دو راستے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں اور بڑے بھائی دونوں کی یہی سوچ تھی کہ ضمیر کا دماغ خراب ہو چکا تھا لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ باپ کی سوچ کی تبدیلی کو کسی طرح انہوں نے برداشت کر لیا تھا لیکن وہ ضمیر کو صحیح راستے پہ واپس لا کر رہیں گے۔

پچیس سالہ ضمیر نجانے کتنی کتابیں مذہب کے بارے میں پڑھ چکا تھا اور اتنے ہی لیکچر انٹرنیٹ پر سن چکا تھا۔ اس کی ماں اور بڑے بھائی دونوں کو یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ضمیر بھی کہیں باپ کی طرح دہریہ نہ ہو جائے۔ ضمیر کا باپ مذہبی روایات کے بارے میں کبھی کبھار کوئی سوال کر دیتا یا ایک آدھ جملے میں تبصرہ۔ ماں اور بڑا بھائی اس کی باتوں کو نظر انداز کر دیتے تھے لیکن دل ہی دل میں کڑھتے رہتے اور اس کی فلاح کے لئے لمبی لمبی دعائیں کرتے تھے۔ اب ان دونوں کا سارا زور ضمیر کی طرف تھا۔ بھائی ضمیر سے بحث مباحثے کرتا لیکن اپنے حق میں کوئی نتیجہ نہیں نکلنے پہ فرض کر لیا کہ ضمیر دین سے پھر چکا تھا۔

جب ضمیر نے عبادت کو محض فرائض تک محدود کر دیا تو ماں اور بھائی کی پریشانی اور بڑھ گئی۔ ایک دن بھائی نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بھائی رعب دار آواز سے بولا۔

’پہلے ابا جان مذہب سے پھر گئے۔ مجھے اور امی جی کو فکر ہے کہ تم بھی اسی راستے پہ چل نکلے ہو۔ اب تم نماز مختصر پڑھتے ہو اور نہ ہی میری دی ہوئی کتابیں پڑھتے ہو۔ مذہبی تعلیم کا حصول ایک مستقل فریضہ ہے اور تم نے اس کو بھی خیرباد کہہ دیا۔‘

ضمیر نے بڑے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ ’بھائی جان آپ لوگ پریشان نہیں ہوں۔ میں اگر آپ کی طرح لمبی نماز نہیں پڑھتا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں نے اسلام ترک کر دیا ہے۔‘

’ہم نے ابا جان کو کھو دیا ہے۔ اب ہم تمہیں اس راستے پہ نہیں جانے دے سکتے۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ تم پتا نہیں کیا کیا کچھ اور پڑھتے رہتے ہو۔‘

’مجھے خدا پہ پورا یقین ہے اور اسلام میرا مذہب ہے۔ میں اس کے بارے میں جاننے کے لئے پڑھتا ہوں۔‘

بھائی نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’پہلے تم نے نماز کے نوافل ادا کرنا چھوڑ دیے اور اب سنت بھی نہیں پڑھتے۔ ان کے لئے تمہیں کیا جاننے کی ضرورت ہے؟‘

’میں سنت اور نوافل ادا کرنے کے خلاف نہیں ہوں۔ بھائی جان اگر اجازت ہو تو کچھ پوچھوں۔‘
بھائی کے بل پر تیور نمودار ہوئے لیکن اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’آپ لوگ سارا دن عبادت کے لئے علاوہ اور کیا کرتے ہیں؟‘
بھائی نے جھٹ سے جواب دیا۔ ’کیا کرتے ہیں؟ محنت کرتے ہیں رزق کماتے ہیں۔‘
ضمیر نے نگاہیں نیچی رکھیں اور کہا۔ ’اور بقیہ وقت اور سوچ تین بتوں کی پرستش میں!‘
کمرے میں جیسے کوئی بادل گرجا۔ ’تمہیں بڑے بھائی سے اس طرح بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی!‘
’میں تو اس عنوان پر کچھ بولنا نہیں چاہتا تھا لیکن آپ نے خود ہی اس بند کمرے میں بات چیت شروع کر دی۔‘
’تم اپنے بڑے بھائی کو مشرک کہہ رہے ہو۔ کون سے تین بت تم نے دیکھے جن کی میں عبادت کرتا ہوں؟‘

’مجھ میں یہ کہنے کی سکت نہیں ہے لیکن آپ مجھے بولنے پہ مجبور کر رہے ہیں پھر وہ رک کر آہستہ سے بولا۔‘ یہ بت ہیں نام نمود نمائش، لات عزی اور منات کے بجائے یہ بت ہیں آج کل کے۔ مکے کے کافر خدا کے ساتھ ساتھ ان کی بھی پوجا کرتے تھے۔ ’

’تمہیں شرم آنی چاہیے کہ اپنے کلمہ گو بھائی کو مشرک جان رہے ہو۔‘ بھائی شیر کی طرح دھاڑا۔

’ہم لوگ کلمہ گو تو ہیں لیکن ان بتوں کو پوج کر اس کی نفی بھی کر دیتے ہیں۔‘ ضمیر اپنے دل کی بات کر کے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔

پھر ضمیر نے نظریں اٹھا کر ملائیں۔ ’بھائی جان مجھے معاف کر دیں۔ میں آئندہ کبھی آپ سے اس طرح کی بات نہیں کہوں گا۔ ہم دونوں مسلمان ہیں لیکن ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔‘

’کیا مطلب، اگر ایک ہی مذہب ہے تو راستہ بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ تمہیں کون بہکا رہا ہے۔ پتا نہیں کون سے دوستوں سے تم ملتے ہو جو تمہیں غلط راستے پہ لے جا رہے ہیں۔‘

’بھائی جان، آپ کا راستہ اسلام کا جسم ہے۔ اور میرا راستہ اسلام کی روح کا ہے۔‘
’کیا مطلب اسلام کی روح سے، اسلام کے جسم سے؟‘ بھائی کا چہرہ ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔
ضمیر آہستہ سے بولا۔ ’اسلام کی روح، تزکیہ نفس۔ اسلام کا جسم، عبادات۔‘

بھائی کچھ دیر ضمیر کو گھور کر دیکھتا رہا جیسے وہ پھٹنے والا ہو۔ پھر اپنا فون اٹھا کر ماں کے پاس پہنچ گیا جو چند لمحے پہلے اشراق کی نماز سے فارغ ہوئی تھی۔

’بیٹا کچھ آیا ضمیر کی سمجھ میں۔‘ ماں جائے نماز پہ بیٹھے بیٹھے بولی۔

’یہ ضمیر تو عجیب و غریب باتیں کر رہا ہے امی جی۔ کہہ رہا ہے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، نام نمود نمائش کی۔‘

’ہائے اللہ، میرا بیٹا تو دہریہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسے کیا ہو گیا ہے۔ ہماری عبادت کو بتوں کی پوجا پاٹ سمجھ رہا ہے۔‘ ماں جیسے سکتے میں آ گئی تھی۔ ’اس کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں اس پہ دم کروں تا کہ اس کا دماغ صحیح ہو جائے۔‘

Latest posts by حبیب شیخ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *