EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بادلوں پر ہوتی محبت اور ہمارا سماج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے پاکستان کی فضاؤں میں ایک واقعہ ہوا یا پھر کہانی بنائی گئی، اس کے بارے میں حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہے، کیونکہ ہم پاکستانی خود ساختہ کہانیاں بنانے میں مشہور ہیں۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ نجی طیارے کی ایک فلائٹ 20 مئی کو کراچی سے اسلام آباد جا رہی تھی۔ ایسے میں ایک شکایت کنندہ مسافر نے ایک جوڑے کو جو اگلی نشست پر براجمان تھا انھیں غیر اخلاقی حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ پیچھے بیٹھے شخص کو یہ حرکت معیوب لگی اور انھوں نے جہاز کے عملے سے اس کی شکایت کردی۔ ایسے میں جہاز کے عملے نے اس جوڑے کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے۔ عملے نے کوئی کارروائی تو نہ کی البتہ انھیں ایک کمبل فراہم کر دیا تاکہ دوسرے مسافر بے چینی محسوس نہ کریں اور یہ جوڑے بھی اپنی ”کارروائی“ جاری رکھے۔ یہ موقف جو اوپر بیان کیا گیا ہے یہ شکایات کنندہ کا ہے۔

اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا سمیت ٹویٹر پر بھونچال آ گیا اور باقاعدہ دو اسکول آف تھاٹ نے جنم لیا، ایک اس کے خلاف تھا اور ایک نے ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ کہا کہ اس میں عمل میں کوئی قباحت نہیں۔ اس واقعے کو اگر حقیقت مان لیا جائے تو یقیناً پاکستانی معاشرے میں یہ ایک معیوب طرز عمل ہے جو بہرحال قابل مذمت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں حیاء اور شرم کا خاص پاس رکھا جاتا ہے البتہ روحانی طور پر اس معاملے میں ہم لوگوں سے زیادہ کوئی کرپٹ نہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال ہمارا ملک فحش موویز دیکھنے والوں میں سرفہرست ہے۔ مگر ہم حیاء اور شرم کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بھی بنتے ہیں۔ بہرحال، یہ بات میرے لئے انتہائی نامناسب ہوگی کہ میں اپنی فیملی کے ہمراہ ہوں اور مجھے یہ نظارے دیکھنے کو ملے جو ہمارے معاشرتی رویوں کے عکاس نہیں تو میں خود برا محسوس کروں گا۔ کیونکہ ہر معاشرے کی ریت، روایت اور اصول ہوتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی عمل ہو تو برا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ اگر یہ عمل کھلے عام ہوا ہے تو یہ قابل مذمت ہے۔

اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ شکایت کنندہ شخص نے فلائٹ کے اختتام پر ایک تحریری شکایت کی۔ مگر دوسری جانب 2 گھنٹے کی فلائٹ میں شکایت کنندہ شخص کو یہ یاد نہیں آیا کہ وہ ویڈیو بنا لیں۔ ویڈیو سوشل میڈیا کے لئے نہیں بلکہ شکایت کے ثبوت کے لئے، ویسے پاکستانیوں کا کیمرا تو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے ایک شخص کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے یہ عمل دیکھا نہیں اور اگر دیکھا بھی تو شکایت نہ دوران فلائٹ کی اور نہ بعد از فلائٹ۔ اچھا تیسری بات یہ بھی ہے کہ جہاز کی سیٹ کے درمیان بہت معمولی سا فاصلہ ہوتا ہے اور سیٹ کافی اونچی ہوتی ہے جس سے آگے والے کا سر بھی نظر نہیں آتا، مگر موصوف کے مطابق تمام کارروائی وہ مسلسل ملاحظہ فرماتے رہیں، ممکن ہے یہ عمل ان صاحب کو دکھانے کے لئے کیا جا رہا ہو۔ یہ تمام باتیں ممکن ہے جس طرح شکایت کنندہ کی درج شکایت۔

جہاز کی بات چھوڑئیے، آپ نے انٹر سٹی بس میں اکثر سفر کیا ہوگا۔ اس بس میں اکثر آپ نے ایسے مناظر دیکھیں ہوں گے کہ جب میاں بیوی یا بہن بھائی اس انداز میں سو رہے ہوتے ہیں کہ کبھی کسی کا سر کسی کی گود میں ہوتا ہے تو کبھی کسی کا سر کسی کے کاندھے پر۔ کیونکہ سفر لمبا ہوتا ہے اور وہ آرام کر رہے ہوتے ہیں اور یہ معاملہ بھی بہت سے لوگوں کو معیوب لگ رہا ہوتا ہے۔ یہ منظر جہاز میں بھی بہت عام ہے کیونکہ بہت سے لوگ تھکان کا شکار ہوتے ہیں اور وہ آرام کر رہے ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگوں کو اس طرح سونا بھی فحاشی معلوم ہوتا ہے اب وہ رشتہ آخر محرم ہی کیوں نہ ہو۔

اس واقعے کے بہت سے پہلو نکل سکتے ہیں۔ اب شکایت کنندہ شخص کے نزدیک ممکن ہے فحاشی کا مطلب اس انداز میں سونا ہو اور اس سونے کے انداز کو وہ فحاشی اور معیوب حرکت سمجھتا ہو۔ بہرحال اگر کھلے عام ایسی حرکت ہوئی ہے تو یہ معاشرتی لحاظ سے قابل مذمت عمل ہے اور اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس معاشرے میں بہت سے اخلاقی اصول ہے مگر اس کے بارے میں کوئی نہیں بولتا۔ اخلاقی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے تو اسی فلائٹ میں ایسے مرد بھی ہوں گے جو مسلسل کسی لڑکی کو گھور رہے ہوں گے، ممکن ہے کوئی مرد خاتون ائر ہوسٹس کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہو، ممکن ہے آس پاس بیٹھا کوئی مرد اس وقت اپنی گفتگو میں ماں بہن کی گالی دے رہا ہو، ممکن ہے کہ اس فلائٹ میں اس جوڑے کو دیکھ کر شکایت کنندہ نے ان کے بارے میں مغلظات بکے ہو اور ان کے محرم رشتے کو حرام کاری سے تشبیہ دی ہو۔ باتیں تو بہت سی ممکن ہے مگر ہماری قوم کا مسئلہ ہے کہ ہم عام اور بنیادی اخلاق اصول کو بھی اپنی مرضی سے منتخب کرتے ہیں اور پھر اس پر ایسی ایسی تاویل دیتے ہیں کہ ہم سے بڑا جیسے کوئی اخلاق پسند ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن یہ بات بالکل حق ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اور وقتی طور پر اخلاقی اصول مرتب کرتے ہیں اور پھر اس پر اڑ جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے