الزبتھ سٹینٹن اور عورتوں کی بائبل
ELIZABETH CADY STANTON کے نام اور کام کے بغیر مغرب کی فیمنسٹ تحریک کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ انہوں نے اس تحریک کو نظریاتی ’سماجی اور سیاسی بنیادیں فراہم کیں جس پر بعد کی فیمنسٹ خواتین نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔ الزبتھ سٹینٹن کا موقف تھا کہ جب تک ہم عورتوں کے مذہبی خیالات اور نظریات تبدیل نہیں کریں گے اور ان کی مذہبی شناخت نہیں بدلیں گے اس وقت تک وہ پوری طرح آزاد و خودمختار نہیں ہو سکیں گی۔
الزبتھ سٹینٹن نیویارک میں 1815 میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک روشن خیال جج تھے جنہوں نے الزبتھ سٹینٹن کی اعلیٰ تعلیم کا اس دور میں انتظام و اہتمام کیا جب تعلیم حاصل کرنے کی صرف مردوں کو اجازت ہوتی تھی۔ الزبتھ سٹینٹن اپنی یونیورسٹی کی کلاس میں واحد خاتون تھیں۔ وہ اتنی قابل تھیں کہ اکثر اوقات مردوں سے بہتر نمبر حاصل کر کے انعامات حاصل کرتی تھیں۔
الزبتھ سٹینٹن اس وقت بہت حیران و پریشان ہوئیں جب انہیں پتہ چلا کہ عورتیں نہ تو جائیداد حاصل کر سکتی ہیں اور نہ ہی مردوں کی اجازت کے بغیر زندگی کے اہم فیصلے کر سکتی ہیں۔ انہیں احساس ہوا کہ عورتیں زندگی کے ہر قدم اور موڑ پر مردوں کی دست نگر ہیں۔
الزبتھ سٹینٹن جب عورت ہونے کی وجہ سے وکیل نہ بن سکیں تو وہ غلامی کے خلاف تحریک میں شامل ہو کر سیاسی کارکن بن گئیں۔ 1840 میں الزبتھ نے ہنری سٹینٹن سے شادی کر لی جو خود غلامی کے خلاف ایک فعال اور ہردلعزیز وکیل تھے۔ 1848 میں الزبتھ سٹینٹن نے عورتوں کے لیے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا تا کہ عورتوں کے مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال ہو سکے۔
الزبتھ سٹینٹن 1869 سے 1890 تک NATIONAL WOMEN ’S SUFFRAGE ASSOCIATION کے ساتھ منسلک رہیں۔ 1968 میں انہوں نے ایک میگزین انقلاب REVOLUTIONکی ادارت کی۔ 1881 سے 1886 تک سوزن اینتھنی اور میٹلڈا گیج کے ساتھ مل کر HISTORY OF WOMEN ’S SUFFRAGEکتاب مرتب کی۔
1895 میں انہوں نے THE WOMAN ’S BIBLEچھپوائی جس نے پورے شمالی امریکہ میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ اس کتاب کی روایتی مردوں نے ہی نہیں روایتی عورتوں نے بھی مخالفت کی لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں۔ انہوں نے بالکل ہمت نہ ہاری۔ الزبتھ سٹینٹن 1902 میں فوت ہوئیں اور ان کی موت کے اٹھارہ برس بعد 1920 میں ان کا عورتوں کو ووٹ دلوانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
الزبتھ سٹینٹن عورت کی بائبل کے دیباچے میں (میں یہاں دیباچے کی تلخیص اور ترجمہ پیش کر رہا ہوں) لکھتی ہیں کہ جب ہم عورتوں کے مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں تو مرد چاہے وہ پادری ہوں یا سیاستدان وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ آسمانی کتابوں میں لکھا ہے کہ عورتیں مردوں سے کمتر ہیں۔ مرد اپنے ظلم جبر اور استحصال کا جواز مذہب اور بائبل سے لے آتے ہیں۔
دھیرے دھیرے وقت بدل رہا ہے اب آزاد خیال مرد اور عورتیں بائبل کو نئے انداز سے پڑھ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق بائبل کو بدلنا ہوگا تا کہ اس میں عورتوں اور مردوں کے برابر کے حقوق و مراعات کا اندراج ہو سکے۔
بائبل میں لکھا ہے کہ حوا نے آدم کو ورغلایا۔ بائبل میں آدم کے گناہ اور انسانیت کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرایا گیا ہے۔ بائبل عورت کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی تابع فرمان بن کر زندگی گزارے۔
بائبل کو بنیاد بنا کر جو ملکی قوانین بنائے گئے ہیں ان میں بھی عورت دوسرے درجے کی شہری ہے۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی چاہے وہ مذہبی رہنما ہوں یا سیاست دان وہ اپنے متعصب نظریات اور خیالات کا جواز بائبل سے نکالتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ بائبل چونکہ خدا کا کلام ہے اس لیے ہمیں اس پر اندھا ایمان لانا چاہیے۔
انیسویں صدی میں جب عورتوں نے اپنے حقوق کی تحریک چلانی شروع کی اور انہیں بائبل کے فرمودات کا حوالہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روشن خیال عورتوں نے بائبل کا ناقدانہ مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ بائبل کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی بائبل لکھنے کی ٹھانی جس میں مردوں اور عورتوں کو برابر کے حقوق و مراعات حاصل ہوں۔ وہ ایسی بائبل لکھنا چاہتی تھیں جو مردوں کی بائبل سے مختلف ہو جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اور جو ساری انسانیت کے لیے ہو صرف مردوں کے لیے نہ ہو۔
جن دانشور خواتین نے انگریزی کی بائبل کے ہمراہ یونانی اور ہیبرو بائبل کا بھی مطالعہ کیا انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ بائبل کے انگریزی ترجمے میں سینکڑوں غلطیاں ہیں۔
انیسویں صدی کی دانشور خواتین پوچھتی ہیں کہ عیسائی گرجوں میں عورت کو پادری اور مذہبی رہنما بننے کی کیوں اجازت نہیں؟
عورتوں کو ان محفلوں میں کیوں شریک کیا جاتا ہے جن میں اس کی زندگی اور مستقبل کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ؟
آخر جب ہم نے عورتوں کی بائبل لکھنے کا اعلان کیا تو ہمیں بہت سی عورتوں کے بہت سے خطوط موصول ہوئے۔ چند خطوط میں بہت مفید مشورے تھے اور بعض میں ہمیں تنبیہ کی گئی تھی کہ ہم خدا کے احکامات اور روایات کو بدل کر گناہ کا کام کر رہی ہیں۔ ہم ایسی عورتوں سے پوچھتی ہیں کہ کیا خدا صرف مردوں کا ہے وہ صرف مردوں سے بات کرتا ہے کیا عیسیٰ صرف مردوں کی فلاح و بہبود کے لیے آئے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے اور ساری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے آئے تھے۔
بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ عورتوں کی بائبل مرتب کرنا اس لیے بھی غیر اہم ہے کہ بائبل خود اپنی اہمیت کھو چکی ہے اور بائبل کو خدا کا کلام سمجھنے والے لوگوں میں دن بدن کمی آتی جا رہی ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ بائبل کو بدلنا ضروری ہے کیونکہ عورتوں کی بائبل کے بغیر عورتوں کی آزادی و خودمختاری کا سفر مکمل نہیں ہوگا۔
اب ہم عورتوں سے کہتے ہیں کہ وہ بائبل کو بھی دوسری کتابوں کی طرح پڑھیں اس کے محبت کے مثبت پیغام کو قبول کر لیں اور اس کے عدم مساوات کے منفی پیغام کو رد کر دیں۔
ہم نے بائبل کے پدر سری نظام کے نشان HOLY FATHERکو بدل کر HOLY FATHER AND MOTHER کر دیا ہے کیونکہ ہمارا خدا ہمارے لیے باپ بھی ہے اور ماں بھی۔
ایسا لکھنے سمجھنے اور کرنے سے مرد اور عورت کو برابری ملتی ہے اور وہ دونوں مل کر زندگی کی گاڑی چلاتے ہیں۔
ہم عورتوں کی بائبل کو ان کی آزادی و خود مختاری کے سفر میں ایک اہم سنگ میل سمجھتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ عورتوں کی بائبل سے سیاسی اداروں اور مذہبی روایتوں میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی اور مستقبل میں عورتوں کو مردوں کے برابر پورا انسان سمجھا جائے گا۔







