موت کی ٹرین میں زندگی کا آخری سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صوبہ سندھ میں گھوٹکی کے نزدیک سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ صبح چار بجے جب دونوں ٹرینوں کا تصادم ہوا تو دن نکلنے پر لاشوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھرے ہوئے تھے، یہ خوفناک منظر دیکھنے والے کئی افراد موقع پر بے ہوش بھی ہو گئے، یہ ایسا ہولناک حادثہ تھا کہ ریسکیو ٹیمیں بھی یہ خونی منظر دیکھ کر کانپ گئیں۔ ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے وہ بدنصیب تھے جو کورونا وائرس سے تو بچ گئے لیکن انھیں ایسی بھیانک موت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کی تدفین کے لئے جسم کے حصے بھی پورے نہیں تھے، یہ بھی کسی کو معلوم نہ تھا کہ جسم کے جن حصوں کو اکٹھا کر ایک میت تیار کی جا رہی ہے وہ ایک ہی شخص کی ہے بھی کہ نہیں، اللہ اللہ، یہ کیسا خونی منظر تھا؟

یہ کیسی قیامت تھی؟ خون میں لت پت بچ جانے والے اپنے پیاروں کے ٹکڑے ڈھونڈھ رہے تھے، خون سے تر زمین پر کوئی نوحہ کناں تھا تو کوئی گم سم اس سوچ میں مبتلا تھا کہ قیامت سے پہلے قیامت کیسے آ گئی؟ ایک ہی خاندان کے پانچ بدنصیب افراد کو کیا معلوم تھا کہ موت کی ٹرین میں وہ اپنی زندگی کا آخری سفر کر رہے ہیں۔ موت کی ٹرین میں سفر کرنے والے باراتیوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کی منزل کیا ہوگی کسی باراتی کو موت ملی تو کسی کو غم جدائی۔

ٹرین میں سفر کرنے والے باراتی اپنی منزل تک تو نہ پہنچ سکے بس نشانی کے طور پر شادی کے کپڑے، مہندی اور چوڑیاں چھوڑ گئے کہ کوئی تو ہوگا جو یہ بتا سکے کہ وہ زندگی کے نئے سفر پر نکلے تھے یا آخری سفر پر؟ کوئی تو یہ بتا سکے کہ اس بدنصیب دولہا، دلہن نے کون سا گناہ کیا تھا جس کی انھیں یہ سزا ملی تھی۔ ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا جن کا باپ روزگار کے لئے اس ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اس بوڑھی ماں کا کیا قصور تھا جس کا اکلوتا بیٹا اس سے ملنے جا رہا تھا۔ اس بیٹی کا کیا قصور تھا جو بیمار والدہ سے ملنے کے بعد اپنے شوہر اور بچوں کے پاس واپس جا رہی تھی حالانکہ بیمار والدہ کے دل کو جدائی کی تڑپ محسوس ہو چکی تھی اس نے اپنی بیٹی کو جانے سے بہت روکا لیکن اس کی بیٹی نے سفارش کر کے ٹرین کی ٹکٹ لی اور موت کے سفر پر روانہ ہو گئی۔

ابتدائی طور پر کہا جا رہا تھا کہ اس ٹرین حادثے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں پھر ہلاک ہونے والی کی تعداد بڑھنے لگی اب تک ستر سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یہ تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ صرف ستر افراد کی ہلاکتیں نہیں بلکہ ستر ہزار افراد کی ہلاکتیں ہیں، مرنے والے ستر افراد اپنے پیچھے ایسے رشتے چھوڑ گئے ہیں جو زندہ رہ کر روز مرتے رہیں گے، یہ وہ رشتے ہیں جن کو ملنے والی چوٹ کی کوئی دوائی نہیں ہے بس دعا ہی ہو سکتی کہ اللہ انھیں صبر جمیل عطا فرمائے۔

پسماندگان غم میں نڈھال خاموش ہوچکے ہیں لیکن ٹرین حادثے میں مرنے والوں کی بے چین روحیں چیخ چیخ کر اپنے قاتلوں کا پتہ پوچھ رہی ہیں۔ ان روحوں کا قاتل، اصل ذمہ دار کون ہے؟ یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکے گا کیونکہ جب بھی کبھی ٹرین یا جہاز کا کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے تو انکوائری بٹھا دی جاتی ہے جسے اصل ذمہ دار نظر ہی نہیں آ پاتے۔ پاکستان میں ٹرین حادثات کی بنیادی وجہ ٹرینوں کا پرانا بوسیدہ سیفٹی نظام، سنگل ریلوے لائن، پرانی خراب ٹرینیں جن کی وجہ سے اکثر ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوتا رہتا ہے۔

دنیا اب بلٹ ٹرین تک پہنچ چکی ہے لیکن ہم ابھی تک اپنے ریلوے نظام کو اپ ڈیٹ نہیں کرسکے۔ ریلوے کی بہتری اور اسے جدید بنانے کی باتیں صرف میڈیا پر سننے کو ملتی رہتی ہیں لیکن اس خواب کی حقیقت ہے بھی یا نہیں اس کا کسی کو معلوم نہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم صرف وہی ایک ریلوے لائن استعمال کر رہے ہیں جو انگریز یہاں بنا گئے تھے، عوام یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں، جب ہم سی پیک منصوبہ بنا سکتے ہیں، جب ہم موٹر وے بنا سکتے ہیں تو پھر ہم ریلوے کا ڈبل ٹریک کیوں نہیں بنا سکتے؟

ریلوے کے مسافروں کا اتنا رش ہوتا ہے کہ اکثر ٹکٹیں نہیں ملتیں، اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریلوے پر اگر حقیقی معنوں میں توجہ دی جائے تو یہ ملک کا سب سے منافع بخش ادارہ بن سکتا ہے کیونکہ ایسے سنگین حادثات کے باوجود لوگ ٹرین پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر لوگ ٹرینوں پر اس قدر اعتماد کرتے ہیں تو حکومت اور محکمہ ریلوے کو چاہیے کہ مسافروں کی زندگی کے تحفظ اور سفر کو آسان و محفوظ بنانے کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات کرے کہ دوبارہ کبھی ایسے حادثات رونما نہ ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *