بیانا گولوڈریگا: جوش خطابت اور اعتراف حقیقت
مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جو کہ (پنجاب سے سندھ تک ) پہنچے ہوئے پیر اور ایک معروف مزار کے گدی نشیں بھی ہیں حالیہ دنوں میں امریکا میں سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا سے ایک شاندار ”اسرائیل مخالف ٹاکرا“ کر کے لوٹے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے جھولیاں بھر بھر تعریفیں سمیٹ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح سے جیسے کہ وہ اپنے مریدوں سے خراج وصول کرتے ہیں۔ اس توصیفی ڈھیر میں مٹھی بھر کلمات ہماری طرف سے بھی قبول ہوں۔
شاہ صاحب سے اپنی گفتگو کے دوران سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا نے اگرچہ بظاہر شاہ صاحب پر بلکہ پوری دنیا پر ہی یہود مخالفت کا الزام لگایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ، ”کیا اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے حقوق کے بارے میں بات کرنے کی بجائے یہود مخالف بیانیے کو فروغ دینا ضروری ہے، جو اب دنیا بھر میں بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، آپ کو اس کی مذمت نہیں کرنی چاہیے؟“
ہم سمجھتے ہیں کہ جس بیانیے کو بی بی بیانا یہود مخالف فرما رہیں تھیں وہ حقیقت میں صیہونیت مخالف بیانیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سی این این کی اینکر نے جوش خطابت میں اسی بات کا اعتراف کیا جو کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم سمیت ایک زمانہ کہہ رہا ہے اور جس کے مظاہرے دنیا بھر میں اور امریکا، یورپ اور جرمنی میں بھی نظر آرہے کہ وہاں یہودی شہریوں، عبادت گاہوں اور یہاں تک کہ راہبوں کے گھر میں گھس کر ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں چاقوؤں سے لے کر آتشیں اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات مخالفین یہود اور صیہونیت مخالفت کو اسی طرح سے گڈمڈ کر دیتے ہیں جیسا کہ بعض لوگ دہشتگردی اور مسلمانوں اور اسلام کو گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ اور اس کے ذمہ دار بہرحال و بہر طور میڈیا کو ہی ٹھہرایا سکتا ہے۔
اگر آپ محض اخبارات کی سرخیاں نہ پڑھتے ہوئے دنیا میں ہونے والی ہلچل پر تھوڑی سی گہری نظر رکھتے ہیں تو آپ بخوبی محسوس کر سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں کہ اسلام کی مخالفت اور مسلمانوں سے مخاصمت میں اضافہ ہوا ہے وہیں اسلام کی مقبولیت بھی بڑھی ہے۔ جب کہ دنیا میں صیہونیت مخالف جذبات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مغربی میڈیا اسے صیہونیت مخالف کے بجائے یہود مخالف قرار دے رہا ہے۔ یہ وہی رویہ جو کہ مسلمانوں اور مسلم میڈیا نے اپنایا ہوا ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کی مخالفت کو اسلام کی مخالفت قرار دے ڈالتے ہیں۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ نیٹ پر تھوڑا سا وقت صرف اور سرف کر کے آپ کو پتہ چل سکتا ہے کہ، فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں صیہونیت مخالفت جذبات نہ صرف ایسٹر کے تہوار کی صورت میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں بلکہ ان میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوتا جا رہا لیکن امریکی/یورپی/مغربی میڈیا اسے بالکل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی تقلید میں یہود مخالف گردانتا ہے
اس کی ایک واضح مثال فرانس میں اس وقت دیکھنے کو ملی جب دو ڈھائی سال قبل پیرس میں زرد جیکٹ پہن کر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ایک گروپ نے ان کے قریب سے گزرنے والے فرانس کے ایک یہودی فلسفی الین فن کیل کروٹ سے بدکلامی کی جس کے نتیجے میں (اسرائیل اور فرانس؟) میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے فوری طور پر اس واقعے کی مذمت کی۔ تاہم فن کیل کروٹ کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی ان پر یہودی ہونے کے حوالے سے کوئی جملہ نہیں کسا بلکہ بدکلامی کرنے والا شخص ایک مسلمان انتہا پسند تھا۔ یہودی فلسفی الین فن کیل کروٹ کا موقف تھا کہ، ”وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نسل پرست ہیں کیونکہ ہم اسرائیل کے بارے میں حساس ہیں اور کچھ لوگ ہمیں مجرم سمجھتے ہیں اور قتل عام کرنے والے بھی۔ فن کیل کروٹ کے مطابق ہم اس قسم کی نفرت سے نمٹنے کی اہلیت کم ہی رکھتے ہیں کیونکہ یہ اچھے شعور سے بھرپور ہے اور آج کی یہود دشمنی نسل پرستی کے خلاف ہے۔“
البتہ فرانس کے ہی ایک تاریخ دان ونسینٹ ڈوکلرٹ نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد اس تصور سے اختلاف کرتے ہوئے کہا، ”یہ اہم ہے کہ ایسی بات کرنے سے روکا جائے یا نہیں، البتہ یہ معاملہ یہود مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ نہیں کہا گیا کہ یہودی غلیظ ہوتے ہیں۔ مزید براں یہود مخالف کلمات کہنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کو غلیظ کہنا قانون کے خلاف ہے۔ تاہم“ صیہونیت ”کو غلیظ کہنا خلاف قانون نہیں ہے۔ لہذا اس بات کو مکمل طور پر واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ یہود مخالفت کا ایک غیر معمولی کیس ہے۔“
اسی طرح سے 2019 عیسوی میں پولینڈ کے وزیراعظم میٹئس موراویکی نے اسرائیلی قائم مقام وزیرخارجہ کاٹز کی طرف سے ”پولینڈ مخالف“ بیان دینے پر اپنے اسرائیلی دورے کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ کہ وزیر موصوف نے فرمایا تھا کہ، ”پولینڈ کے لوگوں کو اپنی ماں کا دودھ پلانے کے ساتھ یہود مخالفت بھی سکھائی جاتی ہے۔“ پولینڈ کے وزیر اعظم میٹئس موراویکی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قائم مقام وزیر خارجہ کاٹز کی طرف سے دیا گیا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، نہ صرف سفارتی زبان کے حوالے سے بلکہ میرے لئے یہ عوامی سطح پر بھی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔
کیوں کہ یہ بیان بہرحال پولینڈ مخالف بھی تھا اور پولش مخالف بھی۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق ’وائز گریڈ گروپ‘ سے موسوم چار یورپی ممالک جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ اور سلواکیا کے وزرائے اعظم کو اسرائیل کا دورہ کرنے والے تھے جہاں انہیں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ایک دو روزہ اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قبل ازیں جمعرات کے روز امریکہ اور پولینڈ کے زیر اہتمام مشرق وسطیٰ سے متعلق ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ پولش لوگوں نے نازیوں کا ساتھ دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ جرمنی کے زیر تسلط رہنے کے دوران پولینڈ نے یہودیوں کے قتل عام میں عمداً حصہ لیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے اگلے روز پولینڈ کی حکومت نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہے۔
اس کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ دنیا بھر میں موجود یہودیوں کے لئے یہود مخالف رویہ مرکزی مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے اور اب یہ نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودی مملکت کی تذلیل کی کوششیں یہودیوں کے لئے ان کے آبائی وطن کے حوالے سے حق خودارادیت کی نفی کرتی ہیں۔ نیتن یاہو کہتے ہیں کہ صیہونیت کی مخالفت یہود مخالفت ہی کی نئی شکل ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ مخالفت کس طرف سے آ رہی ہے۔ چاہے یہ مشرق کی طرف سے ہو یا پھر مغربی دنیا سے۔
اسرائیلیوں کا ایک طبقہ کتنا نسل پرست ہے اس کی ایک مثال اسرائیلی عرب اور مسلمان نیوز اینکر لوسی حریش اور یہودی اداکار تساہی حالیوی کی شادی پر اسرائیلی سیاستدانوں کی جانب سے شدید مخالفت سے ظاہر ہوتی ہے جبکہ اسرائیلی وزیر داخلہ نے اس شادی کو یہودی نسل کی حفاظت کے لیے خطرہ تک قرار دے دیا۔ البتہ زیونسٹ یونین کے رکن شیلی نے نو بیاہتا جوڑے کو مبارک باد دی اور مخالفین کا موازنہ ہیری پوٹر کے ڈیتھ ایٹر سے کیا جسے جادوگروں میں صرف خالص خون کی تلاش ہوتی ہے۔ زیونسٹ یونین قانون ساز کا کہنا تھا کہ اس شادی کے ”مخالفین ایک نسل پرست، تاریک اور شرمناک چہرے کو ظاہر کرتے ہیں جسے مزید نہیں دیکھا جاسکتا۔“
یوں مندرجہ بالا گزارشات سے اسرائیل کی دنیا بھر سے عداوت و مخاصمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق، ”یہود مخالفت اور نفرت پر مبنی بیانات کو بہت سے یورپی ممالک میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم یہودی برادریوں پر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر فرانس میں جہاں مسلمانوں کی آبادی یورپ بھر میں سب سے زیادہ ہے۔“ مطلب یہ کے ڈی ڈبلیو نے بھی یہاں اس نام نہاد یہود مخالفت کا ذمہ دار بہرحال مسلمانوں کو ہی ٹھہرانا تھا؟
اگرچہ موجودہ دور میں کچھ جذباتی مسلمان اسلام کے برعکس یہودیوں سے مخاصمانہ اور مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن قرآن میں خدا تعالیٰ کئی بار ان کو اپنی ممنون و منعم قوم کی طور پر مخاطب فرمایا ہے :یا بنی اسرائیل! یعنی: اے اسرائیل علیہ السلام کی اولاد! جب کہ انجیل میں یہود کو، ”او یہودا! او گردن کش قوم، او سرکشی کرنے والو، زمانے کے برے اور زناکار لوگ، اے سانپ کے بچو کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔“
ہم انجیل کی ان القاب پر کسی قسم کے ذاتی تبصرے سے گریز کرتے ہوئے محترمہ کیرن آرمسٹرانگ کی ٹیڈ ٹاک کی ایک تقریر کا ایک اقتباس پیش کریں گے کہ، ”عظیم ربی ہلیل، جو کہ مسیح کا پرانا حواری تھا، کے بارے میں ایک مشہور کہانی ہے۔ ایک دیہاتی اس کے پاس آیا اور کہا کہ وہ یہودیت قبول کر سکتا بشرطیکہ ربی ایک ٹانگ پر کھڑے رہ کر یہودیت کی پوری تعلیم زبانی سنا دے۔ ہلیل ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا اور کہا،“ جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اپنے پڑوسی سے بھی نہ کرو۔ یہ توریت ہے۔ باقی سب اس کی تفاسیر ہیں۔ جاؤ اور جاکر اسے پڑھو۔ ”اور“ جاؤ اور جاکر اسے پڑھو ”ہی اس کا مقصد تھا۔
”عظیم ربی مایر نے کہا کہ صحیفے کی کوئی بھی تاویل جو نفرت، ذلت، یا دوسرے لوگوں کی توہین کی طرف لے جاتی ہو۔ کسی کی بھی طرف۔ ناجائز ہے۔“
(کیرن آرمسٹرانگ: مائے وش: دی چارٹر فار کنپیشن)
البتہ آخر میں ہم وزیرخارجہ صاحب سے عرض گزار ہیں کہ قبلہ جو کچھ آپ مغربی میڈیا سے طلب کر رہے ہیں تھوڑا سے ہمیں بھی پاکستانی مطبوعہ و برقی میڈیا سے بھی دلا دیں کہ جہاں ویلنٹائن ڈے تو سرخ لبوں کو مزید سرخا کر اور، ماحول کو گلابوں سے مہکا کر اور غباروں سے غبار/خمار آلود کر کے بڑے ہی طمطراق سے منایا جاتا ہے، لیکن مادری زبانوں کے عالمی دن پر ان چینلز کی بولتی بند ہوتی ہے! اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں گونگے رہتے بستے ہیں۔
علاوہ ازیں وہ میڈیا جو کہ اسرائیل کی بمباری اور فلسطینیوں کی بربادی کے مناظر دکھا کر انسانیت اور اسلام کی دہائی دیتا نظر آتا ہے اسے اپنے ہی ملک میں ہونے والے بلڈوز ہوتے قبرستان، برباد ہوتے گلستان اور اجڑتی ہوئی آبادیاں، جلتے کھیت کھلیان، کارخانے اور بجھتی امیدیں کیوں نظر نہیں آتی؟ اور کیا یہاں آپ کو ”گہری جیبیں“ اور ”گری جبینیں“ نظر نہیں آتی؟ اور کتنے پیر، سرمایہ دار، جاگیردار اور اب مطبوع و برقی میڈیا کے مطابق ملک ریاض جیسے معتمر بھی ہیں کہ گہری جیبوں کی بل پر اپنی زنبیلوں کو طرح بھرتے جا رہے ہیں؟

