ویکسین نہ لگوانے والوں کا علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے۔ کورونا کی وجہ سے لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے تمام اقوام میں ویکسین لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انسانی جان کو مقدم جانتے ہوئے اس کو بچانے کے لیے دن رات اس کے علاج کو بہتر سے بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ لیکن ہم اس قوم کے باسی ہیں جہاں عقل کی بات ہوئی، وہیں علم بغاوت بلند کر دیا جاتا ہے۔ مخالفت میں ایسی ایسی تاویلات پیش کی جاتی ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ محب وطن پاکستانیوں کو بات تبھی سمجھ آتی ہے جب ان پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ اب یہ ہی دیکھ لیجیے ہماری گھر جو خاتون کام کرنے آتی ہیں ان کو دو ماہ سے بہت پیار سے سمجھا رہے تھے کہ آپ ویکسین لگوا لیجیے۔ روز ایک نیا بہانہ ہوتا۔ ادھر ادھر کی سنی سنائی پر یقین رکھتیں اور ہماری کسی بات پر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
کل تنگ آ کر ہم نے ان سے کہہ ڈالا کہ اگر آپ نے ویکسین نہیں لگوائی تو تنخواہ نہیں دوں گی۔ اب تنخواہ ویکسین لگنے کے بعد ہی ملے گی۔ بس پھر کیا تھا، ہمیں ہی کہا کہ رجسڑیشن کروا دیجئے۔ ہم نے رجسڑیشن بھی کروائی اور ویکسین کے لیے ساتھ بھی لے گئے۔ سچ پوچھیں تو تنخواہ روکنے کی دھمکی کام کر گئی۔ اگر ان کو خبر ہو جاتی کہ صرف دھمکی ہے تو آج بھی ہم بس کہتے ہی رہ جاتے۔ میرا خیال سے اب حکومت کو کچھ ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس کی وجہ سے لوگ ویکسین لگوانے میں پہل کریں۔

1۔ بزرگ افراد کے لیے یہ بیماری زیادہ مہلک ہے اس لیے ریٹائر لوگوں کی پینشن تب دی جائے جب وہ ویکسین لگوا چکے ہوں۔

2۔ کچھ کمپنیوں میں بچوں کے ساتھ والدین کی بھی ہیلتھ انشورنس ہوتی ہے۔ انشورنس کے لیے اس مہک بیماری سے بچاو کی تدبیر کا سرٹیفکیٹ لازم کر دیا جائے۔

3۔ ہر دفتر میں کام کرنے والوں کے لیے بھی ویکسین لگوانا لازمی کر دی جائے۔ نہ لگوانے پر تنخواہ روک دی جائے۔

4۔ سرکاری محکموں کے ملازمین کو وقتی طور پر بغیر تنخواہ چھٹی پر جانے کا نوٹس دیا جائے اگر وہ وقت مقررہ تک اس بیماری کے سدباب کے لیے نادرا کا تصدیق نامہ دکھا نہیں پاتے۔

5۔ بجلی اور گیس کے واجب ادا بل سرچارج کے ساتھ بھریں جو اس بیماری کی روک تھام میں پیش پیش نہیں ہیں۔

6۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اساتذہ اور طالبعلموں کو تب تک آنے کی ممانعت ہو جب تک وہ اس بات کی تصدق نہ کر دیں کہ ان کے جسم اس بیماری سے لڑنے کی قوت مدافعت رکھتا ہے۔

7۔ ایک تاریخ مقررہ تک نادرہ لوگوں کو مہلت دے اس کے بعد ان کے شناختی کارڈ کینسل کر دیے جائیں۔
8۔ عدالت تب ہی سجے جب جج، وکیل، مدعی، ملزم سب ویکسین شدہ ہوں۔
9۔ ان لوگوں کی موبائل سم بند کر دی جائیں جو اپنی اور دوسروں کی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔
10۔ ہر دکان، ریسٹورنٹ اور ہوٹل کے مالک اور ورکرز پر اس ویکسین کا لگوانا لازم کر دیا جائے۔ نہ لگوانے پر دروازہ سیل کر دیا جائے۔
11۔ شادی اور سینما ہال میں بھی یہی چیز ملحوظ خاطر رکھی جائے۔
لوگوں کو اس بات کا احساس دلوانا بھی بہت اہم ہے کہ جو لوگ اس مرحلے سے گزر چکے ہیں ان کے لیے زندگی نارمل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے ریسٹورنٹ ان ڈور اور آؤٹ ڈور، شادی ہال سینما گھروں میں داخلے مکمل تصدیق کے ساتھ کھول دیے جائیں۔ شادی ہال میں داخل ہوتے ہوئے اپنے اپنے موبائل پر اپنا سرٹیفکیٹ دکھانا لازم کر دیا جائے تاکہ جو پیشے کورونا سے بہت متاثر ہوئے ہیں ان کے روز گار کا پہیہ بھی چل پڑے۔
12۔ سب سے آخر میں بس بریانی کی پلیٹ کی آفر کر دیجئے یقین کیجئے یہ حکمت عملی بھی بہت کارآمد رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *