لوح خاک پر گراں مایہ تحریر: ڈاکٹر آصف فرخی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتابوں کے ڈھیر میں اکیلا، تنہا بچہ بیٹھا ہے اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہے، یہ تصویر ڈاکٹر آصف فرخی کی پسندیدہ تصویر تھی جو وہ بچپن میں بنایا کرتے تھے ان کی والدہ تاج بیگم نے مجھے ہنستے ہنستے بتایا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصوری کا شوقین تھا طلسم ہوش ربا تو کم عمری میں ہی پڑھ لی تھی اور پھر گھر کی ادبی فضا نے ان کے اندر ایسی تاثیر پیدا کی کہ ایک دھڑکتی ہوئی کائنات کئی جہتوں میں ابھر کر سامنے آ گئی، اور ادب کے چمن میں قدم کیا رکھا گویا دبستان کھل گیا. یکے بعد دیگرے آٹھ افسانوی مجموعے سیاسی، سماجی, معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی مسائل کو لئے سامنے آئے۔

بحران کے دنوں میں نظموں کا سلسلہ ”اس وقت تو یوں لگتا ہے“ صرف نظمیں ہی نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کہیں خود غرضی کے صندوق کھول کر دکھائے گئے ہیں، تو کہیں تعصب کی کالک، لالچ کی پوٹ، جہل و شقاوت کے ڈھیر اور سرمائے کی آگ میں جلتی چتا کا دکھ اور ماتم گساری ہے، پھر انٹرویوز، سفرنامے، ڈرامے، تراجم، مرتبہ کتب، بچوں کا ادب، شہرزاد اور دنیا زاد، کتھا سرت ساگر اور پھر تنقید کے میدان میں قلم نے اپنی جولانیاں دکھائیں اور نئے مضامین کی کہانیاں ناقدانہ طریقہ کار کے انداز میں سامنے آئیں، ابھی تو تخلیق کے آئندہ امکانات کا لامتناہی سلسلہ ان کی سیماب صفت شخصیت میں نظر آ رہا تھا، وہ مشت خاک ابھی علم و آگہی کے نئے در وا کرنے کو تیار تھی کہ کوچ کی گھڑی آن پہنچی۔ وہ چلا گیا مگر صفحہ زیست پر حرف زندہ بن کر جگمگا رہا ہے۔

ڈاکٹر آصف فرخی سے میری ملاقات آٹھ سال کے عرصے پر محیط ہے مگر یہ ایام کی گنتی تو کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ ان کی شخصیت کے رکھ رکھاؤ نے مجھے ایسے سحر میں جکڑے رکھا جو نقطہ آغاز سے اب تک قائم ہے۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ جب میری ملاقات اپنے ایم فل کے تحقیقی مقالے کے سلسلے میں شمیم حنفی، انتظار حسین، حمید شاہد، حسن منظر، اسد محمد خان اور اس قبیل کے بہت سے لوگوں سے ہوئی تو سب کی باتوں سے محسوس ہوا کہ اس شخص میں زندگی کا قرینہ ہے، اس کے من کی چھاگل میں سب کے لیے بے پناہ محبت ہے جبھی تو وہ ”یزید کی پیاس“ جیسے فن پارے کا خالق بنا۔

وہ عصر حاضر کا ترجمان تھا اور ”میرے دن گزر رہے ہیں“ اس اجنتا کی کہانیاں ہیں جو کسی ناخدا کے ہاتھوں اپنا سکون لٹا چکی ہے۔ تصوف اس کی گھٹی میں تھا اس لئے پاڈا، بودلو اور ہنس پکھی جیسی کہانیاں تخلیق کیں۔ وہ اس تہذیب کی نشانی بھی تھا جو دلی سے کراچی تک آئی۔ وہ فرانز کافکا اور میلان کنڈیرا کا ہم زاد اور ہم سخن بھی تھا۔ تاریخ اور روایت اس کے ساتھ رواں تھی۔ وہ ماضی کا امین تھا۔ مختلف سیاسی دھاروں کے عکس اور نقوش اس کے ہاں ملتے ہیں جس سے ان کے ذہنی افق کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ادب عالیہ کا شعور اسے ہر قسم کی حد بندی سے آزاد کر دیتا ہے۔ اسی لئے انتظار حسین کو ان کے افسانوں میں میجک ریئل ازم نظر آتا ہے۔

آصف فرخی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا بے پناہ حافظہ تھا۔ حسن منظر نے اپنے خط میں لکھا کہ معلوم نہیں اسے کھنکھناتی مٹی سے بنایا گیا ہے کہ آگ سے؟ جب بھی کوئی معلومات لینا چاہو ان کا حافظہ غضب کا ہے اس کی داد دینی پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طرز تکلم پر بھی رشک آتا ہے میں نے انہیں لٹریری فیسٹیولز اور مختلف ادبی موضوعات پر بولتے سنا ہے، بے معنی گفتگو ہرگز نہ ہوتی۔ لفظ کی ادائیگی تو اس قدر خوبصورت ہوتی کہ جیسے چن چن کر نوک زبان پر رکھے گئے ہو وہ صحیح معنوں میں سخن شناس آدمی تھا۔

ڈاکٹر آصف فرخی کا شمار ان قلم کاروں میں ہے جن کی تخلیقی زندگی انسان دوستی، محبت، وضعداری اور ادب پروری میں گزرتی ہے وہ آخری لمحے تک ادب کی خدمت کرتے رہے۔ ڈاکٹر آصف فرخی اتنی پہلو دار اور ہمہ گیر شخصیت تھے کہ میں جتنا بھی ان کی شخصیت کے متعلق لکھوں وہ نا مکمل ہوگا اور تشنگی باقی رہے گی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر آصف فرخی کی شخصیت لوح خاک پر گراں مایہ تحریر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *