کینیڈا میں ننھے بچوں کی دو سو پندرہ بے نشان قبریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تحریر اولا ً ان غیر سفید فام تارکین وطن کے لیے ہے جو کینیڈا میں مقیم ہیں، یا جو روزانہ ہی اپنے گھروں سے کینیڈا کی طرف ہجرت کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کی نظر میں وہ سالانہ اعداد و شمار ہوتے ہیں جو کینیڈا کو بسنے کے لیے دنیا کا بہترین ملک ثابت کرتے ہیں۔ جہاں واقعی دنیا کے بہترین نظام ہائے صحت میں سے ایک قائم ہے۔ جہاں عموماً شہری آزادیاں ہیں، جہاں انسان اپنے ضمیر کی آزادی کے ساتھ گزر بسر کر سکتے ہیں۔

لیکن یہاں کے غیر سفید فام اس معاشرہ کے سیاہ پہلوؤں سے یا تو آگاہ نہیں ہوتے یا ان کو نظر انداز کرنے ہی میں اپنی عافیت گردانتے ہیں۔ اس معاشرہ کا تاریک ترین پہلو ان شہریوں کی زندگی ہے جن کی پہچان، ’ریڈ انڈین‘ سے بدل کر ’انڈین‘ ، اور اب ’فرسٹ نیشن‘ یا اولین شہریوں کے نام سے کی جاتی ہے۔ ایک زمانے میں نو آبادیوں، بالخصوص برطانوی نو آبادیاں میں ان کو حقارتا، ’نے ٹو‘ Native کہا جاتا تھا۔

کینیڈا کے یہ اولین شہریوں اور ان کے ساتھ دیگر دیسی قوموں کے لوگ جو پہلے، ’اسکیمو‘ بھی کہلاتے تھے، مظلومیت اور ان کے ساتھ کی جانی والی منظم نسل کشی اور زیادتیوں میں بھی سر فہرست ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دو یورپی قوموں، یعنی فرانسیسی، اور برطانوی قوموں نے ان کو محکوم بناتے وقت ان کے ساتھ ہر وہ زیادتی روا رکھی جو استعماریت اور نو آبادیت کا خاصہ ہے۔ ان کی منظم نسل کشی کی گئی۔ ان کی زمینوں، اور پیداوار کے وسائل پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا۔

ان کو ان کی زمینوں کو سے جبراً بے دخل کیا گیا۔ پھر ان زمینوں پر جو بستیاں بنائی گئیں ان کے نام برطانوی بستیوں یا حکمرانوں پر رکھے گئے۔ مثلاً، لنڈنؔ، ونڈسر، ہیملٹن ؔ، کنگسٹنؔ، وکٹوریاؔ، سرے ؔ، اسٹریٹ فورڈ، ؔوغیرہ۔ بعد میں انہیں ان علاقوں میں محدود کر کے ان بستیوں کو، ریزرویشن کا تحقیر آمیز نام دیا گیا۔

ان دیسی باشندوں کے ساتھ قانون کی آڑ میں ایسے معاہدے کیے گئے جنہیں تاج برطانیہ کے ساتھ کی گئی ٹریٹی ’Treaty کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدے عام طور پر یا تو یک طرفہ تھے، یا جبری۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بارہا سرکار نے جس میں برطانوی سرکار بھی شامل تھی اور اب کینیڈا کی سرکار بھی، ان معاہدوں کو توڑا، یا ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ اگر خال خال اولین شہری ان معاملات کو عدالتوں میں لے جانا بھی چاہیں تو مقدمے سالہا سال لٹکتے ہیں اور زیریں عدالتوں کے فیصلے عموماً ان کے خلاف جاتے ہیں۔ یعنی چٹ بھی استعمار کی اور پٹ بھی سرکار کی۔

اولین شہریوں کے ساتھ جبر میں سر فہرست، ان کی یورپی طرز زندگی اور مذہب میں جبری شمولیت تھی۔ جسے Assimilation یا جبری انجذاب بھی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں تطہیر ذہنی کا آسان طریقہ تو ان باشندوں کو یورپی یا عیسائی نام دینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف فرقوں کے عیسائی مبلغ یا مشنری ان کو عیسائی بناتے تھے۔

اس عمل کا سب سے تکلیف دہ یا گھناؤنا پہلو وہ تھا، جس میں حکومت وقت کی سرپرستی ہی میں ان کے معصوم بچوں کو جبراً، ان کے خاندانوں سے چھین کر دور دراز علاقوں کے عیسائی رہائشی اسکولوں میں لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے روایتی طرز زندگی اور ثقافت سے ہمیشہ ناآشنا رہیں۔ ہم اس کو اس ہی عمل سے جوڑتے ہیں جس میں عثمانی ترک اپنی محکوم آبادیوں کے بہت ہی کم عمر بچوں کو چھین کر نہ صرف مسلمان بناتے تھے بلکہ سلطان وقت کے جاں نثار محافظ بھی۔ طریقہ تو تقریباً ایک سا ہی لگتا ہے لیکن کینیڈا کے ان اغوا شدہ بچوں کی قسمت میں سلطانوں کی قربت شامل نہیں تھی۔ ایسے رہائشی اسکول سارے کینیڈا میں بکھرے ہوئے تھے۔

کینیڈا میں ان بچوں کی تعداد ہزاروں کی تعداد تک پہنچتی ہے جو اس طرح سے چھینے گئے۔ ان میں سے اکثر پھر دوبارہ اپنے ماں باپ سے کبھی نہ مل پائے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک سو بیس سال کے عرصہ میں ان بچوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان بچوں میں سے چار ہزار سے چھ ہزار کے لگ بھگ ان اسکولوں میں وفات پا گئے تھے۔ ان بچوں کی اموات کے بارے میں اکثر والدین کو اطلاع نہیں دی گئی۔ اور ان میں سے بیشتر کو ان اسکولوں سے ملحقہ قبرستانوں میں دفن کر دیا جاتا تھا۔

گزشتہ ہفتہ برٹش کولمبیا کے شہر کملوپس میں ایسے ہی بچوں کی دو سو پندرہ بے نشان قبریں پائی گئیں۔ اس دریافت نے کینیڈا کے شہریوں کو ششدر کر دیا۔

انسانی حقوق کے عمل پرستوں اور اولین شہریوں کے مطالبوں کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم، ٹروڈوؔ نے اس دریافت پر رنج و غم کا اظہار کیا، اور حکم دیا کہ ملک بھر کی وفاقی عمارتوں پر کینیڈا کے پرچم تا حکم ثانی سرنگوں رکھے جائیں گے۔ کئی حلقے اس عمل کو صرف زبانی جمع خرچ قرار دے رہے ہیں۔ ان کی نظر میں اولین باشندوں کے معاملات کی ذمہ دار وزارت کے بعض افسران کا وہ رویہ بھی ہے جس کے تحت ان اسکولوں میں وفات پانے والے بچوں کی باقیات باقاعدہ تدفین کے لیے ان کے والدین کو نہیں دی جا سکتیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس میں بہت خرچ آ سکتا ہے۔

کینیڈا، اور کملوپس Kamloops کے انسان دوست شہری ان بچوں کی یاد میں دعائیں کر رہے ہیں، چراغ روشن کر رہے ہیں، اور اسکول کی سیڑھیوں پر بچوں کے چھوٹے چھوٹے جوتے ان کی یاد میں سجا رہے ہیں۔ ہمارے لیے تو یہ زخم اور غم دائمی ہیں۔ یہ بھی کہ کینیڈا کے اولین باشندوں کے ساتھ جاری نسل پرست رویہ مسلسل ہے۔ یہ بے نشان قبریں اور نسل پرست رویہ، کینیڈا کے ماتھے کا دائمی کلنک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *