کارنر والا پلاٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتاب مصنف کا تجربہ ہی نہیں، حافظہ بھی ہوتی ہے۔ ساری عمر کا نچوڑ جو کاغذ پر منتقل ہوتا ہے۔ یہ لفظ کی برکت سے ممکن ہوتا ہے، لفظ مصنف کے قلم سے پیدا ہوتا ہے تو ان دیکھی دنیائیں دکھا دیتا ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ سوچ، خیال، خواب اور گمان کا حسن صرف حرف کی طاقت پر منحصر نہیں، اس میں طباعت کا کرشمہ بھی شامل ہوتا ہے۔ کتاب میں کیا لکھا گیا ہے، یہ اہم ہے لیکن کیسے لکھا ہے، کیسے چھپا ہے، کیسے دکھتا ہے، یہ کہانی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

اس دور میں کتاب چھاپنے کے کاروبار سے منسلک ہونا ایسے ہے جیسے کوئی اپنی جمع جتھا کو خود نذر آتش کرنے کی جانب مائل ہو۔ اب وقت بدل گیا ہے، یہ کتاب کا نہیں اقتباس کا دور ہے، چھوٹے چھوٹے فقروں پر داد سمیٹنے کا زمانہ ہے۔ اب علم کیپسول میں بکتا ہے۔

ہم نے اپنے بچپن میں ایسی کتابیں بھی پڑھیں جن میں علم کا خزانہ موجود تھا مگر طباعت ایسی تھی کہ صفحہ پلٹنے سے کتاب صفحہ صفحہ ہو جاتی تھی، دھندلے سے کاغذ پر معدوم سی لکھائی میں دنیا کے بہترین ناول پڑھے۔ اس زمانے میں خواہش ہوتی تھی کہ اس کتاب کی طباعت بہتر ہوتی تو انہی لفظوں کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب کتاب آفسٹ پیپر پر چھپنے لگی، کاغذ کا معیار بہتر ہو، ٹائٹل رنگین ہو گئے، جلد دلکش و توانا ہو گئی، تقسیم کے نیٹ ورک دستیاب ہو گئے، آن لائن خرید و فروخت عام ہو گئی۔ ہم نے ایسی ایسی دلکش کتابیں چھپی دیکھیں کہ دل طباعت پر عاشق ہو گیا۔ البتہ تحریر اشاعت کے حسن کا ساتھ نہیں دے سکی۔ کئی بار خیال آیا کہ یہ وہ کتابیں ہیں کہ جن کو معدوم لکھائی اور متروک صفحات پر چھپنا چاہیے تھا، صفحہ صفحہ ہو جانا چاہیے تھا۔

کتاب صرف مصنف کا کارنامہ نہیں اور کتاب صرف اشاعت کا معجزہ نہیں۔ ہر دو کی کاوشوں سے وہ شاہکار تخلیق ہوتا ہے، جو یاد رہتا ہے، جو حرف حرف بن کر رگوں میں اترتا ہے۔

کسی بھی پاکستانی مصنف سے پوچھ لیں، رائے یہی ہو گی کہ کتاب چھپوانا بہت دشوار عمل ہے، ساری عمر کا سرمایہ کاغذ پر منتقل کر کے طباعتی اداروں میں در، در ہونا پڑتا ہے، آمدنی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اس عاشقی میں عزت سادات بھی داؤ پر لگ جاتی ہے، ایک ایڈیشن ہی کئی برس تک ختم نہیں ہوتا، کتاب تقسیم ہی نہیں ہو پاتی، کتاب، کتب فروشوں کی شیلفوں کی گرد میں دفن ہو جاتی ہے۔ اس گرد میں صرف حرف ہی دفن نہیں ہوتے، مصنف خود بھی زندہ نہیں رہ پاتا، اس کے تمام خیالات، نظریات، احساسات، خواب، توقعات سب مٹی ہو جاتے ہیں

کسی بھی اشاعتی ادارے کا نقطہ نظر دیکھیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ کتاب چھاپنا اس سے بھی دشوار عمل ہے۔ گو کہ طباعت کے وہ ڈھنگ ضرور دستیاب ہیں کہ جن سے اشاعت میں حسن پیدا کیا جا سکتا ہے مگر اب حرف کو پرکھنے والی آنکھ موجود نہیں، اب علم کے متلاشی نہیں رہے، اب کتاب کی اشاعت کے منتظر قاری نہیں ملتے، اب کتاب علم کا خزینہ نہیں رہی بلکہ ایک محتاط گفٹ بن چکی ہے، اب خیال چننے والے کھو چکے ہیں، اب پردوں کے ہم رنگ کتابیں خریدنے والے در آئے ہیں، اس پیشے میں نہ منافع ہے، نہ یہ آمدنی کا ذریعہ ہے ؛ یہ بس ایک شوق ہے، شوق بھی ایسا کہ جس کا مول بھرنے والے مفقود ہو گئے ہیں، ۔ تاریخ کی کتاب کی جگہ گوگل نے لے لی ہے، ناول، ناولٹ بن گئے ہیں، شاعری کچھ بھی اوٹ پٹانگ لکھنے کا نام ہو گیا ہے، اب کتاب چھپتی تو ہے مگر خریدار نہیں ہیں۔ سوچیے یہ کیسا زوال ہے کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں کسی بھی کتاب کی صرف ایک ہزار اشاعت مصنف کی کامیابی کا نقطہ عروج ہے۔

ہر دو باتیں درست ہیں کہ نہ اب لکھنے والوں کا وہ مزاج ہے، نہ اشاعت کا وہ معیار لیکن ہر دور میں روشنی کا وجود ہوتا ہے، کرن اپنی ضو کا کرشمہ دکھاتی ہے۔ یہی معجزہ اس دور میں ”بک کارنر“ کا ہے۔ جہلم کے عین وسط میں یہ اشاعتی ادارہ تمام تر قباحتوں سے آزاد ہے، یہاں حرف کی حرمت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، مصنف کی دل داری بھی کی جاتی ہے اور اشاعت کا حسن بھی جلوہ افروز ہوتا ہے۔ ان تینوں عوامل کا امتزاج ہی وہ شاہکار تخلیق کرتا ہے کہ لفظ روشن ہو جاتے ہیں، مصنف کے حرف کو باریابی ملتی ہے اور قاری تزئین اشاعت پر فخر کرتا ہے۔

جہلم میں کتابوں کے اس شو روم میں نہ دھندلی لکھائی کی گنجائش ہے نہ کم تر خیال کی، نہ ابتر اسلوب کی پرداخت ہوتی ہے، نہ ارزانی پر اصرار ہوتا ہے۔ ”بک کارنر جہلم“ کتاب چھاپتا ہے اور پورے تزک و احتشام سے چھاپتا ہے، مصنف کی تکریم کرتا ہے۔ یہاں کتاب شائع نہیں ہوتی، اس سے محبت کی جاتی ہے، اس کے ناز اٹھائے جاتے ہیں۔

بک کارنر کے روح رواں شاہد حمید صاحب کا چند ماہ پہلے انتقال ہو گیا لیکن ان کی کتاب سے محبت ”بک کارنر“ کے ہر شیلف میں دھری ہے۔ گمان یہ ہے کہ اگر کبھی اشاعتی اداروں کی کوئی کالونی بنے۔ اس میں حسب نسب کے حساب سے پلاٹوں کی تقسیم ہو تو مجھے یقین ہے کہ اس وسطی شاہراہ پر کارنر والا پلاٹ ”بک کارنر“ کو تفویض ہو گا۔ جس کے باہر ”حمید شاہد“ کے نام کی تختی ہو گی اور اس گھر کے مکین ”امر شاہد“ اور ”گگن شاہد“ اس کاشانہ علم میں کتابوں کے لاڈ اٹھا رہے ہوں گے، اپنے مرحوم والد کی یاد منا رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 221 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *