مریم یا شہباز؟ تاریخ کے آئینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین نیشنل کانگریس دنیا کی سب سے پرانی فعال سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔ 1962 کی چین بھارت جنگ کے بعد انڈیا کا مقبول ترین لیڈر، تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیراعظم، جواہر لال نہرو مقبولیت کھو چکا تھا۔ 1964 میں اس کی اچانک موت کے بعد اندرونی اختلافات کی وجہ سے پارٹی مزید کمزور ہو گئی۔ کانگریس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ کیرالہ کانگریس، اوڑیسہ کانگریس، بنگلہ کانگریس اور کئی مختلف ناموں سے اس کے حصے بخرے ہونا شروع ہو گئے۔ کانگرس کے لیڈر، کنگ میکر، مدراس کے چیف منسٹر کماراسوامی کامراج نے مرار جی ڈیسائی کے مقابلے میں لال بہادر شاستری کو وزیراعظم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اسی ’کنگ میکر‘ نے شاستری کی اچانک موت کے بعد ایک بار پھر مرارجی ڈیسائی کے مقابلے میں اندراگاندھی کو وزیراعظم بننے میں سپورٹ کیا۔ اس کا اور کانگرس کے دوسرے سرکردہ رہنماؤں کا خیال تھا کہ اندرا گاندھی ایک کمزور عورت ہے، اس کے ساتھ ہیر پھیر کرنا آسان ہوگا لیکن اندرا نے انہیں ناکوں چنے چبوا دیے۔ بعد میں وہ سب اس کے خلاف ہو گئے۔ آہستہ آہستہ وہ اتنی مضبوط ہوتی گئی کہ کانگریس نام کی باقی تمام پارٹیاں ختم ہو گئیں اور صرف کانگریس (آئی) زندہ بچی۔ سوامی کامراج اور مرار جی ڈیسائی کی کانگریس (او) 1977 میں جنتا پارٹی میں شامل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گئی۔

1984 میں نیشنل الیکشن کمیشن نے کانگریس (آئی) کو ہی اصلی انڈین نیشنل کانگریس مان لیا اور 1996 میں اس کے نام سے (آئی) کو بھی ہٹا دیا گیا۔

بنگلہ دیش بننے کے فوراً بعد ہونے والے 1973 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ ایک سال بعد ہی حکومت کو کرپشن، سیلاب، غربت اور بے روزگاری جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ مجیب پر غیر آئینی اقدامات کے الزامات بھی تھے۔

سیاسی مخالفت کا جمہوری طریقے سے مقابلہ کرنے کی بجائے اس نے جنوری 1975 میں ون پارٹی سوشلسٹ حکمرانی کا اعلان کر دیا۔ مخالفت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک کی بنیاد رکھنے کے چار سال بعد ہی وہ اپنے پورے خاندان سمیت ایک فوجی بغاوت میں مارا گیا۔ اس کی صرف دو بیٹیاں بیرون ملک ہونے کی وجہ سے زندہ بچیں۔

1975 کے بعد مجیب کی عوامی لیگ مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ 1979 کے الیکشن میں یہ پارٹی بری طرح پٹ گئی۔ دو سال بعد شیخ حسینہ واجد نے ملک واپس آ کر پارٹی کی سربراہی سنبھال لی۔ آہستہ آہستہ مختلف گروپ ختم ہو گئے یا پھر اس کے ساتھ مل گئے۔ 1991 کے الیکشن کے بعد وہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی تھی۔ جنوری 2009 سے شیخ حسینہ ملک کی سب سے طاقتور وزیراعظم ہیں۔ ان کو اس وقت دنیا کی طاقتور ترین خاتون بھی کہا جاتا ہے۔

سری لنکا فریڈم پارٹی ملک کی سب سے مضبوط اور پرانی سیاسی پارٹٰی ہے اس کی بنیاد چندریکا کماراتنگا کے والد مسٹر بندرا نائیکے نے 1951 میں رکھی تھی۔ آٹھ سال بعد بندرانائکے کو ایک انتہا پسند بدھ بھکشو نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس کی بیوہ سری ماؤ بندرا نائیکے نے پارٹی سنبھال لی اور ایک طاقتور حکمران کے طور پر سامنے آئی۔ فوجی بغاوت اور مارکسسٹ باغیوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ سری ماؤ کو 1977 میں کرپشن اور معاشی بدحالی کی وجہ سے حکومت کھونی پڑی۔

مخالف صدر جے وردھنے نے اس کے شہری حقوق چھین کر پارلیمنٹ سے باہر پھینک دیا۔ سترہ سالہ مشکلات کے دور کا آغاز ہوا۔ اندرونی اختلافات اور توڑ پھوڑ حتٰی کہ ماں بیٹی ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑی ہوئیں۔ بھائی بھی مخالف دھڑے میں تھا۔ کامیابی بانی کی بیٹی چندریکا کماراتنگا کے ہاتھ آئی۔ 1994 میں وہ ملک کی پہلی صدر منتخب ہوئیں اور گیارہ سال حکمران رہیں۔ اس دوران ان پر تامل ٹائیگرز نے حملہ کیا جس سے ان کی دائیں آنکھ ضائع ہو گئی۔ تاہم انہوں نے دہشت گردی کے خلاف بہادری سے جنگ جاری رکھی۔

اب وہ ملک کی ایک طاقتور اپوزیشن لیڈر ہیں اور پارٹی اس چھہتر سالہ خاتون کی کمان میں متحد ہے۔

ہماری محترمہ بے نظیر بھٹو برصغیر کی ایک اور کامیاب سیاستدان ہیں جن کو تقریباً ویسی ہی لیکن ان تینوں سے زیادہ بڑی مشکلات اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ محترمہ کو پارٹی میں مخالفین کا سامنا کرنا پڑا اور خاندان میں بھی۔ بھائی بھی مخالف تھا اور سابق وزیراعلیٰ چچا ممتاز بھٹو بھی۔ ڈی فیکٹو سربراہ غلام مصطفے ٰ جتوئی بھی ان کی جڑیں کاٹ رہا تھا۔ اپنا منتخب کردہ صدر لغاری بھی راولپنڈی سے ہدایات لیتا رہا تھا۔

ان سب خواتین کی سیاست میں بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ ان کے والد ملک کے مقبول لیڈر ہونے کے باوجود اپنے آمرانہ رویوں اور سیاسی غلطیوں کی وجہ سے غیر مقبول ہوچکے تھے۔ سب کو مذہبی انتہاپسندوں کی مخالفت کا سامنا تھا لیکن ان سب خواتین نے بائیں بازو کی سیاست کی اور دیگر ملکی سیاسی پارٹیوں کے برعکس کامیاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ مہم چلائی۔

انہوں نے اپنے والدین کی غلطیوں سے سیکھا۔ اور اس وقت کے عالمی حالات کے مطابق نئے نعرے دیے۔

پاکستان میں ان ممالک کی نسبت مقتدرہ کی گرفت زیادہ مضبوط رہی ہے۔ چار آمر ملک کی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ تک حکمران رہے ہیں۔ سولین حکمرانوں میں سے کسی کو بھی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ ان کی حکومتوں میں مذہبی مخالفین ہمیشہ ’بی ٹیم‘ بن کر مورچہ زن رہے ہیں۔ کسی کو ایک پل آزادانہ حکومت نصیب نہیں ہوئی۔ حکومت بنانے کا کام کبھی بھی سیاست دانوں کو نہیں دیا گیا۔ ہمیشہ مشروط حکومتیں ملی ہیں۔ سیاست دان، میڈیا، عدلیہ اور سول انتظامیہ کبھی بھی آزادانہ کام نہیں کر سکے۔ کراچی میں آئی جی کا اغوا ساری کہانی بیان کر گیا ہے۔

2023 کے الیکشن کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ ہر فریق اپنے گھوڑے تیار کر رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف منہ اٹھا کر دیکھا جا رہا ہے۔

کیا اب پھر وہی سیاست دہرائی جائے گی؟

شہباز شریف پرانے دور کے بوڑھے سیاستدان ہیں۔ وہ دور جب حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے کے اختیارات سو فیصد اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں تھے۔ لیکن اب وقت تبدیل ہو چکا ہے۔ پرنٹ اور روایتی الیکٹرانک میڈیا کو تو قابو کیا جاسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا بے مہار ہے اس کو لگام دی ہی نہیں جا سکتی۔

عوام الناس کے پاس یہ بے لگام گھوڑا موجود ہے۔ وہ سرعام ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے روایتی میڈیا، سول سوسائٹی، سیاست دان، عدلیہ اور وکلا بھی مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ آج ٹویٹر کا دور ہے۔ بہت سے اختیارات مقتدرہ کے ہاتھ سے جا چکے ہیں۔ ہر ایک واقعہ کے بعد اختیارات کی کچھ اور ریت ان کی مٹھی سے پھسل جاتی ہے۔

اس وقت مریم نواز اور پی ڈی ایم مقتدرہ مخالف محاذ کی قیادت کر رہے ہیں۔ زرداری اور شہباز شریف ماضی کی طرح انہی فرشتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جنہوں نے عمران خاں کے ہاتھ میں ریاست مدینہ کی تسبیح پکڑائی ہے۔ مریم پارٹی کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ چلا کر مقبول ترین نعرہ بلند کر رہی ہیں اور شہباز شریف ماضی میں جی رہے ہیں۔

مستقبل کس کا ہوگا؟ وقت فیصلہ کرے گا۔ لیکن یہ یاد رہے کہ برصغیر کی ستر سالہ تاریخ مریم کے ساتھ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *