EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کینیڈا کی مردم شماری: ایک بھاشا اور لپیوں کا قضیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کینیڈا کی مردم شماری جاری ہے جو ہر پانچ سال کے بعد باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہے، اور اس میں حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور تجزیے جلد ہی دیانت داری کے ساتھ عوام کو پیش کر دیے جاتے ہیں۔ اس کی مدد سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی منصوبہ بندی کرتی ہیں تاکہ شہر یوں کو ہر وہ سہولت مہیا کی جاسکے جو ان کا استحقاق ہے۔ ان اعداد و شمار کو کاروباری ادارے، ثقافتی ادارے، اور شہری معاملات کے عمل پرست بھی اپنے معاملات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس مردم شماری میں گھر میں بولی جانے والی زبان کے بارے میں بھی سوال ہوتے ہیں۔ تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ کینیڈا کے شہری انگریزی، یا فرانسیسی کے علاوہ گھروں میں کون سی زبان بولتے ہیں۔ ان اعداد و شمار پر یا طریق کار پر خال خال ہی سوال اٹھتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں کچھ پاکستانیوں، بالخصوص پنجابی نژاد پاکستانیوں نے یہ مسئلہ اٹھایا کہ اگر ہم گھر میں بولی والی زبان کے خانے میں، ’پنجابی‘ درج کریں گے تو ہمارا شمار بھارت کے پنجابیوں میں کیا جائے گا، اور یوں ہمارا تشخص خراب ہوگا، ہماری گنتی کم ہو جائے گی، اور کینیڈا میں مقیم بھارتی پنجابیوں کو شاید زیادہ سہولتیں مل جائیں گی۔ امسال ان حضرات نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی کہ پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ گھر میں بولی والی زبان کے خانہ میں اردو درج کریں۔ اس طرح شاید ان کے پاکستانی ہونے کا بول بالا ہوگا۔ وہ یہ بھول گئے کہ بھارت کے اردو بولنے والی بھی تو گھر میں بولی جانے والی زبان کے خانے میں اردو لکھواتے ہیں۔ کینیڈا میں مقیم تارک وطن قومیتوں کی تعداد کو سمجھنے کے لیے یہاں کی مردم شماری کا ایک تفصیلی طریقہ ہے، جس پر آگے بات ہوگی۔

اس قضیہ نے ایک نیا رخ یوں لیا کہ کینیڈا کے پاکستانی ہائی کمیشن نے یہاں کی وزارت خارجہ کو ایک مراسلہ بھیج دیا۔ جس میں سفارش کی گئی کہ کینیڈا، اپنی مردم شماری کے سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جاری طریقہ میں تبدیلی کرے۔ اردو کو پاکستان کی قومی زبان کی بنیاد پر انفرادی قومی زبانوں میں شامل کرے، اور پنجابی کی ضمن میں شاہ مکھی اور گرمکھی کا فرق ظاہر کرنے کا انتظام کرے۔ یہ خط، ہائی کمیشن کے دفتر سے پاکستانی میڈیا کو بھیجا گیا تھا۔

ناطقہ سرب گریباں کہ اسے کیا کہیے۔ ایک زبان یعنی پنجابی بھاشا کو دو لپیوں یعنی گر مکھی اور شاہ مکھی میں تقسیم کرنے کی دلیل پر چپ ہی رہنا بہتر ہے۔ پھر بھی آگے کی کچھ سطریں شاید اس پر تبصرہ ہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کینیڈا کی مردم شماری میں اردو زبان الگ سے گنی جاتی ہے۔ او ر مردم شماری کے بارے میں اردو رسم الخط میں ایک تفصیلی کتابچہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

اس خط پر ہمیں اردو کے ایک ممتاز دانشور ڈاکٹر گیان چند جینؔ یاد آ گئے، جن کی کتاب ’ایک بھاشا، دو لکھاوٹ، دو ادب‘ کے شائع ہونے کے بعد ایک طوفان اٹھا تھا۔ ایک بحث چھڑی تھی جس میں انتظار حسینؔ، اور شمس الرحمان فاروقیؔ جیسے بڑے نام آگ بگولہ تھے۔ اتنے کہ بحث میں بات شخصیات تک جا پہنچی تھی۔ گیان چند کی دلیل یہ تھی کہ اردو اور ہندی دراصل ایک ہی بھاشا ہیں، گو ان کی لکھاوٹیں یا لپیاں الگ ہیں۔ خود گیان چند جینؔ نے یہ لکھا کہ، ”میرا ادعا یہ ہے کہ، اگرچہ اردو اور ہندی دو آزاد ادب ہیں، لیکن اردو اور ہندی، دو مختلف زبانیں نہیں ہیں۔ مجھے تسلیم ہے کہ اردو اور ہندی دو مختلف ادب ہیں، لیکن دو مختلف زبانیں نہیں ہیں۔ دخیل الفاظ سے زبان کا تعین نہیں ہوتا۔ رسم الخط کا فرق بھی اس طرح ایک زبان کے دو حصے نہیں کر سکتا۔“

اس کتاب کے پیش لفظ میں ممتاز نقاد اور جواہر لال یونیورسٹی کے پروفیسر محمد حسنؔ نے لکھا تھا کہ، ”ایک بات واضح ہے کہ زبان کا لازمی رشتہ رسم الخط سے نہیں ہوتا۔ ہندوستان میں یہی خوش فہمی عام ہے۔ اور اس میں مزید اضافہ یہ کر لیا گیا ہے کہ، زبانوں کو مذہب یا/اور علاقوں سے جوڑ کر اس میں مزید تعصب اور تنگ نظری کو داخل کر دیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ زبانوں کا تعلق لازمی طور پر بولے جانے سے ہے۔ ہم نے زبانوں کا تعلق بولنے سے زیادہ لکھنے سے منسلک کر دیا ہے۔ اور وہ بھی ایسے ملک میں جہاں شرح خواندگی بہت کم ہے۔“

پاکستان کے ہائی کمیشن کے اس خط کے بارے میں کینیڈا کے اخبار پاکستان ٹائمز میں یہاں کے ایک ممتاز پاکستانی نژاد دانشور اور پروفیسر مرتضی حیدر کا ایک تفصیلی بیان شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے اس خط کی دانشمندی پر سوال اٹھایا تھا۔ ڈاکٹر مرتضی ؔحیدر کینیڈا میں بسنے سے پہلے پاکستان میں صحافت سے منسلک تھے، اور اس ضمن میں وہ فرنٹیئر پوسٹ، اور دی نیوز کے کارکن صحافی اور اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی تھے۔ کینیڈا کر وہ ماہر اعداد و شمار بنے۔

آج کل وہ کینیڈا کی دو اہم جامعات، رائرسن، اور مک گل میں پروفیسر ہیں۔ وہ سالہا سال سے کینیڈا کی مردم شماری پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے جیو نیوز کینیڈا کے ایک پروگرام کے میزبان، اویسؔ اقبال سے مردم شماری اور ہائی کمیشن کے بیان کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ جس کو آپ اسے لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ، کینیڈا کی مردم شماری اس بات کی طالب ہے کہ ہر شہری پوری دیانت داری سے معلومات فراہم کرے۔ زبان کے بارے میں وہی اندراج کرائے جو سچ ہے۔ یعنی کہ اگر آپ گھر میں، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، اردو، یا پاکستان کی کوئی بھی خوبصورت زبان بولتے ہیں تو دیانت داری سے اس کا اندراج کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مردم شماری میں دو فارم استعمال ہوتے ہیں۔ ایک مختصر اور ایک طویل۔ طویل فارم میں شہری سے اس کے سابقہ وطن، زبان، اور مذہب وغیرہ کے بارے میں تفصیلی سوال ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ زبانوں کی بنیاد پر آپ کی قومیت کی تعداد کا اندازہ نہیں کیا جاتا۔ کسی زبان کے رسم الخط، یعنی شاہ مکھی اور گر مکھی کی بنیاد پر تو بالکل بھی نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی مردم شماری کے طریقہ سے یوں بھی واقف نہیں ہیں کہ ان کے اپنے وطن میں تو سالہا سال سے مردم شماری ہوئی بھی نہیں۔ جب ہوئی بھی تو سندھ اور وفاق میں قضیہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں سالہا سال سے ہر اس شہری ادارے پر سے اعتماد ختم کیا گیا ہے جس کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نہایت ماہر اور تعلیم یافتہ افراد پر مبنی ہے لیکن گزشتہ دنوں ان پر بھی ریاست کے بعض لوگوں کی طرف سے سخت دباؤ ڈالا گیا اور ان کی کارگردگی پر شبہات اٹھائے گئے۔ ان کے گمان میں مردم شماری کے بارے میں ہائی کمیشن کا خط شاید ایسے ہی کسی دباؤ کے تحت لکھا گیا ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پنجابی بولنے والے شہریوں کی اکثریت ہے لیکن وہاں اس زبان کے فروغ اور خاص طور پر اس کے رسم الخط کے بارے میں کوئی بڑا کام نہیں ہوا۔ عام شہریوں کو تو گر مکھی اور شاہ مکھی کا فرق تک معلوم نہیں ہے۔ پنجابی زبان کے اپنے اخبار اور رسالے نہیں ہیں۔ نہ ہی اس کا رسم الخط سرکاری معاملات میں مستعمل ہے۔ ایسے میں کینیڈا کی مردم شماری میں گر مکھی اور شاہ مکھی کی بحث اٹھانا، نہ صرف لا یعنی ہے بلکہ صریح غیر دانشمندانہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے