’دھ چھکو‘ جس کے سامنے پولیس بکتر بند میں بھی محفوظ نہیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’میری نظروں کے سامنے ان ساتھیوں کے گوشت کے ٹکڑے اڑ کر گرے جن کے ساتھ میں 8 سے9 سال سے کام کر رہا تھا، آپریشن کے دوران ساتھ میں نہ کوئی باپ ہوتا، ماں اور نہ بھائی۔ یہ ہی پولیس کے ساتھی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔‘

سجاد چانڈیو شکارپور پولیس کے اہلکار ہیں۔ وہ اس بکتربند گاڑی میں سوار تھے جس پر گذشتہ روز ڈاکوں نے جدید اسلحے سے حملہ کیا اور نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوٹوگرافر ہلاک ہوگیا۔

’بکتر بند تابوت بن گئی‘

اتوار کے روز سجاد چانڈیو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جو انھوں نے بکتربند گاڑی کے اندر سے ریکارڈ کی تھی جس میں وہ اعلیٰ افسران کو بچانے کی اپیل کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ان کے تین ساتھی ہلاک ہوچکے ہیں، باقی دو بچے ہیں۔ اس دوران باہر سے فائرنگ اور بکتربند گاڑی پر گولیاں لگنے کی آوازیں بھی آتی رہیں، اس ویڈیو میں انھوں نے لاشیں بھی دکھائیں اور کہا کہ یہ بس ان کی آخری ویڈیو ہے۔

سجاد چانڈیو اور دیگر اہلکاروں کو دوسری نفری نے پہنچ کر ریسکیو کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سجاد نے بتایا کہ وہ گڑھی تیغانی کیمپ پر جمع ہوئے اور اس کے بعد قافلے کی صورت میں کچے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک دائرے کی صورت میں آگے جارہے تھے، ابھی پندرہ بیس منٹ ہی چلے ہوں گے تو ان کی بکتر بند گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور ایک گولی ڈرائیور کی ٹانگ کو چیرتی ہوئی گاڑی کے لیور میں لگ گئی جس کے بعد گاڑی نہ آگے جارہی تھی اور نہ پیچھے، وہ بے بس ہوگئے اور ان پر فائرنگ جاری رہی۔

انھوں نے بتایا اس حملے کے دوران بکتر بند کے اوپر جو مورچا تھا، اس کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا اور ایک راکٹ اندر آگیا جس سے ان کے مزید دو ساتھی ہلاک ہوگئے۔ ڈاکوؤں نے زمین میں خندقین بنا کر مورچہ بنایا ہوا تھا جہاں سے وہ فائرنگ کر رہے تھے۔

’کمیونیکیشن سسٹم بھی منقطع ہوگیا‘

سجاد چانڈیو نے بتایا کہ بکتربند میں رابطے کے لیے واکی ٹاکی نظام ہوتا ہے مگر وہ بھی کام نہیں کر رہا تھا جبکہ موبائیل نیٹ ورک بھی کمزور تھا۔ ’ہم نے سمجھا کہ یہ زندگی کا آخری دن ہے اس لیے ویڈیو بنا کر اپنے پولیس گروپ میں بھیج دی۔‘

’اطلاع ملنے پر پولیس افسران واپس آئے اور انھوں نے ہماری بکتر بند گاڑی سے دیگر بکتربند گاڑیاں لگا کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی جیسے دروازہ کھلتا شدید فائرنگ ہوجاتی اس طرح کوشش کرتے رہے اس کے بعد انھیں کامیابی سے ریسکیو کیا، جو ہلاک ہو چکے تھے انھیں وہاں ہی چھوڑ دیا۔‘

بکتربند گاڑیوں کی ساخت پر سوالات

حملے کا شکار ہونے والی بکتر بند گاڑی گولیوں سے چھلنی نظر آتی ہے، جبکہ اس میں ایک گولی بھی پھنسی ہوئی ہے۔

مگر یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں بکتربند پر حملہ کیا گیا ہے۔ 2 جون 2019 کو شکارپور اور سکھر کے کچے کے علاقے شاہ بیلو میں انسپیکٹر غلام مصطفیٰ میرانی، اے ایس آئی ذوالفقار اور اے ایس آئی غلام شاہ ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ تینوں بھی ایک بکتر بند میں سوار تھے۔ چند ماہ بعد 22 اگست کو گڑھی تیغو میں آپریش کے دوران حملہ ہوا جس میں ایک ڈی ایس پی راؤ شفیع اللہ ہلاک ہوگئے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ ہلاکت بھی بکتر بند کے اندر ہوئی جبکہ بعد میں ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈی ایس پی کی ہلاکت بکتربند گاڑی سے باہر ہوئی تھی۔

کراچی میں 2012 میں لیاری آپریشن کے دوران 3 بکتر بند گاڑیاں حملوں میں متاثر ہوئیں تھیں، جن میں ایک ایس ایچ او سمیت درجن کے قریب اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ اس کے بعد میڈیا میں ان بکتربندوں کی ساخت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

سندھ پولیس کی جانب سے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے ان بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کی جاتی ہے۔ 2012 میں لیاری کے واقعے کے بعد ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور بتایا تھا کہ سندھ پولیس نے ان سے مزید 32 بکتربند گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے جبکہ بی 7 بکتر بند گاڑیوں کو اس آپریشن کے دوران نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وزارت دفاعی پیداوار کے ذیلی ادارے میں بی 6 اور بی 7 بکتر بند گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔ سندھ پولیس کے پاس پہلے بی 6 بکتر بند موجود تھیں بعد میں جدید بی 7 حاصل کی گئیں۔

ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سطح کے متعدد افسران جو شمالی سندھ میں تعینات رہے اور کچے میں آپریشن میں بھی شریک رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بی 7 بکتربند میں موڈیفیکیشن کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں صرف ایک وسطی مورچہ ہے جہاں سے فائرنگ کی جاسکتی ہے جبکہ اس سے قبل بی 6 بکتر بند میں دو دائیں اور دو بائیں اور ایک وسط میں مورچہ تھا جہاں سے دشمن سے مقابلہ کیا جاسکتا تھا۔

’دھ چھکو‘ کے سامنے پولیس بے بس

شکارپور مقابلے میں محفوظ رہنے والے سجاد چانڈیو اس سے قبل بھی کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں شریک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’دھ چھکو‘ گن کے بارے میں سنا تھا، پہلی بار اس کا نشانہ دیکھا۔ ان کی گاڑی کو اسی سے نشانہ بنایا گیا۔

ڈی آئی جی سپیشل برانچ کراچی عرفان بلوچ، ایس ایس پی شکارپور اور ڈی آئی جی لاڑکانہ بھی رہے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بکتربند محفوظ نہیں رہ سکتی اگر 12.5 یا 12.7 ایم ایم ائنٹی ایئر کرافٹ گن سے اس پر فائرنگ کیے جائیں۔ اس کے علاوہ آر 75 راکٹ لانچر سے بھی اس کو نقصان پہنچتا ہے۔ بقول عرفان بلوچ کے بکتربند گاڑیاں کلاشنکوف اور جی تھری سے بچاؤ کرسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ مقامی زبان میں 12.5 اور 12.7 ایم ایم ائنٹی ایئر کرافٹ گن کو دہ چھکو کہا جاتا ہے۔

12.7 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گن کا موجد روس ہے جو 700 سے 800 راؤنڈ فی منٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی رینج 1600 میٹر سے 2000 میٹر تک ہےآ اس کا استعمال روسی فوج کرتی تھی۔

سندھ میں ہیوی اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ میں اسلحہ بنانے کی کوئی فیکٹری نہیں ہے، راکٹ لانچر یا جدید اسلحہ دوسرے صوبوں سے آتا ہے اور کچے میں ڈاکوؤں تک پہنچ جاتا ہے۔

ڈی آئی جی سپیشل برانچ کوئٹہ کیپٹن پرویز چانڈیو بتاتے ہیں کہ اسلحہ افغانستان کے سرحدی علاقے سے ژوب، لورالائی، دکی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی پہنچتا ہے جہاں سے عسکریت پسند اور سندھ کے ڈاکو اسے خریدتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے قبائل ہیں جب موسم بہتر ہوتا ہے تو سردیوں کے بعد اپنے جانوروں کے ساتھ نقل مکانی کرتے ہیں اور ڈیرہ بگٹی کے چراگاہوں تک آتے ہیں، یہ غیر روایتی راستہ اپناتے ہیں جو ساتھ میں اسلحے لے کر آتے ہیں جو یہاں فروخت کیا جاتا ہے۔

ایک اور ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ نان کسٹم گاڑیوں اور سامان کے ساتھ اسلحے کی بھی سمگلنگ ہوتی ہے۔

دہ چھکو تک رسائی

سندھ پولیس کے ایک ڈی آئی جی جو شمالی سندھ میں رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ کے تین اضلاع میں نصف درجن سے زائد اینٹی ایئر کرفٹ گنز یا ’دھ چھکو‘ موجود ہیں، ان کے مطابق دو کے قریب پنوعاقل دو شکارپور اور دو کے قریب کشمور میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں گھومکی میں قبائلی تنازع میں نو افراد کی ہلاکت کے بعد بھی اس گن کے ساتھ ملزمان کی تصاویر سامنے آئی تھیں۔

شکارپور کے ایک سابق ایس ایس پی نے جو اس وقت ڈی آئی جی ہیں بی بی سی کو بتایا کہ انھیں معلوم ہوا کہ بڈانی قبیلے نے 12.7 ایم ایم گن حاصل کی ہے، مخبر سے معلوم کیا گیا کہ کتنی گولیاں ہیں معلوم ہوا کہ 1200 گولیاں ہیں، انھیں اس گن کی رینج کا اندازہ تھا انھوں نے چار بکتر بند گاڑیاں تیار کیں اور گھیراؤ کیا، بکتر بند کو آگے بڑھانے کا حکم دیتے جیسے فائرنگ کا رخ ہوتا دوسری طرف سے آگر بڑھتے اس طرح جب ڈاکوؤں کی گولیاں ختم ہوگئیں تو انہوں نے چھاپہ مارکر یہ گن برآمد کرلی یہ اس قدر بھاری تھی کہ تین چار لوگوں کی مدد سے اتاری گئی۔

پولیس روایتی ہتھیاروں سے لیس

سندھ پولیس کے متعدد افسران کا کہنا ہے کہ آپریشن کے لیے مطلوبہ جدید اسلحہ وقت کی ضرورت ہے ان کے مطابق اس وقت ان کے پاس تھری جی اور کلاشنکوف ہیں جبکہ ڈاکو کے پاس لانگ رینج اسلحہ ہے، کئی بار وہ صرف ہوائی فائرنگ کرکے رعب ڈالتے ہیں بصورت دیگر وہ مقابلہ کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب تسلیم کرتے ہیں کہ کسی جدید اسلحہ کا پرانے اسلحے کے ساتھ مقابلے نہیں کرسکتے، پولیس کو جدید آلات اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے تاکہ تمام واقعات سے ڈیل کرسکیں، بقول ان کے اسلحے کی خریداری کے لیے پولیس نے جب بھی حکومت سندھ کو درخواست کی ہے اس کی تائید کی گئی ہے۔

ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کیپٹن پرویز چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت افغانستان کے ساتھ بارڈر کی فینسنگ کی جارہی ہے جو ساٹھ سے ستر فیصد مکمل ہوچکی ہے جبکہ باقی آنے والے دنوں میں مکمل ہوجائیگی جس کے بعد وہاں ایف سی کی چوکیاں قائم ہوں گی اس کے بعد یہاں اسلحے کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوجائِے گا جتنا اسلحہ ہے وہ آگیا مزید نہیں آئیگا جس سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words