بانسری والے مولانا


محبت سے آگے بھی ایک اور دنیا آباد ہوئی ہے۔ بہت وسیع اور کشادہ پذیر دنیا، جسے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ جس نے بھی اسے دیکھ لیا، وہاں سے آج تک لوٹ نہیں پایا۔

جب حضرت موسی نے عشق سے اصرار کیا کہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں تو عشق کا جواب آیا‌۔

’موسی میں ایک مقدس روشن تجلی ہوں۔ تمہاری خاکی وجود میں میری تاب لانے کی قوت نہیں۔ لوٹ جاؤ۔ مان لو۔ ورنہ جل جاؤگے۔‘

’نہیں مانوں گا۔‘ موسی بضد ہو گئے۔
عشق نے کہا۔

’ایک دیو ہیکل پہاڑ ہے۔ میں اپنی تجلی اس پر ڈال رہاہوں۔ تم اس پہاڑ کے جسم میں میرے منور عکس کی روشنی کو دیکھ سکتے ہو تو دیکھ لو۔‘

موسی کے سامنے تمام منظر صاف تھے۔ طور سینا پر ایک مقدس روشنی کا نزول ہوا۔ اس نے طور سینا کو دیکھا اور اس کی آنکھوں کے سامنے ایک گہرا اندھیرا چھا گیا۔ موسی غش کھاکر گر پڑے اور اس کے بعد انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہا۔

خود سے جب سوال کرتا ہوں کہ عشق کیا ہے تو میری نگاہ، موسی کے طور سینا سے بھی دور کی گم گشتہ خلاؤں سے گزر کر سدرۃ المنتہی سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور میرا ہمزاد مجھے روکنے لگتا ہے۔

یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

تیرہویں صدی میں جب دنیا اقتدار اور شہنشاہی کے بازار میں انسانی لاشوں کا سوداگر بن چکی تھی۔ اس وقت بھی کوئی وہاں تھا جو انسانوں کو انسانوں سے قریب کرنا چاہتا تھا۔ کوئی تھا جو یہ بتانا چاہتا تھا کہ دنیا کے تمام انسانوں کے شجرۂ نسب کی آماجگاہ صرف آدم اور حوا کی ذات ہے۔ اس نے بڑے بڑے سورماؤں کی طرح وحشتوں سے کھیلنے کی تربیت نہیں پائی تھی۔ اس کے پاس فوج اور لاؤ لشکر بھی نہیں تھے۔ لیکن جب وہ آیا تو دنیا نے اسے اپنے عشق کا شہنشاہ تسلیم کیا۔

عشق و محبت کی داستانوں اور کہانیوں میں، ہیر اور رانجھا، لیلی اور مجنوں، شیریں اور فرہاد جیسی کئی مثالوں سے کافی الگ رومی کا عشق، ان کہانیوں اور الف لیلوی داستانوں کی تمام مشاہداتی اور تصوراتی سرحدوں کو پار کرجاتا ہے اور ایک ایسی نورانی کائنات میں اپنا خیمہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو دیدہ و شنیدہ سے ماورا ہے۔

جب رومی کو تمام دینی علوم و معرفت سے آشنائی ہو گئی اور جب وہ درس و تدریس اور فتاوی نویسی کے فرائض انجام دینے لگا تو اس کے والد علامہ بہاؤ الدین کی آنکھیں بند ہو گئیں اور وہ ہمیشہ کے لیے اس کی دنیا سے کوچ کرگئے۔ سید برہان الدین کو ان کے اس ناگہانی موت کی خبر ہوئی تو وہ ترمذ سے قونیہ پہنچے اور رومی کو خط میں قونیہ آمد کی اطلاع دی۔ رومی لارند سے قونیہ آیا۔ سید سے ملاقات ہوئی۔ مصافحہ اور معانقہ ہوا۔ بہت دیر تک دونوں پر بے خودی کی کیفیت طاری رہی۔

پھر سید نے رومی کا امتحان لیا۔ اور کہا کہ ظاہری علوم میں تم کمال کے درجے پر پہنچ چکے ہو۔ اب صرف علوم باطنیہ باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمہارے والد کی امانت ہے اور میں تمہیں یہ دیتا ہوں۔ اس کی بعد نو سال تک وہ سید صاحب کی صحبت میں رہ کر طریقت و سلوک کے منازل طے کرتا رہا۔ اور پوری طرح سے وہ سید کے مریدوں میں شامل ہو گیا لیکن نو سال تصوف و طریقت کی تعلیم دریافت کرلینے کے بعد بھی اس کے علوم باطنیہ پر علوم ظاہریہ کا رنگ غالب رہا۔

اس کے سوز دروں کے سرد الاؤ کو عشق کی چنگاری تو مل چکی تھی۔ مگر رومی اس سے ابھی نا آشنا تھا۔ اس نے بانسری کی سریلی دھنوں کو سن کر آہ و فغاں کی شناخت تو بنالی تھی مگر وہ دھن اس کے دل میں کیا تاثیر بنارہی ہے؟ اسے خود بھی پتا نہیں تھا۔ وہ بھٹکتا رہا۔ جیسے بے آب و گیاہ صحراء میں کوئی عاشق اپنے معشوق کے انتظار میں بھٹکتا ہے۔

صوفیوں اور درویشوں کی عام زندگی جینے والے شمس نے بارگاہ خداوندی میں دعا مانگی۔
’الہی کوئی ایسا شخص مل جاتا جو میری صحبت کا متحمل ہو سکتا‘

شمس کو الہام ہوا۔ روم چلے جاؤ۔ شمس نے اسی وقت اپنا رخت سفر باندھا۔ قونیہ پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ ایک سرائے میں اپنا ٹھکانہ لیا۔

رئیسوں اور شریفوں کی ایک جماعت اسی سرایے کے بلند چبوترے پر تفریح کے لیے آیا کرتی تھی۔ شمس بھی اسی چبوترے پر بیٹھنے لگے۔ رومی تک یہ بات پہنچی تو وہ شمس سے ملنے چلے آئے۔ رومی نے شمس کو دیکھا اور شمس نے رومی کو۔ آنکھیں چار ہوئیں اور ایک مقدس زبان نے کہا یہ وہی شخص ہے جس کا مجھے الہام ہوا ہے۔

شمس نے رومی سے سوال کیا۔

’مجھے حضرت بایزید بسطامی کے بارے میں بتاؤ کہ انہوں نے ساری عمر خربوزہ اس لیے نہیں کھایا کہ پتہ نہیں رسول ﷺ نے اسے کس طرح کھایا ہوگا اور دوسری طرف اپنی نسبت یوں بیان کرتے تھے کہ سبحانی ما اعظم شانی؟ حالاں کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ میں دن بھر میں ستر بار استغفار کیا کرتا ہوں۔ ان میں تطبیق کیسے کروگے؟‘

رومی نے کہا۔

’بایزید بلند مرتبت کے بزرگ ضرور تھے۔ لیکن مقام ولایت میں وہ ایک خاص درجے پر ٹھہر گئے تھے اور اسی درجے کی عظمت کی اثر سے ایسے الفاظ ان کی زبان سے نکل آتے تھے۔ جب کہ رسول ﷺ منازل تقرب میں مسلسل ایک درجے سے دوسرے درجے پر چڑھتے جاتے تھے۔ اس لیے جب پہلا درجہ پست نظر آتا کہ آپ ﷺ استغفار فرمانے لگتے۔

چھ مہینے تک دونوں بزرگ ایک حجرے میں چلہ کش رہے۔ آب و غذا سب متروک رہے۔ کسی کو اندر آنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ رومی نے درس وتدریس کے اشغال تک چھوڑ دیے۔ لوگوں میں سخت برہمی پھیل گئی۔ شمس کو اس برہمی میں فتنہ انگیزی کی بو محسوس ہوئی اور وہ رومی کو بتائے بغیر قونیہ سے دمشق چلے آئے۔

رومی شمس کی اس ہجر کا متحمل نہ ہوسکا اور وہ دیوانہ وار اپنے مرشد کی جستجو میں صحراء صحراء خاک چھاننے لگا۔

کہ ازاں دم کہ تو سفر کردی
از حلاوت جدا شدیم چو موم
در فراق جمال تو مارا
جسم ویراں و جاں ہم چوں موم

رومی کی غزلوں میں عشق تبریزی کا دریا صاف طور پر بہتا دکھائی دیتا ہے۔ رومی نے عشق کو آگ کے دریا میں بہتے دیکھ لیا تھا۔

عشق کی آگ بھڑکی۔ عشق اس کا خدا سے۔ عشق اس کا رسول ﷺ سے۔ عشق اس کا شمس سے۔ عشق اس کا مخلوق سے۔ اور وہ سوختہ ہو گیا۔ وہ دنیا بھول گیا۔

خانقاہ میں ایک مجذوب ذکر الٰہی میں مست ہو کر چکر کاٹنے لگا اور اس پر وجد کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بار بار رومی سے ٹکرا گیا۔ وہ رومی کو ٹھوکریں مارتا اور رومی مسکرانے لگتے۔

ایک مرید کو اس مجذوب کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ اس نے اسے ہٹایا کہ کہیں یہ مجذوب مرشد کو ناراض نہ کردے۔

رومی نے ہٹانے والے شخص کو پکڑلیا اور کہا۔
’شراب عشق تو اس نے پی ہے میاں اور میں دیکھ رہاہوں کہ مستی تم پر چڑھی جا رہی ہے؟‘

کسی گلی سے رومی کا گزر ہوا۔ گلی کے تنگ راستے میں ایک کتا سویا ہوا تھا۔ رومی رک گیا۔ ایک شخص نے یہ دیکھا تو کتے کو مارکر بھگانا چاہا۔ رومی نے کہا۔

’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ سو رہا ہے؟ اسے سونے دو۔ جب یہ اٹھ جائے گا تو میں یہاں سے گزر جاؤں گا۔‘

کتا سویا رہا۔ رومی اس کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ جب تک وہ کتا خود وہاں سے نہیں اٹھ گیا رومی اس وقت تک وہاں سے نہیں گزرا۔

ایک مرتبہ ممبر پر بیٹھ کر وہ قرآن کریم کی تفسیر کر رہا تھا۔ اور ایک معترض نے یہ کہہ کر رومی کو للکارا کہ تم اسی آیت کی تفسیر کرتے ہو جس کا تم نے معانی و مطالب پہلے سے ہی دیکھ لیا ہوتا ہے۔

رومی نے کہا اگر تمہیں شک ہے کہ میں تفسیر دیکھ کر آتا ہوں تو میں تمہیں بھی ابھی یہ حق دیتا ہوں کہ تم کوئی آیت پڑھ دو اور میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں۔

معترض نے کہا کہ والضحی کی تفسیر کردو۔ والضحی کی تلاوت ہوئی۔ اور رومی نے ’واؤ‘ کی تفسیر بیان کرنا شروع کی۔ وقت کا سورج ظہر سے عصر میں ڈھلنے لگا اور ابھی رومی ’واؤ‘ کی تفسیر سے فارغ بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر معترض پر وجد طاری ہو گیا۔ وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر رومی کی قدموں میں گرکر سینہ کوبی کرنے لگا۔

سینکڑوں واقعات میں یہ کچھ واقعے ہیں جو رومی کی عظمت کی نشانی ہے۔ تصوف وسلوک کے اعلی درجے پر ہونے کے ساتھ اس کے علم کی پختگی بھی اتنی زیادہ تھی کہ بڑے بڑے عالموں کو اس کایقین کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا۔ انسانوں کے ساتھ اس کا معاملہ وہی تھا جو خدا کا مخلوق سے اور ایک مرشد کا اپنے مرید سے ہوتا ہے۔ جانوروں سے اس کا رویہ وہی تھا جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے۔

تیرہویں صدی میں ہی ایک بھیڑ تابوت کو اپنے کندھوں پہ اٹھائے ہوئی رو رو کر دھاڑیں مار رہی تھی۔ کسی رہ گزر نے ان سے سوال کر لیا۔

’اس بھیڑ میں تم عیسائیوں اور یہودیوں کا کیا کام ہے؟ یہ تو مسلمانوں کے رومی کا جنازہ ہے؟‘
ایک چیخ خاموش فضاء میں بلند ہوئی اور اس کے ساتھ بہت ساری آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو گئیں۔
’یہ شخص صرف مسلمانوں کا محمد نہیں تھا۔ یہ ہمارا بھی مسیح تھا۔‘
’اور ہمارا بھی موسی تھا۔‘

وہ نوری تھا نہ ناری۔ مگر اس کے خاکی وجود میں مخلوق سے محبت کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ اس نے جب بھی کسی خدائی مخلوق کو درد میں دیکھا تو اس کا عشق خدائی آسمان سے نیچے اتر کر طور سینا کی نادیدہ گھاٹیوں میں بھٹک کر خدا کو پکارنے لگا۔ اس کے سامنے خدا سے محبت کرنے کے کئی ذریعے تھے مگر اس نے خدا سے محبت کرنے کے لیے اس کے مخلوق سے محبت کو ہی اپنا واحد راستہ بنایا۔

اقبال نے رومی کو پڑھ کر کہا رومی میرے روحانی استاذ ہیں۔ بارکس نے رومی کو دیکھا تو اقبال سے شکایت کی۔

’کیا ہواؤں کے بھی مذہب ہوتے ہیں؟ کیا چاند کی کرنیں بھی بدہسٹ ہوتی ہیں؟ نہیں یہ انصاف نہیں۔ ہوائیں سب کے لیے ہوتی ہیں۔ چاند کی آنکھیں پوری دنیا کو محبت کی نظروں سے چومتی ہیں۔ رومی تمہارے بھی ہیں۔ رومی میرے بھی ہیں۔ رومی سب کے ہیں۔‘

موسی نے عشق سے خطاب کیا تو کلیم اللہ بن گیا۔ سدھارتھ نے پوری جوانی عشق کی سراغ رسانی میں صرف کی تو مہاتما بدھ بن گیا۔ رومی نے عشق کے تعاقب میں پوری زندگی ختم کردی تو اسے کیا کہا جائے؟ صرف مولانا یا صرف عاشق؟

وہ شخص صرف مولانا نہیں تھا۔ صرف عاشق بھی نہیں۔ مذہب کے ساحلوں پر جب مچھلیاں کپڑے بدل رہی تھیں تو رومی نے اسی مذہب کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی انسانی اخلاقی وجود کو اپنے اندر کشید کر لیا تھا۔

وہ مولانا اور عاشق کی بھٹی میں تپ کر انسانیت کا کندن بن چکا تھا۔ اس وقت میرے دل میں اس کے کئی چہرے ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ لیکن جب اس کے جنازے کے اٹھنے کا تصور کرتا ہوں تو مسلمانوں کی بھیڑ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی نوحہ کرتے سنتا ہوں اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ وہ عیسی اور موسی کی مقدس شخصیت کو رومی کے اندر دریافت کر رہے ہیں۔ اور ان سے بہت دور ایک شخص کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بانسری ہے۔ وہ بانسری بجا رہا ہے۔

بشنو از نے چوں حکایت می کند
وز جدائی ہا شکایت می کند

خوشگوار ہوائیں چلتی ہیں۔ خوشبوؤں کا ایک کارواں میری بھیگی بھیگی آنکھوں میں اترنے لگتا ہے۔ اور میں مسکراتا ہوں۔

’میرے بانسری والے مولانا۔‘
اور پھر وہ بانسری والا نور کے بادلوں میں کہیں چھپ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS