اب لکھنے والے کیا کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں کالم نگار عرفان صدیقی کی ”ہم سب“ میں شائع ہونے والی ایک تحریر نگاہ سے گزری۔ بقول لکھاری یہ وہ کالم تھا جو اس اخبار کے لئے ناقابل اشاعت ٹھہرا جہاں عرفان صدیقی باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اس ”ناقابل اشاعت“ کالم میں بیس برس قبل کے ان حالات و واقعات کا تذکرہ تھا جن میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو جبراً ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ عرفان صدیقی چونکہ ان دنوں صدر مملکت کے سیکرٹری تھے۔ لہذا وہ چشم دید گواہ بھی تھے کہ کس طرح اعلی ترین فوجی قیادت نے خود کو ایوان صدر میں ایک روز کھانے پر مدعو کروایا اور پھر صدر مملکت سے ”گزارش“ کی کہ یا تو وہ خوشی خوشی استعفی دے کر چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے لئے جگہ خالی کردیں ورنہ انہیں ہٹانے کے لئے کوئی دوسرا ”قانونی راستہ“ اختیار کیا جائے گا۔

مگر اخبار نے یہ کالم چھاپنے سے مبینہ طور پر یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ یہ واقعہ بیس برس پرانا اور تاریخ کا حصہ ہی سہی۔ اس کے تمام کردار ریٹائر ہی سہی مگر ہم اس لئے شائع نہیں کر سکتے کیونکہ ہم نام لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔

یہ صرف ایک کالم نگار یا اخبار کا مسئلہ نہیں بلکہ گزشتہ چند برس بالخصوص تین برس سے ہر اخبار و کالم نگار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ پہلے سنسر شپ اوپر سے نافذ ہوتی تھی اور اخبارات اس کے ہاتھوں مجبور تھے۔ اب ماشا اللہ ہر اخباری ادارہ و چینل سیلف سنسر شپ میں خود کفیل ہے۔

احتیاط کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں میں نے ریلوے کی زبوں حالی کے اسباب کے بارے میں کالموں کی ایک سیریز لکھی۔ جب اس میں ضیا دور میں قائم کردہ نیشنل لاجسٹک سیل ( این ایل سی ) اور ریلوے کے تعلق کا تذکرہ آیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ این ایل سی کا ذکر حذف کر دیں۔ میں نے پوچھا کہ این ایل سی کوئی حساس ادارہ تو نہیں ایک کمرشل بار بردار کمپنی ہے۔ اس کے تذکرے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ جواب ملا کہ سر آپ خود سمجھ دار ہیں۔ کل کلاں کوئی باز پرس ہو گئی تو مشکل ہو جائے گی۔

یعنی اب کوئی اخبار ایسی تحریر شائع کرنے پر بھی راضی نہیں جس میں سو کلومیٹر کے قلمی دائرے میں بھی یہ شبہ ہو جائے کہ اس پر کوئی فون آ سکتا ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک تو عسکری قیادت اور حساس اداروں تک بات ٹھہری تھی۔ اب سیلف سنسر شپ کے دائرے میں ان اداروں کے دور دراز رشتے دار کمرشل ادارے بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ان حالات میں حیرت تب ہوتی جب مذکورہ اخبار عرفان صدیقی کا کالم شائع کر دیتا۔ وہ وقت دور نہیں جب اخبارات ایوب خان، یحیی خان اور ضیا الحق ادوار کے پہلے سے شائع شدہ واقعات بھی یہ کہہ کر دوبارہ چھاپنے سے معذرت کریں گے کہ سر سمجھا کریں۔

ان حالات میں قلم کار کیا کریں؟ خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں یا دھارے کا رخ نہیں موڑ سکتے تو لکھنا چھوڑ دیں؟ دونوں صورتوں میں نقصان قاری کا ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *