بلنکن کی اسرائیل کو حمایت کی یقین دہانی، غزہ کی تعمیرِنو کے لیے امداد کا عندیہ


امریکی وزیرِ خارجہ منگل کو مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر یروشلم پہنچے تھے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران فلسطینی ’بڑے‘ نقصان سے گزرے ہیں۔ لہذٰا، امید، احترام اور اعتماد کی بحالی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

منگل کو یروشلم میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے، بلنکن نے کہا کہ ’’جانی نقصان اکثر محض اعداد و شمار سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن ہر نمبر کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، ایک بیٹی، ایک بیٹا، ایک باپ، ایک ماں، نانا دادا اور ایک بہترین دوست ہوتا ہے۔‘‘

بلنکن نے کہا کہ امریکہ غزہ میں تعمیر نو کے لیے ہر ممکن مدد کرے گا اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ حماس کے عسکریت پسندوں کو اس کا فائدہ نہ پہنچے۔

انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے معاشی مواقع بڑھانے میں مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پیدا ہونے والی مزید مستحکم فضا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے مفید ہو گی۔

بلنکن منگل کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور وزیر اعظم محمد اشتیہ سے رملہ میں ملاقات اور امدادی کوششوں کا بھی اعلان کریں گے۔

اس موقع پر اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے حمایت کے اظہار پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ عسکریت پسندوں کو جنگ بندی کی پاسداری کرنے کا انتباہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے امن میں خلل ڈالا اور اسرائیل پر حملہ کیا تو ہمارا جواب بہت پُرزور ہو گا۔

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ

اس موقع پر نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے عائد پابندیوں میں رعایت دینے کے بین الاقوامی معاہدے میں امریکہ کی از سر نو شمولیت کے امکان کی مخالفت کی۔

نیتن یاہو اس معاہدے کے ناقد رہے ہیں اور منگل کو بھی انہوں نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک ایسا کرنا ایران کو بین الاقومی جواز کے ساتھ جوہری ہتھیار فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ 2018 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ ان کے نزدیک اس معاہدے میں ایران کو زیادہ مراعات دی گئیں جب کہ اس کی جوہری سرگرمی کو روکنے کے لیے کافی بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں جب ایران اور عالمی قوتوں کے گروپ بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا تو صدر بائیڈن اس وقت امریکہ کے نائب صدر تھے۔

اس معاہدے میں شامل ممالک کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول ناممکن بنانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسے تنصیبات کی جانچ پڑتال اور یورینیم افزودگی کو خاص مقدار تک محدود رکھنے کا پابند کیا جائے اور ساتھ ہی یورینیم کی افزودگی کی سطح محدود اور بعض تنصیبات کو ختم کیا جائے۔

بلنکن کا دورۂ مشرقِ وسطی

اینٹنی بلنکن دورہٴ مشرقِ وسطیٰ میں مصر بھی جائیں گے۔ مصر غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے زیر قیادت فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین ثالث ہے۔ دورے میں امریکی وزیر خارجہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اپنے مصری ہم منصب سامح شکری سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکی دفتر خارجہ کے مطابق، اپنے دورے کے اختتام پر بلنکن اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم اور نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفادی سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جاری رہنے والی 11 روزہ کشیدگی میں 250 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جن میں اکثریت فلسطینیوں کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ بلنکن فریقین کے مابین جمعے کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa