ملالہ کو روایات سمجھنا ہوں گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر معاشرے کی کچھ روایات ہوتی ہیں جن سے مفر ممکن نہیں ہوتا، یہ بات اس تئیس سالہ لڑکی کو خوب سمجھ لینی چاہیے جو نوبل انعام کی حق دار ٹھہرائی گئی تھی، ان روایات کے ہالے میں قید کی لذت ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی آزادی کی چاہ نہیں کرتا، بہتیروں نے کوشش کی کہ روایات کو پس پشت ڈالا جائے مگر وائے ناکامی، جون ایلیا یاد آتے ہیں، ایک مشاعرے میں جون سلیم جعفری کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ میں نے خوب پی، میں اس گھٹن زدہ معاشرے کی روایات کو توڑ دینا چاہتا تھا مگر ناکام ٹھہرا، اب تو جیسے گماں ہوتا ہے کہ اجل بھی کہیں نزدیک ہی پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے، جب جون ایسا شاعر، جس کے قلم سے الفاظ نہیں سحر نکلتا تھا، بھی روایات کو توڑنے میں ناکام ٹھہرا تو اور کوئی کامیابی کی کوشش کیوں کر کرے، غالب کے شعر کو بنیاد بنا کر کوئی جان مارنا چاہے تو تعرض کس کو ہو گا۔

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

کتنی ہی صدیاں بیت جانے سے کسی معاشرے کی روایات بنتی ہیں، اور لوگ ہیں کہ پل بھر میں ان روایات سے بغاوت کا اعلان کیے دیتے ہیں، اگر کسی معاشرے کی کچھ روایات سے لوگوں کو کوئی چیز آمادۂ بغاوت کر سکتی ہے تو وہ مذہب ہے، مگر تاریخ کا یہی سبق ہے کہ جب بھی کوئی مذہب کسی معاشرے کی روایات سے ٹکرایا تو لوگوں نے بلا تردد اپنا وزن روایات کے پلڑے میں ڈال دیا، اور جب کوئی مذہب کسی معاشرے کی صدیوں سے چلی آ رہی کسی روایت کو قبول کر لے تو اس کا مطلب یہ ٹھہرتا ہے کہ آسمان اپنی جاہ سے ٹل جائے گا مگر لوگ روایت کو کبھی نہ چھوڑیں گے (استثنائی واقعات سے انکار نہیں)، شادی بھی ایک ایسی ہی روایت ہے جو ہمارے معاشرے بلکہ ہر معاشرہ کی جزو لاینفک ہے، تمام مذاہب نے نہ صرف اس روایت کو برقرار رکھا بلکہ اس کی ترغیب بھی دلائی، غور کیجیئے کہ معاشرے کی نفسیات سے بے خبری کی انتہا کیا ہو گی جب کوئی یہ کہہ دے کہ دو لوگوں (مرد اور عورت) کے ساتھ رہنے کے لیے شادی کی آخر ضرورت ہی کیا ہے، اب ملالہ کے والد یا کوئی اور لاکھ صفائی دے کہ ملالہ کے بیان کو حقیقت کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے، مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت کے برعکس بیان کو پیش کرنے کے لیے قرینہ لانا پڑتا ہے۔

ایک مثال سے بات واضح کرتے ہیں، ایک شخص کہتا ہے کہ خدا بخش انتقال کر چکا ہے، روئے زمین پر ہر ذی روح اس جملے کا مطلب یہ سمجھے گا کہ خدا بخش وفات پا چکا ہے، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خدا بخش اسلام آباد سے لاہور انتقال کر گیا ہے تو ہر کوئی یہ سمجھے گا کہ خدا بخش ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا ہے، تم دیکھو کہ دوسرے جملے میں قرینہ (اسلام آباد سے لاہور) آیا تو انتقال کے معنی تبدیل ہو گئے، اب کیا کریں کہ ملالہ کے بیان میں کوئی قرینہ ہی نہیں ہے، اس لیے بیان کو بعینہ ویسے لینا پڑے گا جیسے ملالہ نے کہا ہے، ہو سکتا ہے کہ ملالہ نے یہ بات صرف اپنے لیے کہی ہو، مگر پھر بھی کچھ تو خیال ملحوظ رہنا چاہیے تھا کہ آپ کسی قوم کی نمائندہ ہیں اور جس قوم کی نمائندگی آپ فرما رہی ہیں، اس بیان کے بعد وہی قوم آپ کے درپے ہو جائے گی۔

صاحبان حال خبر سناتے ہیں کہ آپ مستقبل میں قومی سیاست کے پیچ و خم میں الجھنا چاہتی ہیں، اگر سچ یہی ہے تو ایسے بیانات سے ہر صورت گریز واجب ہے جو معاشرے کی روایات سے ٹکرائیں، ملالہ ذرا تفکر تو کرے کہ بے نظیر ایسی خاتون کو اس معاشرے نے بطور وزیر اعظم کیوں کر قبول کیا یا مریم نواز کو کیوں عوام میں پذیرائی مل رہی ہے، بات سادہ سی ہے کہ روایات سے ہم آہنگی، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کی کوئی روایت غلط ہے تو دلیل لائیے، ہو سکتا ہے کہ کچھ روایات ٹھیک نہ ہوں مگر یک مشت کسی چیز کے درپے ہونے سے اپنی بات لوگوں تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے، اس کے لیے ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے، چیزوں کو دور بین ایسی نگاہوں سے دیکھنا پڑتا ہے، بتدریج لوگوں کو کسی چیز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنا پڑتا ہے، ایسے بیانات دینے سے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا الا یہ کہ سوشل میڈیا پر فلسفیوں کو گتھم گتھا ہونے کا موقع میسر آ جاتا ہے، فراست کا تقاضا یہی ہے کہ ان معاملات پر لب کشائی سے گریز کیا جائے جن سے معاشرہ تقسیم در تقسیم ہو جاتا ہے، انفرادی زندگی میں ہر شخص آزاد ہے جو چاہے کر گزرے مگر اپنے خیالات، جو معاشرے کو ٹھیس پہنچائیں، کو ظاہر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *