پاکستانی عورت تھپڑ کھاتے ہوئے ہی اچھی لگتی ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ہم وطنو!

آج یہ وڈیو بنانے کا مقصد ایک اہم مسئلے پہ آپ کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ یقین کیجیے پچھلی کئی راتوں سے میں سو نہیں سکا اور یہ فکر کھائے چلے جا رہی ہے کہ آخر بنے گا کیا؟ کیا ہم اپنی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کیے جانے کی سازش پہ چپ بیٹھے رہیں گے؟

میرا نام بے حس خان ہے۔ دیکھیے، نام سے دھوکا مت کھائیے گا، میں معاشرتی اقدار کی بقا کے لئے قطعی بے حس نہیں۔

آپ لوگوں نے ائر بلیو میں ہونے والے واقعے کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑا دیا لیکن ایک اہم بات کی طرف آپ کی توجہ نہیں گئی، اگر چہ آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ اسی میں معاشرے کی بقا ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہم سب بیویوں والے ہیں اور جو نہیں ہیں، وہ بھی خدا کے فضل سے ہو جائیں گے۔

مجھے اس نوجوان کو اپنی بیوی کو بوسہ دینے پہ حیرانی نہیں ہوئی۔ مادر پدر آزاد نئی نسل کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اس معاشرے میں ان کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اکثریت تو ہم جیسے با حیا، غیرت مند اور صراط مستقیم پہ چلنے والوں کی ہے۔

زیادہ پریشانی یہ ہوئی کہ اس شوہر کو اپنی بیوی پہ پیار آیا اور اتنا شدید آیا کہ جہاز میں بیٹھے بیٹھے ہی بیوی کو چوم لیا۔ حیرت اور پریشانی کی بات ہے نا! یہ کیا بات ہوئی، بیوی پہ بھلا کس کو پیار آتا ہے؟ اور چلیے اگر یہ مان لیں کہ یہ پیار نہیں تھا، جنسی خواہش کی شروعات تھی تب بھی بیوی کو چومنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھئی سیدھے سبھاؤ گھر جاؤ اور اسلامی طریقے سے ازدواجی تعلق قائم کرو۔

دیکھیے نا اس دن سے میری بیوی مجھے عجیب نظروں سے دیکھے جا رہی ہے۔ آتے جاتے ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے منہ پہ کھیلتی رہتی ہے، گویا کچھ جتا رہی ہو۔

مانتا ہوں کہ میں نے اسے کبھی پیار سے بوسہ نہیں دیا، کبھی اسے گلے سے نہیں لگایا، کبھی اس کی تعریف نہیں کی، کبھی اس کے بالوں میں انگلیاں نہیں پھیریں، کبھی اس کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ نہیں چلا لیکن یہ سب کیوں کیا جائے؟ چلن تو یہی ہے نا کہ شوہر سینہ تانے آگے آگے چلتا ہے، اور ہانپتی کانپتی بیوی، بچہ گود میں لادے پیچھے پیچھے!

میں جب بچہ تھا تو ابا کو ہمیشہ اماں پہ چیختے چلاتے سنا۔ کبھی جی چاہتا تو دو ہاتھ بھی جڑ دیتے۔ اماں کسی بات پہ احتجاج نہ کرتیں، کہ اختلاف کی اجازت ہی نہیں تھی سو چپ چاپ اپنا کام کیے چلی جاتیں۔ کبھی کبھار ان کی آنکھوں کے گوشے نم ہو جاتے جسے وہ چپکے سے اپنے دوپٹے سے پونچھ لیتیں۔ پیٹ کی آگ بجھانے اور سر پہ چھت مہیا کرنے والے مالک سے کیا گلہ؟

سارا دن بیگار جوتنے کے بعد اماں کے فرائض میں رات کو شوہر کی پکار کا جواب دینا بھی شامل تھا کہ یہ اس پیکج کا حصہ ہے جس میں فرشتوں کی لعنت سے بچنے کے لئے کوئی عورت کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتی۔ ابا کی محنت کا نتیجہ ہر سال ایک بچے کی ریں ریں کی صورت میں سامنے آتا۔ زندگی کی حقیقت جب کھلی تب یہ بات میرے لئے معمہ بن گئی کہ ذہنی اور جسمانی تشدد کرنے اور سہنے والا کیسے یہ تعلق قائم کر سکتے ہیں؟

گزرتے وقت نے اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیا جب بڑے بھائیوں کی شادی کا موقع آیا اور ان کو وہ ہدایات ملنی شروع ہوئیں جس میں ہماری معاشرتی اقدار کی بقا ہے۔

”بیوی سے لاڈ جتانے کی قطعی ضرورت نہیں، ورنہ سر پہ چڑھ جائے گی“
”پاؤں کی جوتی ہے، سو اسی جگہ رکھو“
”بیوی کی ماننے کی قطعی ضرورت نہیں، دبا کے رکھنا“
”پہلی رات ہی بتا دینا کہ تم پہ حکومت کرنے کا نہ سوچے“

”لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں، ذرا برابر بھی چوں چرا کی تو دو تھپڑ لگا دینا“
”اگر کھونٹے سے باندھے رکھنا ہے تو اہمیت ہر گز نہ دینا“
”بیوی کو بیوی بنا کے رکھنا، سر کا تاج مت بنا لینا“

”اس کے میکے والوں کو جوتے کی نوک پہ رکھنا“
تم شوہر ہو، اس کا فرض ہے تمہاری اطاعت کرنا ”
”گربہ کشن روز اول“

اب ان سب ہدایات میں پیار سے بوسہ دینا، ہاتھ پکڑنا اور گلے ملنا کا تو کہیں ذکر ہی نہیں تھا اور ضرورت بھی نہیں تھی۔ حقوق زوجیت میں یہ بوس و کنار کہاں سے آ گئے، بھلے کسی مولوی سے پوچھ لیں۔ یہ تو مغرب کے چونچلے ہیں جو نئی تہذیب کے گندے انڈے وقت ناوقت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

جب میری شادی ہوئی تب تک میں بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ اماں کے آنسوؤں کو بھلا کر اس نظام پہ ایمان لا چکا تھا، فائدہ اسی میں ہے۔ دیکھیے نا، ہمیں ان عورتوں کا رکھوالا اور ان کا مجازی خدا بنایا گیا ہے، عاشق تو نہیں کہ ہم ان کے بوسے لے لے کر ان کا دماغ خراب کریں۔

شادی کی رات میں نے بھی وہی کیا جو سب کرتے ہیں۔ کچھ گھنٹوں کی بیاہتا کو اس کے فرائض سے آگاہ کیا۔ گھر میں کس کس کو خوش رکھنا ہے؟ کوئی ایسی بات نہ ہو جو دوسروں کے لئے ناقابل برداشت بن جائے؟ پچھلی زندگی کو کیسے بھولنا ہے؟ نئے سانچے میں کیسے ڈھلنا ہے؟ میکے سے کتنا تعلق رکھنا ہے؟ میری اور میری ماں کی ناراضگی کی صورت میں کیا انجام ہو سکتا ہے، تفصیل سے سمجھا دیا۔

میں بولتا رہا، وہ سر جھکائے سنتی رہی۔ سننا ہی تھا کہ اب اس کا مالک میں تھا اور اسے زندگی میری چھت کے نیچے بسر کرنی تھی۔ ماں باپ ہاتھ جھاڑ کر علیحدہ ہو چکے تھے اور اس کی ملکیت میرے نام منتقل ہو چکی تھی۔ خیر کچھ دیر بعد میں نے حقوق زوجیت بھی ادا کر دیے۔ پوچھنے کی ضرورت تو تھی نہیں، اب بھلا یہ کام کوئی پوچھ کے بھی کرتا ہے؟ سب کچھ ہوا لیکن بوس و کنار کی نوبت نہیں آئی۔ دیکھیے فرائض کی ادائیگی میں محبت کے لمس کی ضرورت نہیں ہوا کرتی اور محبت؟ بیوی سے کیسی محبت؟

مجھے یقین ہے میرے ہم وطنو کہ آپ سب کی کہانی بھی مجھ سے ملتی جلتی ہو گی کہ ہم سب کی اٹھان ایک ہی طرز پہ اٹھائی گئی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں ساتھ چلنے والے کو لمحہ بہ لمحہ زہر پلانے میں ایک کمینی سی خوشی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ محبت، پیار، بوس و کنار، افسانوں کی باتیں ہیں اور انہیں کتابوں تک ہی رہنا چاہیے۔

وہ مرد ہی کیا جو نرمی سے بات کرے، اپنی بیوی کو اپنے جیسا انسان سمجھے اور اس کو کانچ کی گڑیا سمجھ کر رکھے۔ عورت کے کرچی کرچی ہونے سے کیا ڈرنا؟ ٹوٹ کے بکھرے گی تو پھر کیا؟ ڈسپوزایبل اشیا کا نصیب یہی ہوا کرتا ہے۔

اب میں آپ کی توجہ اس مرد کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس نے بوسہ لے کر ہماری اقدار میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھیے نا اس کی اس حرکت نے ہر عورت کے دل میں خواہش کی چنگاری سلگا دی ہے کہ اسے اس کا شوہر ایسے ہی چاہے۔ اسے ٹوٹ کر پیار کرے، گلے سے لگائے، نرمی اور محبت سے بوسہ دے اور اس کے دل میں آرزوؤں کی تتلیاں اپنے رنگ بکھیرنے لگیں۔

سوچیے اگر ہم نے یہ بوسہ وغیرہ دینے کا رواج ڈال لیا تو چیخنا چلانا تو مشکل ہو گا، بھاری بھرکم گالیاں بھی نہیں دی جا سکیں گی۔ اس منہ پہ تھپڑ کیسے لگے گا جہاں پچھلی رات ہی بوسہ دیا ہو، اس جسم پہ لات کیسے ماری جائے گی جس کو گلے سے لگایا ہو۔ اس دل کو تکلیف کیسے دی جائے گی جسے چاہا ہو۔

میرے ساتھیو، اس لئے ہمیں بوسہ لینے کی بد تہذیبی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ دیکھیے مجھے بالکل اعتراض نہ ہوتا اگر وہ اپنی بیوی کی ٹھکائی لگاتا یا گالیاں دیتا یا برا بھلا کہتا۔ مجھے ایک مردانگی سے بھرپور شوہر دیکھ کے خوشی ہوتی، بلکہ ہم سب کی بیویوں کو ایک یاد دہانی ہو جاتی کہ شوہر کا کیا مقام ہوتا ہے؟

مجھے امید ہے کہ آپ سب میری رائے سے متفق ہوتے ہوئے میرے پیغام کو عام کریں گے اور ان سب طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیں گے جو عورت کو اڑنا سکھانا چاہتی ہیں۔

اجازت دیجیے!
بوسہ بازی مردہ باد!

بے حس خان،
ستم رسیدہ مسافر، ائر بلیو
سیٹ نمبر پانچ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *