جنید بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی-ایچ-ڈی کے خواہش مند ہیں
جنید کا تعلق چیچیاں میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ میٹرک میں اے جے کے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف اے میں اے جے کے بورڈ میں ٹاپ کر کے والدین کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج کل یونیورسٹی آف گجرات سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں گریجویشن کر رہے ہیں۔ مستقبل میں سی ایس ایس اور بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جنید کی پیدائش 29 مئی 1999 ء کو (چیچیاں ) میرپور آزاد کشمیر میں ہوئی۔ والد صاحب گورنمنٹ کالج میں بائیو کے ٹیچر ہیں۔ والدہ صاحبہ خاتون خانہ ہیں۔ والدین نے پوری توجہ بچوں کی تعلیم پر مرکوز کر رکھی ہے۔ خاندان چھ بھائی بہنوں پر مشتمل ہے۔ جنید کا نمبر پانچواں ہے۔ جنید سے بڑے بھائی بھی قوت بینائی سے محروم ہیں جنھوں نے حال ہی میں یونیورسٹی آف گجرات سے سیاسیات میں ایم فل کیا ہے۔ جبکہ باقی بھائی بہنیں تعلیم کے مراحل کامیابی سے طے کر رہے ہیں۔
جنید بچپن ہی سے بینائی کے مسائل کا شکار ہیں۔ والدین نے علاج کے لئے ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں اور نامی گرامی ڈاکٹروں سے رابطے کیے۔ جب ملک میں بات نہ بنی تو علاج کے لئے لندن لے گئے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
جنید نے بچپن گاؤں میں ہی گزارا۔ چھ سال کی عمر میں ان کا داخلہ بینائی سے محروم بچوں کے خصوصی سکول عقاب میں کروا دیا گیا۔ یہ سکول بلامعاوضہ نابینا بچوں کو بریل اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔ عقاب سکول پروفیسر الیاس ایوب صاحب چلا رہے ہیں جو کہ خود بھی نابینا ہیں۔ پروفیسر صاحب کو حال ہی میں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا ہے۔
2017 ء میں جنید نے عقاب سکول سے میٹرک پاس کیا اور 990 نمبر حاصل کر کے اے جے کے بورڈ کے ہیومنٹیرین گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ والد صاحب پڑھائی کے اتنے دلدادہ ہیں کہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات سے تین ماہ قبل دو اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کیا کرتے جو جنید کی امتحانات کی بھر پور تیاری کرواتے۔
جنید کہتے ہیں کہ بریل اور سکرین ریڈر نے نابینا انسانوں کی زندگی کو بہت آسان کر دیا ہے۔ بریل کا نظام چھ نقطوں پر مشتمل ہے۔ جس میں نقطوں کے کمبینیشن سے بچوں کو حروف تہجی پڑھائی جاتی ہے۔ اسی طرح سکرین ریڈر ایک سافٹ ویئر ہے جس کی مدد سے موبائل کی سکرین پر لکھے الفاظ کو آواز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور یہ سافٹ ویئر نابینا افراد کو سکرین پر کی جانے والی ہر سرگرمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
میٹرک کے بعد جنید کا داخلہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میر پور آزاد کشمیر میں ہوا۔ کالج کی زندگی جنید کے لئے قدر مشکل ثابت ہوئی کیونکہ یہ کالج نارمل طالب علموں کا تھا۔ اساتذہ اکرام نابینا سٹوڈنٹس کی مشکلات اور ضروریات سے ناواقف تھے۔ اساتذہ آتے لیکچر دیتے اور چلے جاتے۔ والد صاحب جنید کی مشکلات سے اچھی طرح واقف تھے۔ انھوں نے جنید کے لئے ٹیوشن کا انتظام کیا۔ جنید ڈھائی بجے کالج سے فارغ ہوتے تو تین بجے ٹیوشن کا ٹائم شروع ہو جاتا جو کہ چھ بجے تک جاری رہتا۔ کالج اور ٹیوشن کی سخت روٹین کی وجہ سے جنید کو اپنی تمام غیر نصابی سرگرمیاں ترک کرنا پڑیں۔
روٹین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے جنید نے جنوری کے مہینے میں کورس مکمل کر لیا اور پھر اسے دہرانا شروع کر دیا۔ مئی اور جون 2019 میں امتحانات کا انعقاد ہوا۔ ستمبر میں رزلٹ آیا تو جنید نے پورے اے۔ جے۔ کے بورڈ میں ٹاپ کر کے سب کو ایک بار پھر حیران کر دیا۔ جنید کالج گئے تو دوست، اساتذہ اور کالج انتظامیہ سب حیران رہ گئے کہ بینائی سے محروم اس بچے نے یہ سب کیسے کر ڈالا، نوٹس کیسے بنائے، تیاری کیسے کی وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کرنے لگے۔
جنید یونیورسٹی آف گجرات سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں گریجویشن کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی ان کے گھر سے پچھتر کلومیٹر دور ہے۔ گھر سے یونیورسٹی کا سفر تین گھنٹے کا ہے۔ اس لیے جنید نے ہاسٹل میں رہنا شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹی میں جنید کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ جنید ایک کرشماتی ڈیوائس آربٹ کے ذریعے تمام لیکچر بریل میں نوٹ کر لیتے ہیں۔ پورے ہفتے کا کام جمع کر کے جنید گھر چلے جاتے ہیں جہاں گھر کے تمام افراد مل کر ان نوٹس کو ترتیب دیتے ہیں۔
جنید یونیورسٹی کی تمام سرگرمیوں میں نارمل بچوں کی طرح حصہ لیتے ہیں۔ اسائنمنٹس وقت پر جمع کرواتے ہیں، کوئز اور پریزینٹیشنز میں بھر پور حصہ لیتے ہیں۔ جنید نے ضرورت کے بہت سے سافٹ ویئر پر عبور حاصل کر رکھا ہے۔ نوٹس اور اسائنمنٹس کی تیاری میں کبھی دوسرے ساتھیوں سے مدد نہیں مانگتے۔ جنید کہتے ہیں کہ انسان ہمت اور حوصلے سے ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔
جنید فارغ وقت کتابوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں۔ ناول اور تاریخ پر لکھی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے جنید نے ڈالفن ایزی ریڈر نامی سافٹ ویئر انسٹال کر رکھا ہے جس کی مدد سے یہ کتاب سن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں پڑھنا مقصود ہو وہاں بریل کا سہارا لیتے ہیں۔
جنید کو کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ بچپن سے کرکٹ کھیلتے چلے آ رہے ہیں۔ بیٹنگ کرنا پسند کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں ڈومیسٹک لیول تک کی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ والد صاحب کے مشورے پر جنید نے کرکٹ کو خیر آباد کہ دیا اور اپنی تمام تر توجہ پڑھائی پر مرکوز کردی۔ جنید نے کرکٹ کھیلنا تو چھوڑ دی لیکن دیکھنے کا شوق اب تک باقی ہے۔ بڑے شوق سے پورے پورے ٹورنامنٹس سنا کرتے ہیں۔ جنید کو شاعری کرنے، موسیقی سننے اور گنگنانے کا بھی شوق ہے۔ دن میں آدھا گھنٹہ ریاض ضرور کرتے ہیں۔
جنید کہتے ہیں کہ معذوری ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو کمتر محسوس کرے اور نہ ہی ایسی رکاوٹ ہے کہ جس کی وجہ سے آگے بڑھنا چھوڑ دے۔ معذوری زندگی کو مختلف انداز میں جینے کا نام ہے۔ ایک ایسا انداز جس کی مدد سے آپ دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
جنید کہتے ہیں کہ یہ نہ تو اپنی معذوری سے انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے دور بھاگ سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اسے دل سے قبول کیا۔ اس کا مقابلہ کیا۔ اس کے ساتھ جینا سیکھا۔ جس کے بعد اب یہ اپنی زندگی کا بھر پور مزہ لے رہے ہیں۔
جنید خوش ہیں کہ قدرت نے انھیں صرف آنکھوں کی نعمت سے محروم رکھا، یہ اپنے قدموں سے چل سکتے ہیں، چیزوں کو پکڑ سکتے ہیں، پھولوں کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں، بول سکتے ہیں اور سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنید جب بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو گننا شروع کرتے ہیں تو اس کا بے حد شکر ادا کرتے ہیں۔


