوٹ۔ اس مضمون میں عورتوں کی آزادی کی تحریک میں شامل دانشور عورتوں کی تخلیقات کی اینتھالوجی
WOMEN : A FEMINIST PERSPECTIVE
سے استفادہ کیا گیا ہے جسے جو فریمین کی ادارت میں مے فیلڈ پبلشرز نے کیلی فورنیا امریکہ میں چھاپا تھا۔

۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 467 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments