اونلی فینز: فحش تصاویر اور ویڈیوز بیچنے والے بچوں کا استحصال عام ہونے لگا

رینا کراسفورڈ اور نوئل ٹیٹریج - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں ‘اونلی فینز’ نامی ایک ویب سائٹ اپنے کم عمر صارفین کو جنسی نوعیت کی ویڈیوز فروخت کرنے اور ان میں کام کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 18 سال سے کم عمر صارفین نے جھوٹی شناخت سے اس ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنائے اور ایک 14 سالہ لڑکی نے اپنی دادی کا پاسپورٹ استعمال کر کے اپنا جعلی اکاؤنٹ بنایا۔

برطانیہ میں بچوں کے خلاف جرائم کے انسداد کے شعبے کے اعلیٰ ترین پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس ’پلیٹ فارم‘ سے بچوں کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے۔

اونلی فینز کا کہنا ہے کہ اس کا عمروں کی تصدیق کرنے کا نظام مروجہ قوانین اور قواعد سے زیادہ سخت ہے۔

اس ‘پلیٹ فارم’ کے 10 لاکھ سے صارفین ہیں جو اپنی ویڈیو، تصاویر اور پیغامات اس پر لگاتے ہیں جس کے لیے وہ ماہانہ کچھ فیس بھی ادا کرتے ہیں۔

اس ویب سائٹ پر مواد شائع کرنے کے عوض اونلی فینز تمام ادائیگیوں میں 20 فیصد اپنے پاس رکھتا ہے۔

اس ویب سائٹ پر مختلف نوعیت کا مواد موجود ہوتا ہے لیکن یہ ویب سائٹ فحش مواد کے لیے مشہور ہے اور اس کے صارفین کا اٹھارہ سال سے زیادہ کی عمر کا ہونا ضروری ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران جب دنیا بھر میں لاک ڈاؤن چل رہا تھا اور لوگ اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور تھے اس دوران اس ویب سائٹ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کے صارفین کی تعداد میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم کی مقبولیت میں سنہ 2019 کے بعد سے 10 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس ویب سائٹ کو تخلیق کرنے والے چند لوگ کروڑ پتی بن گئے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے کووڈ 19 کی وبا کے دوران یہ آمدن کا ایک متبادل ذریعے بن گئے ہیں۔

لیکن بی بی سی نیوز نے اس تشویش کے بارے میں تحقیق کی کہ اٹھارہ سال سے کم عمر صارف اس پر فحش ویڈیوز فروخت کر رہے ہیں باوجود اس کے کہ بچوں کی نامناسب تصاویر اور ویڈیوز فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔

اپنی تحقیقات کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ ایک 17 سال کی لڑکی نے جس کا تعلق جنوب مشرقی لندن سے تھا اس نے اپنی برہنہ تصاویر فروخت کیں۔ اس کے علاوہ 18 سال سے کم عمر ایک لڑکی نے کمپنی کی شرائط کے خلاف امریکہ کی ریاست نیواڈا سے اپنی برہنہ تصاویر ایک اکاؤنٹ پر ڈالیں۔

ہم نے 26 سال کی عمر کی ایک شناخت استعمال کرتے ہوئے ایک کم عمر صارف کے لیے اکاؤنٹ بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ کمپنی کے عمر کی تصدیق کرنے کے نظام کو کتنی آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔

اونلی فینز کا کہنا ہے اس نے وہ اکاؤنٹ اب بند کر دیا ہے۔ لیکن بی بی سی نیوز نے امریکہ اور برطانیہ میں بچوں کو محفوظ رکھنے کے ماہرین، درجنوں پولیس اہلکاروں، سکولوں اور بچوں کے کونسلرز کی یادداشتوں سے اونلی فینز پر کم عمر بچوں کی سرگرمیوں کے بارے میں ان کے تجربے کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کیں۔

ایک کونسلر نے ایک بچی سے ہونے والی اپنی گفتگو کی یاداشت میں لکھا کہ اس نے صرف 13 برس کی عمر میں ویب سائٹ دیکھنی شروع کی تھی۔

سکولوں نے طلبہ اور طالبات کی نام ظاہر کیے بغی ایسی رپورٹیں دکھائی ہیں جن میں ان بچے بچیوں نے اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ان ہی میں ایک سولہ برس کی لڑکی بھی شامل تھی نے جس نے اپنے ‘کیریئر ایڈوائزر’ کے سامنے بڑے فخر سے انکشاف کیا کہ اس نے کتنا پیسہ بنایا ہے اور اپنی فضول خرچیوں کی تفصیلات انسٹاگرام پر بھی ڈالیں۔

چائلڈ کیئر کونسلروں کے نوٹس کے مطابق کم عمر صارفین میں ایسے صارف بھی شامل تھے جو جنسی زیادتیوں کا نشانہ رہ چکے تھے یا جو ذہنی مسائل کا شکار تھے یا خود کشی کی طرف مائل تھے۔

برطانیہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی طرف سےشکایت موصول ہوئی ہیں کہ ان کی تصاویر کو ان کی مرضی کے بغیر اس سائٹ پر شائع کیا جا رہا ہے اور 17 سال کے ایک بچے نے شکایت کی کے اسے بلیک میل بھی کیا جا رہا ہے۔

ایک امریکی ادارے نے کہا ہے کہ لاپتہ یا گمشدہ بچے بھی اونلی فینز پر نمودار ہو رہے ہیں اور اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں بچوں کے استحصال کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

برطانیہ کی پولیس میں شعبہ تحفظِ اطفال کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ اب اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ اونلی فینز کو بچے استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ کمپنی مناسب اقدامت نہیں اٹھا رہی کہ پیسے بنانے کے اس موقعے سے بچوں کو فائدہ اٹھانے اور یا ان کے استحصال کو روکا جا سکے۔

ایک بیان میں اونلی فینز نے کہا ہے کہ وہ شناخت ظاہر کیے بغیر کی جانے والی شکایتیوں پر جواب نہیں دے سکتی جب تک کہ اکاؤنٹ کی تفصیلات اور ان کی نشاندہی نہ کی جائے۔

کمپنی کا کہنا ہے بچوں کو اس سائٹ تک رسائی کو روکنے کے لیے اقدامات بچوں کو استحصال اور ان کو بیلک میل ہونے سے بچانے کے لیے کیے جاتے ہیں اور اگر ایسی کوئی حرکت ان کے علم میں لائی جائے تو پھر فوری کارروائی کی جاتی ہے اور اس طرح کے اکاؤنٹس کو بند کر دیا جاتا ہے۔

یہ پیروں کی تصاویر سے شروع ہوا

سترہ سالہ لیہ نے جعلی ڈرائیونگ لائسنس استعمال کر کے اپنا اکاؤنٹ بنا لیا اور برہنہ ویڈیوز بیچتی رہی۔ اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ اونلی فینز استعمال کر رہی ہے۔ جنوبی مشرقی لندن کی رہائشی خاتون نے بتایا کہ اس ہفتے لیہ کا بینک اکاؤنٹ بند کر دیا گیا جس میں برہنہ ویڈیو فروخت کرنے کے عوض پانچ ہزار پاونڈز کی ادائیگیاں موصول ہوئی تھیں۔

لیہ کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کسی بھی دوسرے والدین کی طرح یہ سن کر حیران رہ گئیں اور انھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ لوگ اتنا پیسہ کیوں دے رہے ہیں۔

لیہ سکول میں کئی مسائل کی شکار بنتی رہیں اور ان کی تعلیم متاثر ہوئی۔ ان کی برہنہ تصاویر ان کی مرضی کے بغیر ایک مرتبہ سکول میں پھیل گئی تھیں۔ اُنھوں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ اصل میں صرف اپنے پیروں کی تصویر شائع کرنا چاہتی تھیں جن سے وہ سنیپ چیٹ پر پیسہ بنا چکی تھیں۔ لیکن یہ سلسلہ بڑھ کر جسم کی دوسری تصاویر شائع کرنے تک پہنچ گیا۔

اپنے اونلی فینز اکاؤنٹ کو مشتہر کرنے کے لیے وہ ٹوئٹر پیغامات لگاتی تھیں جن میں ان کی ویڈیوز کی جھلکیاں بھی ہوتی تھیں ان پر لوگوں نے تبصرے کرنے شروع کر دیے اور ان سے پوچھا جانے لگا کہ کیا وہ ان سے مل سکتی ہیں۔

لیہ کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کے اس ویب سائٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتیں لیکن وہ سمجھ سکتی ہیں کہ لوگ جو یہ تصاویر دیکھتے ہیں وہ کیوں اتنے پیسہ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ لیہ نے زیادہ تر پیسے اپنے بوائے فرینڈ کے لیے تحفے خریدنے پر خرچے کیے جس میں ایک ہزار سے زیادہ پاؤنڈ کے مہنگے ترین ڈیزائنر کپڑے تھے۔

ایک بیان میں اونلی فینز نے کہا کہ لیہ کا ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنا ایک صرف نظر تھا اور اُن کے جعلی ڈرائیونگ لائسنس سے خطرے کی گھنٹی نہیں بجیں۔ اس کا کہنا تھا کہ لیہ کے اکاؤنٹ کو اس وقت اجازت مل گئی جب وہ شناخت اور عمر کی تصدیق کرنے کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اس کی جگہ ایک اور انتہائی مؤثر نظام متعارف کروا رہے تھے۔

لیہ کی عمر کے بارے میں اس سال جنوری میں ایک نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی طرف سے رپورٹ کی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے اس کے بعد اس اکاؤنٹ پر نظر ثانی کی گئی اور اس کی شناخت کو دوبارہ چیک کیا گیا۔ اس اکاؤنٹ میں کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی جس کے بعد مزید کارروائی نہیں کی گئی۔

لیہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے باقی تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لکھا ہوا ہے کہ ان کی عمر 17 برس ہے۔ کوئی بھی ویب سائٹ اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ تحقیقات کرے لیکن اونلی فیز نے بی بی سی کو بتایا وہ سوشل میڈیا دیکھتی ہے جب کسی اکاؤنٹ کی تصدیق کرنی ہوتی ہے۔

لیہ نے چار ماہ قبل اونلی فینز پر اپنے اکاؤنٹ پر کوئی مواد شائع کرنا بند کر دیا لیکن ان کا اکاؤنٹ چلتا رہا جس پر 50 سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔ وہ آخری مرتبہ اپریل میں اس پر لاگ آن ہوئی تھیں۔

بی بی سی نیوز کے رابطہ کرنے کے بعد اونلی فینز نے ان کا صفحہ بند کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے اکاؤنٹ پر تمام صارفین کےکھاتے بند کر دیے گئے ہیں۔ لیکن ان کی تصاویر پہلے ہی انٹرنیٹ پر پھیل چکی ہیں۔ لیہ کو اب گھر سے نکلتے ہوئے یہ پریشانی ہوتی ہے کہ کہیں ان کو کوئی پہچان نہ لے اور اس ہی وجہ سے اُنھوں نے کالج میں داخلہ لینے کا ارادہ بھی مؤخر کر دیا ہے۔

لیہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ لیہ نے گھر سے نکلنا بند کر دیا ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ انھیں کوئی دیکھے۔

دادی کا پاسپورٹ

بی بی سی نے کو کئی اور کم عمر بچوں کے اس ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کی اطلاعات ملیں۔ ہارٹ فورڈ شائر کی پولیس نے بتایا کہ ایک 14 سالہ لڑکی نے اپنی دادی کا پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹ استعمال کر کے اپنی تصاویر فروخت کرنی شروع کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ رقم اپنی دادی کے اکاؤنٹ سے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی رہیں۔

اونلی فینز کا کہنا ہے یہ جعلی اکاونٹ تھا اور اس کو بنانے میں دوسرے کی مدد میں شامل رہی تھی۔ اس سائٹ کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور اس کے بعد سے اس نے عمر کی تصدیق کرنے کے اپنے نظام کو بہتر بنا لیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

لیکن بی بی سی نیوز نے اس سائٹ کے نام نہاد انتہائی مؤثر نظام کو اپریل میں جانچنے کی کوشش کی۔ جعلی شناخت سے تو اکاونٹ نہیں کھل سکا لیکن ایک 17 سالہ لڑکے کے لیے اس کی 26 سالہ بہن کا پاسپورٹ کام کر گیا۔ اس لڑکی کو اس ویب سائٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔

اس سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کے خواہش مندوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنی شناختی دستاویز کے ساتھ تصویر کھنچوائیں اور ان کو اپنی شناختی دستاویز چہرے کے برابر رکھ کر تصویر کھنچوانا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن عمر کی تصدیق کرنے کا نظام اس کو پکڑنے میں ناکام ہو گیا۔

اکاونٹ کھولنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے بعد اپنے بینک کی تفصیل فراہم کرئے تاکہ اس کو ہونے والی آمدن اس کے اکاونٹ میں ڈالی جا سکے۔

بی بی سی نیوز کو یہ بھی معلوم ہوا کہ صارفین اپنا مواد شائع کرنے کے بعد ادائیگیوں کے لیے متبادل طریقے بھی اختیار کر سکتے جو کمپنی کی پالیسی کے خلاف ہے۔ ان میں سب سے مقبول ذریعہ کیش ایپ ہے جس کے ذریعے آپ اپنے موبائیل سے پیسہ منتقل کر سکتے ہیں۔ ہم نے بہت سے اکاونٹ ایسےدیکھے ہیں جو اس کو استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔

اونلی فینز

Getty Images

ویڈیوز کی دلدل

اونلی فینز کی شرط ہے کہ جو صارفین مشترکہ طور پر کوئی مواد بناتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب یہ دکھائیں کہ وہ 18 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ ان میں سے تمام کو سائٹ پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے۔

بی بی سی نیوز نے یہ دریافت کیا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بہت لوگ بھی غیر اخلاقی ویڈیوز میں نظر آ رہے ہیں اور یہ ویڈیوز ایسے بالغ لوگوں سے چلائی جا رہی ہیں جو کہ اونلی فینز کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

ایرون جب 17 برس کے تھے تو انھوں نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مل کر امریکہ کی ریاست نیواڈا میں ویڈیوز بنانی شروع کیں۔ ان کی دوست جارڈن کے مطابق ایرون کا اپنا اکاؤنٹ نہیں تھا لیکن ان کی گرل فرینڈ کوڈی جو ان سے ایک سال بڑی تھیں انھوں نے ایک برہنہ ویڈیو لگائی جس میں ایرون بھی نظر آئے۔

ایرون نے جلد ہی اپنی آمدن کے بارے میں بڑھکیں مارنی شروع کر دیں۔ جارڈن نے بتایا کہ جو کچھ وہ کر رہے تھے اس پر ایرون کو بہت فخر تھا۔

اس مواد میں ان کے بیڈ روم میں فلمائی گئی جنسی ویڈیو بھی شامل تھی۔ ان کے دوستوں نے بتایا کہ صرف اس ایک ویڈیو سے انھیں جو آمدن ہوئی اس سے ان دونوں کے حصے میں 500 سے زیادہ ڈالر آئے۔

ایک خاتون جو ایرون کو بہت عرصے سے جانتی تھیں اُنھوں نے بتایا کہ وہ اس بات پر بہت خوش تھے کہ صرف کیمرے کے سامنے جنسی فعل کرنے سے وہ اتنے زیادہ پیسے کما رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ایرون بچپن میں بہت سخت حالت سے گزرے تھے اور بچپن میں ایسے ماحول میں رہے تھے جہاں وہ استحصال کا نشانہ بن سکتے تھے۔

اُنھوں نے مزیہ کہا کہ کوڈی نے ایرون کی سولہویں سالگرہ پر اسے بہت سے تحائف دیے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ان کی برہنہ ویڈیو آن لائن پر بیچ کر پیسے کما رہی ہیں۔

جارڈن کا کہنا تھا کہ ایرون نے اونلی فینز پر ویڈیوز لگانے میں کوڈی کی حوصلہ افزائی کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ابھی کم عمر ہیں۔

وہ یہ کہا کرتے تھے ‘ہم ایک ہفتے میں اتنے زیادہ پیسے کما لیتے ہیں یہ آسان ہے ہمیں کبھی کام نہیں کرنا پڑے گا۔’

بی بی سی نیوز کا بتایا گیا کہ اس اکاؤنٹ کے بارے میں اکتوبر 2020 میں امریکہ میں پولیس سے شکایت کی گئی لیکن یہ اکاونٹ اس وقت تک بند نہیں کیا گیا جب اس ماہ ہم نے اونلی فینز سے رابطہ کر کے انھیں اس بارے میں آگاہ کیا۔

اس کے رد عمل میں اونلی فینز نے کہا کہ تمام صارفین کو پیسے واپس کے جائیں گے۔ اونلی فینز کا مزید کہنا تھا کہ وہ پولیس سے بھی تعاون کر رہے ہیں لیکن ان سے اس اکاؤنٹ کے بارے میں پہلے رابطہ نہیں کیا گیا۔

ایرون اب 18 برس کے ہو گئے لیکن ان کا کوڈی سے تعلق ٹوٹ گیا ہے اور وہ اونلی فینز پر اپنا کاونٹ شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

کیریئر ایڈوائزر سے ڈینگیں

ان تحقیقات کے سلسلے میں ہم نے سکولوں، پولیس اور بچوں کی نگہداشت کے ماہرین سے بھی بات کی جنہوں نے ہمیں بتایا کہ انھیں 18 سال سے کم عمر بہت سے بچوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس سائٹ پر ان کے تجربے کے بڑے گھمبیر نتائج نکل سکتے ہیں۔

لندن میں ایک سکول سے معلوم ہوا کہ انھیں اس سائٹ کے بارے میں جب پتہ چلا جب ایک سولہ سالہ بچی نے اپنے کیریئر ایڈوائزر کو بتایا کہ وہ اس سائٹ سے بہت پیسہ کما رہی ہے تو پھر وہ ان کا مشورہ کیوں سنے۔

اس لڑکی نے بعد میں سکول کے سٹاف کے سامنے یہ انکشاف کیا وہ ننگی اور شہوت انگیز تصاویر اس سائٹ پر لگا رہی ہے۔ اس سکول کے بچوں کے تحفظ کو یقنی بنانے کے ذمہ دار اہلکار نے ہمیں ایک 12 سالہ بچی کے بارے میں بھی بتایا جس کا کہنا تھا کہ اُس نے اِس سائٹ کا استعمال کرتے ہوئے کچھ بالغ لوگوں سے رابطہ کیا اور ان سے ملنے کی درخواست کی۔

سکول کے ڈپٹی ہیڈ نے کہا اپنا نام ظاہر نہیں کیا اور بچوں کی شناخت بھی ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ 16 سالہ لڑکی نے انسٹا گرام پر اپنی شاہ خرچیوں کے بارے ڈینگیں ماریں اور یوں اُنھوں نے اپنے مداحوں کی تعداد میں خوب اضافہ کیا۔

چائلڈلائن کونسلروں کو ایسے بہت سے کیسز ملے جن میں 18 سال سے کم بچوں نے اونلی فینز کا تذکرہ کیا ہو۔ انہوں نے اس کی تفصیلات دستاویزات بی بی سی کو بھی دکھائیں۔

اونلی فینز

Getty Images

جو بچے اس سائٹ کا استعمال کر رہے تھے اور جنہوں نے چائلڈلائن سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بعض بچوں نے اپنی ذہنی حالت کے بارے میں شکایت کی جن میں طبیعت میں غصہ پایا جانا، اپنے آپ کو نقصان اور خودکشی کرنے کا رجحان پایا جانا۔

ایک بچی نے اپنے کونسلر کو بتایا کہ وہ اونلی فینز 13 سال کی عمر سے استعمال کر رہی ہے۔

اس لڑکی سے بات چیت کے نوٹس میں درج تھا کہ اُس لڑکی نے کہا کہ ‘میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی کہ میں کس قسم کی تصاویر لگا رہی تھی لیکن میں یہ جانتی ہوں کہ یہ میری عمر کی بچیوں کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں لیکن یہ پیسہ کمانے کا بڑا آسان طریقہ تھا۔’

اس لڑکی نے مزید بتایا کہ کچھ لڑکیوں کے انسٹاگرام پر ہزاروں کی تعداد میں مداح ہیں اور وہ ان جیسا بننا چاہتی تھیں۔

چائلڈلائن کے زیادہ تر کیسز لڑکیوں سے متعلق تھے لیکن کونسلروں نے لڑکوں سے بھی بات کی جن کا کہنا تھا کہ وہ اس سائٹ کے صارف ہیں اور ان ہی لڑکوں میں سے ایک نے کہا کہ اس کی وجہ سے جنس کے بارے میں اس کی رائے ہی بدل گئی ہے۔

ایک اور 16 برس کے لڑکے نے بتایا وہ یہ سوچ کر کے اگر کسی کو معلوم ہو گیا کہ اس نے ننگی تصویریں خریدی ہیں اس قدر پریشان ہوا کہ کہ اس کی نیند اڑ گئی اور اس کی طبعیت خراب ہونے لگی۔

بی بی سی کو یہ تمام معلومات نام اور شناخت ظاہر کیے بغیر فراہم کی گئی تھیں اس لیے اس بارے میں تفصیلات اونلی فینز کو فراہم نہیں کی جا سکیں۔

اونلی فینز کا کہنا تھا کہ وہ اکاؤنٹ کی نشاندہی کے بغیر اس پر کوئی بات نہیں کر سکتی۔

گمشدہ بچے

برطانیہ کے پولیس اہلکار چیف کانسٹیبل سائمن بیلی کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ اونلی فینز کو بچے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

سائمن بیلی کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی برہنہ تصاویر لگانا خلاف قانون ہے لیکن پولیس بچوں کو مجرم قرار دینا نہیں چاہتی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ بچوں کو جو خطرات پیش آ سکتے ہیں اُنھیں اس بارے میں زیادہ تشویش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی مناسب اقدامات نہیں اٹھا رہی تاکہ بچے اس کہ ذریعے پیسے بنائیں یا بچوں کا اس طرح سے استحصال ہو یا وہ کسی برائی میں پڑیں۔

بی بی سی نیوز نے پولیس حکام سے بچوں کے اس ویب سائٹ پر نمودار ہونے سے متعلق شکایت موصول ہونے کے بارے میں دریافت کیا۔

نیو ساؤتھ ویلز میں ایک 17 سالہ لڑکی نے پولیس سے شکایت کی کہ اسے اونلی فینز پر یہ کہہ کر بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ اگر اس نے اس ویب سائٹ پر اپنی مزید ننگی تصاویر نہیں لگائیں تو پہلے لگائی گئی تصاویر اس کے خاندان والوں کو بھیج دی جائیں گی۔

تین بچوں نے پولیس سے یہ شکایت کی کہ ان کی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر ویب سائٹ پر لگائی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ اس کا چہرہ کسی اور کے جسم پر لگا کر تصاویر ویب سائٹ پر لگائی گئی ہیں۔

اونلی فینز کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی شکایت کے بارے اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتے جب تک انھیں اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم نہ کی جائیں۔

عالمی سطح پر بچوں کے جنسی استحصال کے انسداد کے ادارے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپولائٹڈ چلڈرن کے مطابق زیادہ تر گمشدہ بچوں کا تعلق اونلی فینز سے سامنے آ رہا ہے۔

ادارے کے نائب صدر سٹکا شیہاں کا کہنا ہے سنہ 2019 میں ایک درجن گمشدہ بچوں کا تعلق اونلی فینز کے مواد سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایسے بچوں کی تعداد تین گنا ہو گئی۔

ادارے کے مطابق کیونکہ اونلی فینز پر جاری ہونے والے مواد میں زیادہ تر بچے دکھائے جاتے ہیں اسی لیے اس کو بچوں سے جنسی زیادتیوں اور ان کی سمگلنگ کے شواہد مل رہے ہیں۔

اس سال جنوری میں امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ایک جوڑے کو جن کی عمریں 20 سال سے زیادہ تھیں انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا جب اُنھوں نے ایک 16 برس کی لڑکی کی تصویر اونلی فینز پر فروخت کی۔

خطروں کا یہ مہلک امتزاج ہے

اونلی فینز کے بارے میں کہانیاں ذرائع ابلاغ کی حصہ بن رہی ہیں۔ مصالحہ دار خبریں شائع کرنے والے رسالے اس بات میں بہت دلچسپی لے رہے کہ لوگ اونلی فینز کے ذریعے کتنا مال بنا رہے ہیں اور وہ اس بات میں بھی دلچسپی لے رہے کہ نرسیں اور ٹیچرز کیوں بڑی تعداد میں اونلی فینز کا حصہ بن رہے ہیں۔

سنجیدہ اخبارات اس پلیٹ فارم کے بزنس کرنے کے انداز پر حیران ہیں اور اس کے ڈیجیٹل صنعت پر پڑنے والے اثرات پر تجزیے اور تبصرے شائع کر رہے ہیں

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں اس کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ کامیاب سوشل میڈیا پلیٹ فارم قرار دیا۔ اخبار نے خبر دی کہ اونلی فینز کے محصولات میں 553 فیصد کا اضافہ صرف ایک سال میں ہوا اور صارفین نے اس پر ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر خرچ کیے۔

مردوں کے میگزین جے کیو نے کہا اونلی فینز نے انٹرنیٹ کے کلچر کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

بچوں کے خلاف جرائم کے عالمی ادارے کے ایک اہلکار اینڈی بروز کا کہنا تھا کہ اس ویب سائٹ کی وجہ سے دوسرے پر اثر انداز ہونے والے موجودہ دور کے کلچر میں سوشل میڈیا پر نوجوان کا جنسی رویہ کیا ہونا چاہیے بہت ابہام پیدا ہو گیا ہے اور اس سے خطرات کے مہلک امتزاج نے جنم لیا ہے۔

برطانیہ کی حکومت نے دو سال قبل ایک تجویز پیش کی تھی کہ آن لائن پر موجود مواد کی وجہ سے جو خطرات پیش آ رہے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے جو کمپنی بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں اٹھاتیں ان پر ان کے منافع کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے۔

بی بی سی کی تحقیقات پر حکومت نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اونلی فینز پر شدید تنقید کی۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ یہ ویب سائٹ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جو کہ کسی طور قابل قبول نہیں۔

حکومت کا کہنا تھا کہ نئی قانون سازی میں یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp