ایک ترقی پسند فیمنسٹ بیٹی کے نام ماں کا خط
دختر من۔
پیار۔
کہا تھا نہ میں نے کہ جب تک تمہارا یہ من چلا دل اور بھس بھرا بھیجا اس نتیجے پر نہ پہنچے کہ تم اس کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو تب تک اس بچے والے کھٹراگ کی ضرورت نہیں۔ پر تم تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھیں۔ اس وقت وہ تمہیں خوبیوں کا مجسمہ نظر آتا تھا اور تم لمحہ بھر کے لیے بھی یہ سننے کے لیے تیار نہ تھیں کہ انسان خوبیوں خامیوں کا مرکب ہے۔ ڈھلے ڈھلائے پیکر کہیں نہیں ملتے۔ ناتا جڑتا ہے تو مفاہمت شرط اول بن جاتی ہے۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن بمشکل گزرے ہوں گے کہ تو تو میں بھی شروع ہو گئی۔ چلو تو تو میں میں تو میاں بیوی کی زندگی کا ایک لازمی جز ہے ہی۔ مگر ہاتھا پائی والی بات تو قطعی پسندیدہ نہ تھی۔ تاہم جب تم نے بتایا کہ اماں اس نے مجھے تھپڑ مارا تو جواباً میں نے بھی ہاتھ دکھایا۔ آخر جوڈو کراٹے کی بلیک بیلٹ تھی میں۔ سچ کہتی ہوں تکلے کی طرح سیدھا ہو گیا۔ انسانی فطرت ہے کمزور کو دیکھ کر غراتا ہے اور طاقت ور کے سامنے عاجز بنتا ہے۔
اندر سے میں خوش ہوئی تھی کہ تمہاری یہ بات درست تھی۔ اس کمبخت مرد کی جھوٹی انا بیوی پر تشدد کر کے بڑی تسکین پاتی ہے۔ تاہم میں نے نرمی سے کہا۔
”دیکھو مفاہمت بہت اہم ہے۔ ایک بندے کو اگر غصہ آ جائے تو دوسرا تھوڑا سا صبر کر کے برداشت کر لے تو بات نہیں بڑھتی۔ مگر جب دونوں کی اناؤں کا مسئلہ کھڑا ہو جائے تو پھر بات تو بڑھتی ہی ہے نا۔ تم تھوڑا برداشت کرنا سیکھو۔“
مگر تم نے بھڑک کر کہا تھا۔ ”آخر عورت کو ہی یہ برداشت والا سبق کیوں پڑھایا جاتا ہے۔“ ”ایسی بات نہیں۔ استثنائی صورتیں ہر دو کے ساتھ ہیں۔ صبر والے مرد اور بے صبری و جھگڑالو عورتوں کی بھی کمی نہیں۔“
اب بچے کی بھی بڑی بیتابی و شتابی تھی تمہیں۔ سال بھی نہ گزرنے دیا کہ بچہ پیدا کر لیا۔ جب میں نے کہا ذرا صبر کرلینا تھا۔ اس وقت تمہاری آنکھیں اور چہرہ ممتا کی روشنی سے دمکتا تھا۔ بچے کو چھاتی سے لپٹاتے ہوئے تم نے کہا تھا ”بچے کے بغیر تو میں بڑی ادھوری سی تھی۔ تکمیل ہوئی ہے میری۔“
پر تماشے بھی ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے۔ ”بچے کی پرورش ہم دونوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میرا ہاتھ نہیں بٹاتا ہے۔“ ہر دوسرے دن گلے شکووں کے پلندے تم مجھے فون پر سناتی۔
اور بچہ جب تین سال کا تھا تم نے ایک دن مجھے بتایا کہ میں نے طلاق لے لینی ہے۔ زندگی کو عذاب نہیں بنانا۔
”سنو کسی خوش فہمی میں مت رہنا۔ مردوں میں اتنا گردہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کسی کے بچے کو اپنا بچہ سمجھیں۔ ایک بات مشہور ہے۔ مرد کو عورت ہمیشہ دوسرے کی اور بچہ اپنا اچھا لگتا ہے۔ اسی لیے میں بکواس کرتی تھی کہ بچہ پیدا کرنے میں جلدی مت کرو۔ مقصد اتنا سا تھا کہ اس وقت میں بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ گاڑی چلے گی یا نہیں۔ اگر نہ چلنے کے سو فی صد امکان ہوں تو علیحدگی مسئلہ نہیں ہوتی۔ دوسری شادی کرو۔ وہ بھی ناکام ہو تو تیسری۔ آپ کا مذہب جسے خیر سے رجعت پسند کہا جاتا ہے آپ کو پورا حق دیتا ہے شادیاں کرنے کی۔ ہاں اگر مذمت ہے تو بس یہی زنا کاری کی۔
بھڑکتے ہوئے تم نے کہا۔ ”لعنت ہے اس شادی وادی پر۔“ ساتھ ہی ملالہ کا حالیہ بیان داغ دیا۔ مجھ ماں کے تن میں بھی آگ لگ گئی۔ ”تم جیسی بڑی پروگریسو فیمنسٹ عورتیں انسانی فطرت کی جبلتوں سے کیا ناواقف ہیں؟ بھوک اور سیکس پہلی اور دوسری جبلت کی تندی و تیزی کیا کیا تماشے کرواتی ہے۔ میرے خیال میں تم بخوبی آگاہ ہو۔ انہیں اگر کسی قاعدے کلیے میں نہ باندھا جائے تو جو جو کچھ ہوتا ہے اس پر مجھے چنداں بحث کی ضرورت نہیں۔
اور یہ تم ملالہ کی پروگریسو سوچ اور بیان بازی کو ہتھیار مت بناؤ۔ دوپٹہ سر پر رکھنا ہے کہ وہ پختون کلچر ہے اور شادی کی ضرورت نہیں۔ واہ خوب کہی۔ متمدن معاشروں میں صدیوں سے شادی ایک اہم اور مستند institutionکے طور پر مروج رہی ہے اور ابھی بھی ہے۔ انسان ریوڑوں میں پھرنے والے جانور تو نہیں کہ جس کے ساتھ جب اور جس وقت جی چاہا منہ ماری کرلی۔
”چھوڑئیے اپنی ان دقیانوسی باتوں کو کہتے ہوئے تم نے اب بل گیٹس اور ملینڈا کی مثالیں دینا شروع کردیں۔
یا االلہ جی چاہا تھا اپنا سر پھوڑ لوں۔ کج بحثی پر اتری ہوئی تھی۔ جی چاہتا تھا لتر لگاؤں۔ خبردار اب اگر تم نے مجھے بل گیٹس ملینڈا اور مغربی معاشرے کی مثالیں دیں۔ ستائیس سال کی ازدواجی زندگی پھولوں کے بستر پر نہیں گزری ہو گی۔ کانٹے بھی چبھے ہوں گے۔ برداشت کیا ہوگا نہ ایک دوسرے کو۔ تو اب کیا مرنا ہوا۔ کچھ وقت اور اکٹھا گزار لیتے۔ بس چونچلے ہیں سارے۔ جب اتنا پیسہ ہو۔ زندگی عیش و عشرت کے جھولوں میں جھولتی ہو۔ تو پھر انسانی فطرت ہے اسے نئے نئے شوشے تو سوجھتے ہی ہیں۔ دس دن بندہ گوشت کھاتا رہے تو گیارہویں دن لہسن پیاز کی چٹنی کے لیے مرا جاتا ہے۔
بڑھاپا، بیماری، تنہائی۔ ان دیکھے مسائل اور مصائب سب زندگی کی وہ کڑی حقیقتیں ہیں جن کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ساتھی کی ضرورت خواہ جسمانی ہو یا روحانی جوانی کی ضرورت ہی نہیں بڑھاپے کی بھی ہے۔ گو آئیڈیل تو نہیں مگر ممکنہ حد تک قابل قبول زندگی کی فراہمی ممکن ہوجاتی ہے۔
بلند بانگ دعوے، کھوکھلے نعرے، بڑی بڑی باتیں سب بیکار ہیں۔ جڑت اور مفاہمت کو تھوڑی سی محبت، تھوڑی سی قربانی، تھوڑے سے ایثار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی فراہمی انسان کو ہواؤں میں آوارہ اڑنے والے کاغذ بننے سے بچا لیتی ہے۔


