لوح خاک پر گراں مایہ تحریر: ڈاکٹر آصف فرخی

کتابوں کے ڈھیر میں اکیلا، تنہا بچہ بیٹھا ہے اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہے، یہ تصویر ڈاکٹر آصف فرخی کی پسندیدہ تصویر تھی جو وہ بچپن میں بنایا کرتے تھے ان کی والدہ تاج بیگم نے مجھے ہنستے ہنستے بتایا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصوری کا شوقین تھا طلسم ہوش ربا تو کم عمری میں ہی پڑھ لی تھی اور پھر گھر کی ادبی فضا نے ان کے

Read more

یادیں آصف فرخی کی

میرے ہاتھ میں نوائے معانی زندگی کا مسودہ تھا اور آصف فرخی کا ایک ایک افسانوی مجموعہ میری نظروں سے گزر رہا تھا۔ شام کے سائے ڈھل چکے تھے، میں چھت پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بہت دن ہوئے ڈاکٹر آصف فرخی سے بات نہیں ہوئی وہ نئے لکھے جانے والے دس افسانے کب بھیجیں گے اور میں ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ کب مرتب کروں گی۔ انہوں نے تو 22 اپریل 2020 کو فون پر بتایا تھا

Read more

آصف فرخی کا اپنے پیاروں کو دلاسہ

آج صبح سویرے انتظار حسین بڑی بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے انہیں جب سے پتہ چلا کہ آصف فرخی میرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تو ان سے ملنے کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ آصف سے ملے بہت دن ہو گئے تھے ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ آصف فرخی ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھامے چلتے آ رہے ہیں انتظار حسین نے بڑھ کر گلے لگایا خوشی اور رنج کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا اور پھر بولے ارے آصف! اتنے بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر اس شہر میں کیوں آ گئے ہو؟

Read more