EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جب میں نے جلوس پر بم پھینکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہفتہ کے روز صبح دکان کھول کے ابھی بیٹھا ہی تھا۔ کہ انجمن تاجران فیصل آباد کے تین عہدیدار آتے نظر آئے جن میں شیخ عبدالقیوم صاحب اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے بہت نمایاں تھے ( باقی کے نام ذہن سے اتر چکے ) ۔ انجمن تاجران میں آٹو پارٹس کے شعبہ کی نمائندگی میں اجلاسوں میں شرکت کی وجہ سے انجمن کے اکثر عہدیداروں سے شناسائی تھی اور کوئی آٹھ دس روز قبل جب میں سول ہسپتال میں ڈاکٹر ولی محمد صاحب سے اپنے دائیں بازو پہ پلستر لگوا نکلا تھا تو یہ (شاید پانچ تھے اس دن) عہدیدار وہاں ملے تھے جو چند روز قبل کے حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے تھے۔

اور میں انہیں صرف بائیں ہاتھ سے گاڑی چلاتے کچہری بازار چھوڑ کے آیا تھا اور اپنی کلائی کی ہڈی کی وجہ سے لگوائے پلستر کی داستان سنائی تھی۔ شیخ عبدالقیوم فرمانے لگے۔ کہ سامنے نیو کلاتھ مارکیٹ میں کسی سے ملنے آئے لیکن مارکیٹ ابھی بند لگتی ہے۔ سوچا آپ کے پاس بیٹھ گپ شپ کرتے انتظار کر لیں۔ دوبارہ میرے پلستر کا ذکر چھڑا اور باتوں میں دوبارہ ساری تفصیل سنی۔ اور چل دیے۔

ابھی انہیں نکلے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی اور میاں سعید اختر کی آواز سنائی۔ ”اوئے سنا ہے تم نے بم وغیرہ پھینکنے شروع کر دیے ہیں۔“ میں مذاق ہی سمجھ رہا تھا کہ بتانے لگے کہ کل جمعہ کے خطبات میں اکثر مساجد سے اعلان ہوا ہے کہ دو روز قبل حکومت مخالف جلوس میں جو دھماکہ ہوا تھا اور جس میں دو افراد ہلاک اور چند زخمی ہوئے تھے۔ وہ دھماکہ مشہور احمدی رفیق اینڈ برادرز کے شیخ لئیق احمد کے بم پھینکنے سے ہوا تھا۔ جس سے وہ خود بھی زخمی ہوا۔ جس کو شک ہو وہ جا کر اس کے بازو پہ پلستر لگا دیکھ لے۔

میرے حواس ابھی گم ہی تھے کہ جھنگ روڈ کے میرے بہت مہربان گاہک خوشی محمد آف افضل آٹوز نے۔ جو ہفتہ میں دو تین بار علی الصبح میری دکان سے خریداری کر کے دکان پر جاتے۔ بھی فون پر یہی داستان انہی الفاظ میں سنا رہے تھے۔ میری سٹی گم ہو چکی تھی اور ایک مرتبہ پھر تین سال قبل کی طرح آگ کے شعلے دکان سے نکلتے دیکھنے کا تصور کر رہا تھا مگر اب کے تو اپنی اور گھر والوں کی جانوں سمیت سب کچھ داؤ پہ تھا۔ اب فون پہ فون مختلف علاقوں سے گاہکوں دوستوں اور دکانداروں کے خیریت رہنے کی دعا کے ساتھ یہی فقرے دہرا رہے تھے۔ تب اندازہ ہوا کہ یہ اعلان ایک مسجد سے نہیں شہر بھر کی ایک یا دو مکاتب فکر کی اکثر جماعتوں سے ہوا ہے۔ اور شاید صبح بھی ایک دو مساجد کے لاؤڈ سپیکر چنگھاڑنے کی اطلاع آئی۔

ایک ہی سہارا تھا اور اسی سے مدد مانگ رہا تھا اور اسی کے آگے جھولی پھیلائے تھا۔ اور ہر ممکن جگہ فون کر کے صورت حال۔ کسی جلوس کسی پولیس دستے کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر۔ مکرو و مکراللہ و ہو خیرالماکرین۔ کے سچے ارشاد کے مطابق شاید خدائے بزرگ و برتر ان مذہب کے لبادہ اوڑھے ملک میں فساد و انتشار پھیلانے والے قیام پاکستان کے مخالف گروہوں کی سازش کو ناکام بنانے کا پہلے ہی بندوبست کر چکا تھا

چلئے اب پس منظر کی کہانی کے لئے۔

انیس سو ستتؔر کے الیکشن کی گہما گہمی اپنے انجام کو پہنچ رہی تھی۔ پورے ملک میں پاکستان قومی اتحاد کے نو ستارے گردش کر رہے تھے۔ فرقہ وارانہ منافرت کے درخت کو مزید تناور کرنے کے عوض سقوط ڈھاکہ کہ وقت ”پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے“ پر شکر ادا کرنے والے اور اپنی داڑھی سے بھٹو کے جوتے صاف کرنے کا وعدہ کرنے والے مذہبی رہنما اب اس جوتے کا رخ بھٹو کے سر کی طرف پھیر چکے تھے۔ آئے روز ہڑتال کا اعلان ہوتا۔

کبھی مکمل ہوتی کبھی جزوی۔ ایسے ہی ایک روز ہم پیدل دکان پہ جا۔ حالات کے پیش نظر بغیر کھولے چابیاں ہاتھ میں لئے ریلوے مال گودام فیصل آباد کے باہر اپنے دوست اشرف کے پاس چائے کی چسکی لگانے جا بیٹھے۔ اور پھر اشرف نے بھی دکان بند کی اور گھر جانے کے لئے اشرف کے سکوٹر کے پیچھے بیٹھ ہی رہے تھے کہ زن سے دو تین سکوٹر انتہائی تیز رفتار سے گزرتے دیکھے۔ اور ساتھ ہی ہمارا سکوٹر روانہ ہو گیا۔ کوئی سو قدم ریلوے پھاٹک کی جانب مڑتے اچانک پیچھے سے آگے آتے پولیس پک اپ نے ہمیں روکا اور ہمارے مکمل بریک لگانے پہلے آٹھ دس پولیس والے اتر کے ہمیں اچھی طرح لاٹھیوں کی برسات برسا دھکیل کھینچ پک اپ میں بٹھا چکے تھے۔

کہ ہم کارخانہ بازار میں جلوس کے نگران پولیس والوں پہ پتھراؤ کر بھاگے ہیں۔ ارد گرد کے دکاندار ٹرک اڈے والوں نے بہتیرا یقین دلایا کہ آپ کے مطلوب غالباً نکل چکے اور یہ تو اسی جگہ سے نکلے مگر کون یقین کرے۔ ایک دکاندار کے حوالے سکوٹر کر ہم دونوں ہتھکڑیوں کا زیور پہنے جھنگ بازار پولیس چوکی میں فرش پر براجمان تھے۔ تھانیدار صاحب کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رسؔا اتفاقا سامنے آ جانے والی بھینس کے گلے میں فٹ ہو چکا ہے۔

لہذا مزید کسی تشدد یا بد تمیزی گالم گلوچ کے نذرانہ سے بچے رہے۔ مگر پہلے سینکے گئے جسم ”درد لاٹھی درد لاٹھی“ کا گیت گاتے رہے۔ کوئی دو گھنٹے بعد مال گودام کے دو تین ٹرک اڈہ مالکان ڈھونڈتے پتہ کرتے چوکی پہنچے اور ایک گھنٹہ مزید بعد ہم ان مہربانوں کے سکوٹروں پہ پیچھے بیٹھ آ اپنا سکوٹر لے گھر کو رواں تھے۔ گھر پہنچے تو کہرام مچا اور محلہ اکٹھا تھا کہ اشرف کے ہمسائے آ کے بتا چکے تھے۔ جسم پر لاٹھیوں سے بنے کبابوں کو سینکتے جب صبح دکان پہنچے تو پہلا کام شکریہ کے ساتھ پولیس کو ہدیہ پیش کیے گئے چھ سو میں سے اپنے حصہ کے تین سو روپے اس محسن کو بھجواتے فون پر شکریہ ادا کرنے کا ہوا۔

مگر دوپہر ہوتے ہوتے دائیں ہاتھ کی کلائی کے چھوٹی انگلی کی طرف کے جوڑ میں اٹھتا جوڑ کسی ہڈی میں لاٹھی کی محبت کے نشانوں کی نشاندہی کر رہا تھا۔ سول ہسپتال جا محترم ڈاکٹر ولی محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تھوڑی دیر بعد ایکسرے میں کلائی کی چھنگلیا کے طرف کے جوڑ ہتھیلی کی طرف بال برابر کریک کے نشان کے بعد تین ہفتہ الاسٹک والی پٹی سخت باندھ بازو ہلانے سے باز رہنے کی نوید سنتے واپس آرہے تھے۔ کہ شدید گرمی میں ڈاکٹر صاحب نے پلستر نہ لگانے کا رحم فرمایا تھا۔

اب بزنس مین انسان سے زیادہ کاروباری ہوتا ہے۔ احتیاط میں چوک یا مسبب الاسباب کے رنگ کہ آٹھ دس روز بعد درد دوبارہ ناقابل برداشت ہو پھر ڈاکٹر صاحب کے سامنے پیشی پہ شفقت بھری جھڑکیوں کے سائے میں بطور انعام یا سزا چھ ہفتہ کے لئے کہنی سے اوپر تک پلستر لگوا ( لے فیر ہن ہلا کلائی نوں ) ان کے کمرے سے باہر نکل انجمن تاجران کے مذکورہ عیادت کے لئے آئے گروپ سے مصافحہ کرتے پوچھا کہ آپ فارغ ہو چکے تو چلئے میں چھوڑ دیتا ہوں۔ اور بائیں ہاتھ سے کار چلاتے کچہری بازار چھوڑ آیا تھا۔ اور اب صبح میرے پاس کوئی بیس منٹ بیٹھ یہ تین احباب جب اٹھ کر بجائے سامنے نیو کلاتھ مارکیٹ جانے واپس تیز قدم جاتے دیکھے تو کچھ تعجب بھی ہوا تھا۔

جب دوپہر تک ہم مذہبی غنڈہ گردی کی اس ( اب تک تقلید میں جاری و ساری ) نیک اور بہترین مثال کے عتاب سے محفوظ رہے اور کسی مسجد سے لوٹ لو جلا دو مار دو۔ ہڑتال۔ جلوس کے کسی مزید اعلان کی اطلاع نہ آئی تو خدا تعالی کا شکر بجا لیتے اچانک ایک چمکتا کوندا جھٹکے سے سب کچھ سمجھا چکا تھا۔ شیخ عبدالقیوم صاحب اور ساتھی جلوس پر بم ( اگر بم تھا ورنہ پہلے دھماکہ رپورٹ ہوا تھا۔ بم کا کوئی ذکر نہ تھا۔ ) کے واقعہ سے کئی روز قبل میرے بازو پہ پلستر لگا دیکھ اور تفصیل سن چکے تھے۔ اور آج مساجد کے منبر پر کھڑے خطیبوں کے اتہام کی حقیقت کو پہنچ دوبارہ تصدیق کرنے کے بعد تیزی سے واپس جاتے اس فتنہ کو رکوانے اور آگ پہ پانی ڈالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اور اس طرح خیر الماکرین کی تدبیر پیشگی ہی بدخواہوں کی اس پر تقصیر کے خلاف سازش کو ناکام بنا نے میں کامیاب ہو چکی تھی۔

شام گھر پہنچا ہی تھا۔ کہ گھنٹی بجی۔ میرے سامنے کے ہمسائے چوہدری طفیل صاحب جو ریلوے روڈ پہ سٹیشن کے قریب محکمہ انہار کے دفاتر میں شاید سپریٹنڈنٹ تھے۔ کھڑے تھے۔ فرمایا شرمندہ ہوں رات دیر سے گھر آیا سوچا سو چکے ہوں گے۔ صبح باہر نکلا تو آپ کار میں جاتے نظر آئے۔ میں کل کی بات بتاتا ہوں۔ جمعۂ المبارک کی نماز دفتر سے نکل سامنے ریلوے سٹیشن کی مولانا تاج محمود ( اس وقت فیصل آباد میں پاکستان قومی اتحاد کی مجلس عمل یا عاملہ۔ جس کا تقریباً روزانہ اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اجلاس ہوتا۔ فعال ترین اعلی عہدیدار تھے ) کی مسجد میں ادا کی۔ جب مولانا کہ منہ سے یہ سنا کہ رفیق اینڈ برادرز کے احمدی لئیق احمد نے بم پھینکا تو ہکا بکا رہ گیا۔ اس اتہام پر غصہ بھی آیا۔ اور اتنے بلند درجہ کے مذہبی رہنما کے جھوٹے اتہام پہ شرمندگی بھی ہوئی۔ نماز کے بعد ان سے جا ملا اور بتایا کہ محترم لئیق میرا ہمسایہ ہے جس دن اسے لاٹھیاں لگیں میں شام عیادت کر کے آیا۔

پلستر اتنے روز پہلے کا ہے۔ آپ نے یہ کیا الزام لگایا۔ تو کہا پتہ نہیں کہ ہم نے بھٹو کے خلاف شورش کو ہر حال میں بڑھانا ہے۔ اور یہ فیصلہ کل شام کے مجلس عمل ( یا جو بھی تھی ) کے اجلاس میں متفقہ ہوا تھا اور آج تمام مساجد سے خطبۂ جمعہ میں اس اعلان کا فیصلہ ہوا تھا۔ میں شرمندہ ہوں ہمارے مذہبی رہنما بھی اس کردار کے ہو سکتے ہیں۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا

اگلی صبح دکان پہ آیا۔ تو اسی اشرف کی سفارش سے میرے پاس کام سیکھنے آیا ہوا نوجوان۔ جو میرا دایاں بازو بندھا ہونے کے باعث وقتی طور میرا تحریری کام اور کیش گننے رکھنے دینے کی ذمہ داری سنبھالے تھا۔ مجھے علیحدہ لے جا بتانے لگا۔

آپ کو شاید پتہ نہیں میرے دادا فلاں مکتبہ فکر کے معروف رہنما اور بھٹو مخالف تحریک میں نو ستاروں میں شامل اس ستارے کی نمائندگی کرتے اس مجلس عمل میں عہدیدار ہیں۔ رات میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ظلم کیا اور بہتان باندھا گیا ہے۔ تو کہنے لگے ہاں وہاں اجلاس میں متفقہ یہ فیصلہ ہوا تھا۔ مجھے شک تو تھا کہ وہی بندہ ہے جہاں تم سیکھتے ہو۔ مگر میں روکتا بھی تو کون سنتا۔ کافی دنوں بعد کسی دوست نے بتایا۔ انجمن تاجران کے عہدیداروں نے جمعہ کی شام ہی آپس میں رابطہ کر کے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ کھلا بہتان ہے۔ کچھ سیاسی مذہبی لیڈروں کو بھی بتا دیا گیا۔

تاہم صبح دوبارہ تصدیق کا فیصلہ کرتے اور خفیہ میرے ہمسایہ دکانداروں سے بھی حقیقت جانتے میری دکان سے واپس جاتے ہی پاکستان قومی اتحاد کے مقامی رہنماؤں کو اس گھٹیا پن پہ لعنت ملامت کرتے کسی مزید قدم سے رکنے ورنہ آئندہ انجمن تاجران سے کسی تعاون کی امید نہ رکھنے کی دھمکی تھی۔ یہ کہ ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے۔

چوالیس سال گزر چکے۔ بیس سال قبل ان جھنکاروں نقادوں سے بچنے کے لئے ملک چھوڑ کینیڈا آ بسے۔ ہر موسم تبدیل ہوتے یا یونہی اس چوٹ کی جگہ دباتے ہلکا سا درد اب بھی اٹھتا ہے۔ تو لاٹھیوں کی جھنکار سے زیادہ نو ستاروں کے فیصل آبادی ستاروں کی نیکی بھی جمعۂ المبارک کے خطبہ سے نکلتی آگ کی یاد دلاتی ہے۔ جو پھر شیخ عبدالقیوم مرحوم اور ان کے مہربان ساتھیوں کی نام بھول جانے کے باوجود مسکراتی شکلیں سامنے لاتی خدا تعالی کے ساری زندگی دکھائے جاتے نشانوں اور احسانوں میں سے اس احسان کا پھر شکر بجا لانے کا موقع عطا کرتی ہے جس نے ایک ابتلا کے بعد اس کا مداوا کر کے دوسرے بڑے ابتلا سے بچنے کا پیشگی انتظام ان دوستوں کے ذریعہ کر رکھا تھا۔ خدا تعالی انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے