بے گھری سے ہارورڈ یونیورسٹی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 2019 کی بات ہے میں یو ٹیوب پر انسپائرنگ ویڈیوز ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ویڈیو پر پڑی جس میں ایک فلم کا لنک دیا ہوا تھا جو ایک ایسی لڑکی کی سٹوری تھی جس نے انتہائی غربت میں جنم لیا لیکن محنت اور تعلیم کی بدولت اس نے دنیا میں اپنا نام کمایا۔ میں نے گوگل سے اس فلم کو سرچ کیا اور آن لائن دیکھنے لگا۔ عام طور پر میں پہلے سے اپنی بنائی ہوئی فہرست کے مطابق ہی فلم دیکھتا ہوں لیکن اس فلم کے ٹریلر سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ فلم مجھے دیکھنی چاہیے۔

بہر حال میں نے یہ فلم پوری دیکھی۔ اور اس کی کہانی نے میرے دل کو چھوا۔ میں کئی دن تک اس فلم کے سحر میں کھویا رہا اور اس کہانی کے اثرات نے ہی مجھے متحرک کیا کہ میں اس پر آرٹیکل لکھوں۔ یہ فلم ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کے ماں باپ دونوں ہی الکوحل اور ڈرگ کے نشئی تھے۔ جس کی وجہ سے اس کے خاندان میں لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ روز کا معمول بن چکا تھا۔ غربت کی وجہ سے قرض لینے والوں نے بھی تنگ کر رکھا تھا۔ نشے کی لت کی وجہ سے اس کی ماں اکثر چوریاں بھی کرتی۔

اس لئے پولیس ان کے گھر پر اکثر تلاشی لینے کے لئے آتی۔ یہ لڑکی اپنے ماں باپ کی حالت دیکھ کر ہمیشہ اداس اور پریشان رہتی۔ وہ سکول میں بھی سہمی سہمی، تنہا اور الگ تھلگ رہتی۔ اور نہ ہی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، کیونکہ سکول کے بچے اس کے ماں باپ کی وجہ سے اکثر اسے طعنے مارتے تھے۔ وہ تھوڑی بڑی ہوئی تو ماں نشے کی علت میں بری طرح جکڑ چکی تھی اس لئے اسے ڈرگ ایڈکشن ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ باپ بھی ایک سینٹر میں داخل ہو گیا۔

قرض داروں نے ان کا گھر بھی بیچ ڈالا۔ اب وہ اکیلی اور بے گھر ہو گئی۔ اسے کہیں سے ایک ایسے سکول کے متعلق پتہ چلا جو غریب اور بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرتا تھا۔ یہ لڑکی وہاں پہنچ گئی۔ اسے وہاں کوئی تعلق نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ جواب نہ ملا، لیکن اس کی مسلسل کوشش اور پر اعتماد رویے نے وہاں کے انچارج کو متاثر کیا جس نے اسے ایک شرط پر اپنے سینٹر میں داخل کرنے کا وعدہ کیا، اگر وہ اپنے والد کو ساتھ لے آئے اور وہ اس کی گارنٹی دے دے۔

یہ لڑکی خوشی کے مارے وہاں سے نکل کر ڈھونڈتی ہوئی ایک سینٹر میں اپنے باپ کے پاس پہنچی اور اس کی منت سماجت کر کے اسے راضی کیا کہ وہ اس کے ساتھ چلے تا کہ اسے ایجوکیشن سینٹر میں داخلہ مل سکے۔ آخر کار اس کا والد اس کے ساتھ گیا۔ اور اس کی گارنٹی دی۔ اب یہ لڑکی دن رات بھرپور محنت کرتی اور پڑھائی میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے اپنے اساتذہ کو حیران کرتی۔ کیونکہ اس کے پاس رہنے کو کوئی گھر نہیں تھا، یہ باہر سڑکوں پر اور ادھر ادھر رات گزارتی اور صبح جلدی ہی سکول چلی جاتی اور دیر تک وہیں رہتی۔

یہ دوسرے بچوں کی نسبت ڈبل کلاسز اور ہفتے، اتوار کو بھی کورسز پڑھتی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چار سال کا ہائی سکول اس نے دو سال میں مکمل کر لیا۔ اس دوران اس کی ماں بھی انتقال کر چکی تھی۔ محلے کے چند لوگوں نے اس کو اس کی ماں کے انتقال کی اطلاع دی تو یہ اپنی بہن کے ساتھ قبرستان پہنچی، جہاں اس کی ماں کو بغیر جنازہ پڑھائے ہی دفن کیا گیا، اور نہ ہی اس کی قبر پر کوئی کتبہ لگایا گیا، کیونکہ ان کے پاس پیسے نہ تھے۔

اس نے اپنی بہن کو بھی اس سکول میں داخل کروانے کی کوشش کی۔ ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد اس لڑکی کو معروف اخبار نیو یارک ٹائمز کی جانب سے ایک سکالر شپ کا معلوم ہوا، جو ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے ایسے ہونہار طالب علموں کے لئے سکالرشپ دیتے ہیں، جو اپنے تعلیمی اخراجات افورڈ نہیں کر سکتے۔ اس سکالر شپ کی ایک کٹھن شرط مختلف شعبوں کے ماہرین کے ایک بڑے پینل کے سامنے انٹرویو پاس کرنا لازمی تھی۔ اس لڑکی کے پاس تو انٹرویو کے لئے پہننے کو کوئی مناسب کپڑے بھی نہ تھے۔

یہ اپنی ایک دوست کے پاس گئی اور اس سے انٹرویو کے لئے کپڑے مانگے۔ خیر یہ انٹرویو میں پاس ہو گئی اور نیو یارک ٹائمز کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے سکالرشپ کے لئے نامزد ہوئی۔ سکالرشپ جیتنے کے بعد اس کی نجی زندگی کے متعلق اس سے سوالات کیے گئے تو اس نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ میرے ماں باپ نشے کے عادی تھے، اور وہ میری پرورش اس انداز سے نہیں کر سکے، جیسے تمام بچے چاہتے ہیں، لیکن میں یہ جانتی ہوں کہ میرے ماں باپ مجھے پیار کرتے تھے اور میں بھی ان سے پیار کرتی ہوں۔

یہ کہانی معروف امریکی موٹیویشنل سپیکر لز مورے (Liz Murray) کی ہے، اور فلم کا نام Homeless to Harvard: The Liz Murray Story ہے۔ جس نے ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوایشن کرنے کے بعد نیو یارک ٹائمز میں جاب کی، اور اس کے بعد موٹیویشنل سپیکر بن کر لوگوں کو اپنی زندگی کی کہانی سے متحرک اور متاثر کرتی رہی۔ لز مورے نے اپنی زندگی کی چند تلخ یادوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی ماں کو ماں بن کر پالا تھا۔ اگر زندگی میں مجھے کچھ دوبارہ حاصل کرنے کا موقع ملا تو میں ضرور اپنے خاندان کو واپس لوں گی اور انہیں اچھی زندگی گزارنے کے لئے تمام سہولیات فراہم کروں گی۔

کسی نے لز مورے سے پوچھا کہ آپ اتنے دکھوں، تکلیفوں اور مشکلات کے باوجود آگے کیسے بڑھ گئیں؟ اور نہ آپ نے کبھی حالات اور معاشرے سے شکوہ کیا۔ لز مورے نے کہا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے ساتھ ہونے والی ظلم، زیادتی اور نا انصافیوں کا رونا روتے ہیں اور اس کا ملبہ دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ عام طور پر جب لوگ ناکام ہوتے ہیں، تو وہ اس ناکامی کو ہی کوستے رہتے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ میں اپنے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کو بھول جاتی، اور آگے بڑھنے کی جدوجہد جاری رکھتی۔

دوسرے لوگوں کے پاس دلاسا اور حوصلہ دینے والے لوگ ہوتے ہیں اس لئے وہ ہمیشہ کمفرٹ زون میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ میرے کیس میں ایسا نہیں تھا۔ مجھے نہ تو کوئی سنبھالنے والا تھا۔ اور نہ ہی میری شکایات سننے والا تھا۔ اس لئے مجھے برے حالات سے نکلنے کے لئے صرف اور صرف آگے ہی بڑھنا تھا۔ میں اس فلم کو دیکھنے کے بعد سوچ رہا تھا کہ کسی بھی ملک، معاشرہ اور خاندان میں کوئی بھی انسان محنت، قربانی اور لگن کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ محنت وہ بنیادی اکائی ہے جو ہماری کامیابی کی بنیاد رکھتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *