جعلی منٹو، نقلی عصمت


سنتے آئے ہیں کہ بڑا ادیب چھوٹے ادیب کو کھا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر قرین قیاس ہے، مکمل سچ نہیں کہ سنجیدہ لکھنے والا بڑے ادیب سے متاثر ہوئے بغیر رہ تو نہیں سکتا لیکن وہ اس کی نقل بھی نہیں کرتا اور اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت سے ادب کی تخلیق کرتا ہے۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے نوجوان قلمکار، سب نہیں، لیکن ایک بڑی تعداد، بر صغیر کی دو اہم شخصیات، سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی سے متاثر ہوئے اور پھر انہوں نے ویسا ہی لکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی تحریروں کو پراگندہ کر لیا اور بزعم خویش خود کو منٹو ثانی کہلوانے لگے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کے دوست احباب نے ان کی بھرپور پذیرائی کی اور ان کی اس ”پراڈکٹ“ کی اس طرح سے تعریف کی کہ وہ اس خود ساختہ خطاب کو سچ سمجھنے لگے۔

مجھے منٹو یا عصمت کے بارے میں تفصیل سے کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کے بارے میں اتنا لکھا جا چکا ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں۔ پھر بھی آج کے جعلی منٹو اور نقلی عصمت چغتائی قبیل کے لکھنے والوں اور لکھنے والیوں کے لیے صرف اس پر اکتفا کروں گا کہ منٹو کا شمار اردو ادب کے مشہور اور بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ترقی پسندوں نے ان کو رجعت پسند قرار دے کر اپنی تحریک سے الگ کیا تھا اور رجعت پسندوں نے ان کی تحریروں کو فحش گوئی قرار دے کر ان کو مسترد کیا تھا۔

منٹو حقائق کا عکاس تھا۔ وہ نہایت استغنا، بے پروائی اور بہ کمال اطمینان خاطر وہ تمام نقشے الفاظ میں اتارتا تھا جو اس کو گردوپیش کی دنیا میں نظر آتے تھے۔ منٹو انسانی نفسیات کا نباض تھا۔ اس نے معاشرے کا مکمل طور پر مطالعہ کیا تھا۔ معاشرے میں جو ظلم، استحصال، لاقانونیت ہے، کمزوروں کو بطور سیڑھی استعمال کر کے شہرت عام و بقائے دوام حاصل کرنے والے چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر جو کردار ہیں، خاص طور پر عورت کے ساتھ معاشرہ میں جو ظلم روا رکھا جا رہا ہے اور ان کو جس انداز میں اپنی آتش ہوس بجھانے کے لیے بطور کھلونا استعمال کیا جا رہا ہے اور آج بھی پاکستان اور ارد گرد کا معاشرہ ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے اور قانون کے محافظ تک اس حمام میں ننگے ہیں۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں بڑی بے باکی اور جرات کے ساتھ ان چہروں سے نقاب اٹھایا ہے جو بظاہر کچھ، بہ باطن کچھ ہیں۔

اسی طرح عصمت چغتائی ایک ایسی مشہور فکشن نگار ہیں جنہوں نے ترقی پسند تحریک کے دور میں ناول کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ عصمت ایک ترقی پسند فکشن نگار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ناولوں کے علا وہ ان کے افسانے بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا خاص میدان عورتیں اور خاص طور پر متوسط مسلمان گھرانوں کی خواتین کی زندگی یا زمیندار گھرانوں کی بگڑی ہوئی عورتیں اور لڑکیاں ہیں۔ ان کی جنسیات سے عصمت کو خاص دلچسپی ہے۔

فرائڈ کے فلسفے میں وہ پورا یقین رکھتی ہیں کہ انسانی شخصیت پر سب سے زیادہ اثر ڈالنے والا پہلو اس کا جنسی پہلو ہے۔ تقریباً ہر جگہ اور ہر کردار میں وہ اس پہلو کی کھود کرید کرتی ہیں اور اسے نمایاں کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتیں۔ جنسی کج روی عصمت کو خاص طور پر متوجہ کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ کہیں کہیں فحش نگاری کے دلدل میں پھنسنے لگتی ہیں مگر وہ اپنی فنی بصیرت اور فنکارانہ مہارت سے اپنے فکشن میں مزید حسن پیدا کر دیتی ہیں۔

دراصل عصمت چغتائی ایک انقلابی ذہن کی مالک ہیں چونکہ ترقی پسند تحریک نے غریبوں اور مزدوروں کی حمایت میں متعدد ادبی اصناف کا سہارا لیا۔ عصمت چغتائی اس تحریک سے وابستہ ہو گئیں اور بالواسطہ طریقے سے اس پلیٹ فارم سے قدامت پرستی کے خلاف نڈر ہو کر اپنی آواز بلند کی۔ عصمت کے یہاں روایت سے بغاوت اور انحراف ہے۔ ان کے ناول حقیقت نگاری سے کافی قریب ہیں۔

آج کل کے وہ نوجوان جو لکھنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن اپنے خیالات کو ایک جگہ مرکوز نہیں کر پاتے وہ اپنے افسانوں اور شاعری میں عجب بے ڈھنگے اور بے تکے پن سے جنس یا جنسی لذت کا حوالہ دینے لگتے ہیں اور ان کی تحریریں اور ان میں استعمال کیے گئے الفاظ بلکہ جنسی اعضا کے معروف نام، عریاں یا عریانی کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ نہ ان کی زبان شیریں ہوتی ہے نہ کرداروں کی حرکات و سکنات کا درست بیان ہوتا ہے۔ نہ انہیں کرداروں کی نفسیات اور مسائل کا ادراک ہوتا ہے بس ایک جنسی تلذذ پیدا کرنے کی ناکام کوشش نظر آتی ہے جس سے تلذذ تو درکنار ایک طرح کی ذہن خراشی پیدا ہوتی ہے۔

انٹر نیٹ پر آپ کو بے شمار ایسی کہانیاں اور نظمیں ملتی ہین جن میں انسانی جسم کے اعضا کا ذکر ایسی زبان میں ملتا ہے جو ہمارے ہاں عام بول چال یا روزمرہ کی نہیں۔ جنسی معاملات میں جو فطری سحر انگیزی اور انبساط پایا جاتا ہے اسے بھی یہ خواتین و حضرات کسی مہذب لہجے میں عکس کرنے کی بجائے شہوانی اسلوب میں بیان کرتے ہیں اور پھر بضد ہیں کہ انہیں منٹو یا عصمت سمجھا جائے۔ طرہ یہ کہ اس پر اپنے آپ کو ترقی پسند یا لبرل بھی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔

مارکیٹ میں ایسے لکھنے والوں کی کچھ کتابیں بھی دستیاب ہیں لیکن زیادہ تر سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر پائے جاتے ہیں۔ ان کے مداح انہیں اس غلط فہمی سے نکلنے ہی نہیں دیتے کہ وہ آج کے منٹو یا عصمت ہیں۔ مزید براں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہلا شیری بھی دیتے ہیں کہ لکھو لکھو اور کسی کو وضاحت مت دو۔ ایسے میں کچھ ای میگزین اور گروپس بھی ان کی تحریروں کو اپنے صفحات پر جگہ دیتے ہیں جس سے ان کے ادیب ہونے کا تاثر ابھرتا ہے دراصل ان لوگوں نے پڑھ کر ہضم نہیں کیا ہوتا، ہوم ورک نہیں ہوتا، تجربہ اور مشاہدہ محدود ہوتا ہے لیکن جلد مشہور ہونے کی بے کراں خواہش ان سے ایسی تحریری لکھواتی ہے۔ کچھ لکھنے والوں کی تحریریں بتاتی ہیں کہ ان کا مطالعہ وسیع ہے اور ذخیرہ الفاظ بھی مناسب درجے کا موجود ہے اور جب وہ اس جنسی ملغوبے کے علاوہ کوئی کہانی یا نظم بنتے ہیں تو اس میں ادبی چاشنی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے لیکن مقبول ہونے یا فوری طور پر مشہور ہونے کی خاطر وہ ایسی کچی ادھ پکی جنس زدہ تحریریں سامنے لاتے ہیں کہ پڑھنے والا صرف افسوس اور ماتم ہی کر سکتا ہے۔

منٹو نے کہا تھا کہ ”اس برہنہ معاشرے کو برہنہ گوئی ہی سے زچ کیا جا سکتا ہے۔“ منٹو اور عصمت کی نقل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی برہنہ گوئی میں عریانی یا جنسی تلذذ نہیں تھا بلکہ وہ انسان کی سماجی، نفسیاتی اور جنسی مسائل سے متعلق تھیں، ایسے مسائل جو انسان کی پیدائش سے موت تک اس کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں یہ سب مسائل توجہ طلب ہونے کے ساتھ ساتھ حل طلب بھی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہمارا رویہ ان تمام مسائل کے حوالے سے منفی رہا ہے۔

ہر لکھنے والا اپنے انتخاب میں آزاد ہے کہ جو جی چاہے لکھے اور جیسا چاہے لکھے لیکن یہ ظلم نہ کرے کہ خود کو منٹو ثانی یا آج کی عصمت چغتائی سمجھ لے اور کاسہ لیس دوستوں اور تعلق تک رسائی کرنے والے ”بظاہر دوستوں“ لیکن در پردہ بے وقوفوں کی آراء سے اپنے آپ کو بہت بڑا ادیب سمجھ بیٹھے۔

Facebook Comments HS