میرے قائد اعظم محمد علی جناح صاحب
اسلام علیکم امید ہے آپ جنت الفردوس میں خیریت سے ہونگے اور وہاں پر بھی آپ کا شمار اللہ کے پسندیدہ ترین لوگوں میں سے ہوگا اور پاکستان بنانے والے آپ کے سب ساتھی بھی وہیں آس پاس رہائش پذیر ہونگے خوب رونق ہوگی کہیں جوہر برادران کہیں علامہ محمد اقبال کہیں مادر ملت فاطمہ جناح صاحبہ کہیں لیاقت علی خاں صاحب کہیں فیض صاحب کہیں حفیظ جالندھری صاحب اور کہیں شہداء آزادی کیا سماں ہوگا پر قائد جی آپ کا آج کا پاکستان مشکلات کا شکار ہے مجھے یہ بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ آپ کا پاکستان ہم سنبھال نہ سکے آپ کی بیماری میں ہم آپ کو علاج تو دور کی بات ایمبولینس بھی پٹرول سمیت مہیا نہ کر سکے ہم قائد جی شرمندہ ہیں یہاں جو بھی حکومت کا دعویدار آتا ہے غریبوں کا حامی آتا ہے سب کے سب سینکڑوں اور ہزاروں کنال کے گھر میں رہتے ہیں بلٹ پروف بم پروف گاڑیوں میں بھی سیکورٹی گارڈوں ساتھ چلتے ہیں قائد جی مجھے شرم آتی ہے آپ کو بتاتے ہوئے ساری زندگی جو کام آپ نے ناپسند کیے یہ پاکستانی بڑے فخر سے کہتے ہیں قائداعظم کی سفارش کروائی تو یہ ناجائز کام ہوا ان کو شرم سے موت کیوں نہیں آجاتی قائد جی مجھے شرم آتی ہے آپ کو بتاتے ہوئے یہاں ہر بندے کے لئے قانون مختلف ہے توہین مختلف ہے کوئی صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے سوری بولے تو سوری قبول ہوجاتی ہے اور کوئی جج کی شان میں گستاخی کرے تو جیل میں بند۔
قائد جی مجھے شرم آتی ہے آپ کو بتاتے ہوئے ہر چیز میں ملاوٹ جھوٹ مکر فریب دھوکہ سازش کیا کیا بتاؤں آپ کے مزار کے کمرے تک یہ بد بخت نوجوان جوڑوں کو کرائے پر دے دیتے ہیں۔ قائد جی آپ کے بعد کوئی قیادت اس قابل نہیں آئی جو آپ کے سائے کے برابر بھی مخلص ہو۔ کبھی فوجی حکمران اور کبھی سول حکمران سب نے نوچ نوچ کھایا آپ کے پاکستان کو۔
آپ کو جان کر تکلیف تو ہو جتنا پورے پاکستان کا بجٹ تھا سب ملازمین کی تنخواہ تھی اس سے کہیں زیادہ خرچ کر کے تو ایک ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہوتا ہے۔ پر ان کو شرم نہیں آتی قائد جی جیسی قوم آپ ہمیں بنانا چاہتے تھے ہم نہیں بن سکے ہم شرمندہ ہیں جیسے آپ انصاف پسند تھے ہم نہیں بن سکے شرمندہ ہیں 1971 آدھا پاکستان ہم نے کھو دیا کشمیر آج تک لے نہ سکے باقی ملک کا انتظام ہمارے بس میں نہیں ہاں ہم نے ایٹمی دھماکے کر لیے ہیں کینسر ہسپتال بنا لئے ہیں موٹروے میٹرو اورنج ٹرین سڑکیں ڈیم ایک ارب درخت لگا لئے ہیں اور ہاں جی ہم نے ہوائی بری بحری فوج کے ساتھ ساتھ بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے بھی بنا لئے ہیں قائد جی کیا کیا بتاؤں ہم نے سو کے قریب ٹی وی چینل بھی بنا لئے ہیں کئی آسکر ایوارڈز بھی لے لئے ہیں اور تو اور نوبل پرائز بھی ہمارے پاس ہیں پر ہم پھر بھی شرمندہ ہیں کہ ہم ایک قوم نہ بنا سکے۔
ہم ایک اللہ۔ ایک رسول۔ ایک قرآن کے ماننے والے ہیں اور 72 فرقوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں اکثر 72 فرقے یاد رہتے ہیں اور باقی سب بھول جاتا ہے قائد جی یہاں اقلیتوں کے حقوق سلب ہوتے جو حق میں بولے مار دیا جاتا ہے قائد جی میرے بزرگ بھی ہندوستان سے پاکستان آئے اور پاکستانی کہلائے الحمدللہ۔ پر کچھ بدبخت 71 سال میں بھی مہاجر ہی ہیں۔ کیا کیا بتاؤں سب کو اپنا اپنا صوبہ چاہیئے 20 کروڑ عوام 20 کروڑ صوبے بنانا چاہتی ہے کیا کروں۔
قائد جی ہمارے لیڈر جب یہ کہتے ہیں کرپشن پر ہمارا بھی حق ہے تو میں کیا کہوں۔ قائد جی آپ نے سب کچھ کیا ہمیں آزاد ملک لے کر دیا الگ شناخت لے کر دی ہمارے لئے دن رات کام کیا اور اپنی صحت جان کی بھی پرواہ نہیں کی ایک ایک پیسہ ہمارا بچایا پر یہ سو سو گاڑیاں ساتھ لے کر چلتے ہیں چارٹرڈ طیارے استعمال کرتے ہیں کسی کا مال و دولت عزت محفوظ نہیں ان سب کے بچے ملک سے باہر ہیں یہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں اپنے بچوں کو آپ کے ملک میں۔
یہاں کبھی تشریف لائیں ان کو سمجھانے اصل میں نہیں آسکتے تو ان کمینوں کے خواب میں ہی آ جائیں ان کی راہنمائی کریں اور ان کو کہیں یہ آپ کا جذبہ۔ لگن۔ اصول یاد رکھیں اتحاد۔ تنظیم۔ اخوت۔ یقین محکم پر باعمل سیاستدان بنیں نہ کہ چور ڈاکو لٹیرے بنیں۔ قائد جی اچھا ہوا آپ جلدی فوت ہو گئے ورنہ پتہ نہیں یہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتے قائد جی یہاں زینب خدیجہ فاطمہ مریم کوئی محفوظ نہیں ہے آدمی کم گدھ زیادہ ہیں نوچ رہے ہیں سب کو۔ قائد جی آپ لیڈر بھی شاندار اور وکیل بھی شاندار ایک درخواست کروں اگر ناراض نہ ہوں تو۔ اللہ جی کی عدالت میں ہمارا ایک مقدمہ تو لڑیں کہ وہ ہمیں ایک قوم ایک فرقہ تو بنا دے بے شک لیڈر اور عالم سب واپس لے لے وہ کسی بھی لیگ کا ہو جماعت کا ہو یا تحریک کا بس قائد اعظم محمد علی جناح واپس کردے۔


