ریاست کا وجود


جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل کی نشاندہی کی تھی۔ آپ کے اشعار ہر دور میں ہونے والے واقعات پر صادق آتے ہیں۔ علامہ نے مذکورہ بالا شعر کو کب، کیوں اور کس تناظر میں بیان کیا ہوگا، یہ تو مجھے نہیں معلوم۔ لیکن آج جو پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کا حال ہے، اس پر یہ شعر ضرور صادق آ رہا ہے۔

گزشتہ دنوں بجٹ سیشن کے دوران ہونے والے قومی اسمبلی میں طوفان بدتمیزی پر جمہوریت اور سیاست سے بیزاریت اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ویسے تو ہمیشہ ہی ایسے واقعات ہوتے رہتے تھے مگر اب ننگی اور فحش گالیاں جنہیں اخلاقی اور دینی اعتبار سے سخت معیوب سمجھا جاتا تھا وہ دینا قابل افسوس ہے۔ ویسے گالیاں دینا اب پنجاب کا کلچر بن گیا ہے، (بقول شیخ روحیل اصغر) ۔ ہم نے تو پنجاب کا کلچر بلھے شاہ، بابا فرید، خواجہ غلام فرید، داتا علی ہجویری، میاں میر لاہوری، فیض، امجد اسلام امجد کے ذریعے ہمیشہ تہذیب و تمدن اور محبت اور خلوص سے منور دیکھا ہے۔ یہ کلچر کب آیا پتہ نہیں۔ (ویسے بھی کراچی والوں کو اپنے مسائل سے فرصت ملے تو دوسروں کے کلچر کے بارے میں سوچیں ) ۔

ازل سے لے کر آج تک مجلس شوریٰ کا کردار مسلمہ رہا ہے۔ مگر اب پاکستانی جمہوریت اور سیاست کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عام آدمی کے پاس کوئی انتخاب باقی نہیں رہا۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ویسے بھی وطن عزیز میں قانون نام کی کوئی شے کا وجود نہیں۔ جنگل کا قانون ہے۔ ہر جانور کا اپنا ایک الگ قانون ہے۔ جو جتنا طاقتور ہے اس کا قانون ویسا ہی ہے، جس کا جو دل کرتا ہے وہ کرتا ہے۔ چھوٹے جانوروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اسی طرح غریب آدمی کا کوئی غم گسار نہیں۔ آپ یہی دیکھ لیں کہ چیف جسٹس گلزار احمد صاحب کراچی میں غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، جو خوش آئند اقدام ہے مگر وہی قانون کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔

غیر قانونی عمارتیں منہدم کریں، قبضہ کی ہوئی زمینیں واگزار کروائیں، مگر محرکات کو سزا دیے بغیر اس مسئلے کا سدباب قطعی ناممکن ہے۔ غریب کے سر سے چھت تو چھینی جا رہی ہے، کاروبار تباہ کیا جا رہا ہے، مگر زمین پر قبضہ کر کے اسے فروخت کرنے والے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، پھر ان پلاٹوں کو لیز دینے والے سرکاری اہلکاروں، اور قانون نافذ کرنے والوں کی نا اہلی اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو نظر انداز کرنا انصاف کی حکمرانی نہیں بلکہ صرف اور صرف ظلم و زیادتی ہے۔ کوئی اگر اسے قانون اور انصاف کہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد صاحب کہتے ہیں کہ سندھ کے علاوہ پورے پاکستان میں ترقی ہوئی ہے، بہت اچھا کہا، سننے میں بھی بہت بھلا لگا چونکہ حقیقت بھی یہی ہے۔

مگر صرف کہنے سے، بولنے سے مسئلہ کا حل ہو جائے گا؟
آپ منصف اعلیٰ ہیں، آپ وزیراعظم کو کٹہرے میں لا سکتے ہیں، تو وزیراعلیٰ کی کیا اوقات۔
آپ کٹہرے میں بلوائیں، یونس میمن کون ہیں پوچھیں؟
ترقی کیوں نہیں ہو رہی، سوال کریں؟
کرپشن کون اور کیسے کر رہا ہے تحقیقات کروائیں، سزائیں دیں۔
جن پر کرپشن کے الزامات ہیں انہیں جلد مکمل کر کے عبرت کا نشان بنائیں۔

صرف زبانی جمع خرچ سے ریاستیں نہیں چلا کرتی۔ انصاف اور انسانی حقوق کی فراہمی سب سے اولین شے ہوتی ہے۔ اور جو ریاست ان دونوں بنیادی حقوق کو فراہم کرنے سے عاری ہو اس کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا۔

ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں، انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان ہی چاروں ستونوں نے ریاست کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرنے میں مکمل طور پر مفلوج ہے۔ ہر کوئی اپنا اپنا مافیا بنا کر بیٹھا ہے۔ کسی کو ڈر و خوف نہیں کہ ریاست ظلم کے خلاف اپنا کوئی کردار ادا کرے گی۔ جسم جب مفلوج ہوجاتا ہے تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا، وہ بے کار ہوجاتا ہے۔ یہی حال انتظامیہ (حکومت) کا ہے۔

مقننہ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ جہاں قانون سازی ہوتی ہے وہاں کا حال اور گلی محلوں کی لڑائی سے مختلف نہیں۔ گالم گلوچ، مار پیٹ سب جائز ہو چکا ہے۔ مقننہ اب جاہل، بدتمیز، بدتہذیب، بدعنوان، ظالم اور جابر لوگوں کی آماج گاہ بن چکی ہے۔ جہاں پر صرف اور صرف منافقت اور ظلم کی بات ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہے۔ انہیں کوئی سروکار نہیں کہ یہ جن کے نمائندے ہونے کے دعویدار ہیں ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

عدلیہ کی حالت زار پر کف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاں امیر کو جلدی انصاف ملتا ہے تو غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے اور مرنے کے بعد بری بھی کر دیا جاتا ہے۔ ایسی عدلیہ پر شلواریں ہی لٹکتی ہیں۔ عدلیہ کے بارے میں کوئی بات کرے تو توہین عدالت لگ جاتی ہے۔ مگر انصاف نہیں ملتا۔ عدلیہ سے اگر انصاف کی توقع ہے تو آپ کو حضرت ایوب علیہ السلام جیسا صبر اور قارون جتنا خزانہ درکار ہے۔ رشوت کے بغیر تو چپڑاسی بھی اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ انصاف فراہم کرنے والے ادارے میں منصف کی ناک کے نیچے بیٹھا ”پیش کار“ پیسے لے کر فائل اوپر نیچے کرتا ہے۔ ایسے ادارے سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، جو خود اپنے اندر بدعنوانی ختم نہ کرسکے۔ انصاف مہیا نہ کرسکے۔

رہی بات چوتھے ستون ذرائع ابلاغ (میڈیا) کی، تو اس کے کیا ہی کہنے۔ اگر منافقت کی اعلیٰ ترین مثالیں پیش کرنا مقصود ہو تو میڈیا سرفہرست رہے گا۔ اپنے مفاد کی خبریں نشر کرنے، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کا لبادہ پہنانے میں میڈیا نے وکلاء سے میدان مارا ہوا ہے (معذرت کے ساتھ) ۔ ذرائع ابلاغ کا کام سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ دکھانا ہوتا ہے، مگر پاکستان کا میڈیا بکاؤ مال بنا ہوا ہے۔ جس کا کم از کم مجھ طفل مکتب کو قطعی کوئی شک نہیں ہے۔ لفافہ صحافت، زرد صحافت کو پروان چڑھانے میں آج کے میڈیا کا ہی کردار رہا ہے۔ ورنہ الیکٹرانک میڈیا سے قبل ایسے ایسے صحافی گزرے ہیں جن کو دیکھ کر ہی شعبہ صحافت میں آنے کا شوق پیدا ہوا۔ مگر آج کے لفافہ صحافیوں یا ڈیپ پاکٹس کو دیکھ کر سیاست کی طرح صحافت سے بھی نئی نسل بے زار ہوتی جا رہی ہے۔

چاروں ستون نے اپنی نا اہلی اور بدعنوانی اور شیطانی ذہنیت سے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ ایوان کا تقدس بھی پامال ہو گیا ہے۔ عوام کی زندگیاں تو ویسے ہی ارزاں تھیں اب وقعت بھی کوئی باقی نہیں رہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو میرے منہ میں خاک، ریاست کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS