EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شیشے کی دیوار اور باپ، بیٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں باپ بیٹے کے درمیان ایک دیوار حائل ہوتی ہے۔ شاید احترام کی قبض ہوتی ہے۔ بیٹیاں باپ کے قریب مگر بیٹے ایک طویل فاصلہ رکھتے ہیں۔ ابا حضور سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ میرا احترام ہو رہا ہے۔ حد درجہ احترام کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ضرور ہیں مگر دوستانہ ماحول میں نہ بات ہوتی ہے نہ ہی بیٹے کو باپ کے ساتھ کھیلتے، یا گلے میں لٹکتے دیکھا جائے گا۔ ابا اس خوف نما احترام کو سمجھتے ہیں اور جان بوجھ کر یا سمجھتے ہی نہیں اور بغیر جانے دوام بخشتے ہیں۔ انہیں فکر نہیں ہوتی کہ بیٹا دور ہے تو کیوں؟

باپ کا بے محل ٹوکنا، خود کا رعب دار لہجہ سن کر بزعم خود سمجھنا کہ میرا احترام ہو رہا ہے۔ میرا خوف ہے جب کہ بیٹا جان چرا رہا ہوتا ہے کہ ابا آ گئے کھسکو اب، خوامخواہ کیڑے نکالیں گے۔ اپنی تقریر کا شوق پورا کریں تو بیٹا جان چرا لیتا ہے۔ آپ والد ہیں اور آپ کا بیٹا آپ کے آتے ہی کھسک جاتا ہے یا آپ کے دروازے سے داخل ہوتے ہی گھر میں سکوت طاری ہو جاتا ہے تو آپ کو چاہیے کہ آئینہ کے سامنے کھڑے ہوں اور خود سے سوال کریں۔ ضرورت ہے کہ آپ فکر کریں۔

اچھا، بچے چوں کہ گھر پر ماں کی نگرانی میں ہوتے ہیں تو مائیں کچے ذہنوں میں باپ کا خوف بھی بھر دیتی ہیں۔ خوامخواہ کا خوف بچے کو دامن گیر ہوتا ہے۔ کانچ ٹوٹ گیا۔ رکو، تمہارے ابو آئیں میں انہیں بتاؤں گی۔ ماں نے آواز لگائی۔ بچے کو کھیلتے میں دیر ہو گئی، تمہارے کانوں پر تو بات لگتی ہی نہیں۔ آنے دو اپنے ابا کو۔ بات ان سنی کر دی، دوسرے بچے سے لڑ گیا، روٹھ گیا، شرارت کر لی۔ بس آنے دو ابو کو میں بتاؤں گی۔ ابو بھی آ کر اماں کے بنائے بت ثابت ہوتے ہیں۔ اور رعب، دھاڑ، مار اور بھینس کی آنکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آنکھیں نکال کر ڈرانے میں کسر نہیں رکھتے۔ نتیجتاً بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے دور ہوتا جاتا ہے۔

ابا کو ایسا دکھانے میں ماؤں کا ہاتھ ہوتا ہے وہ ہمیشہ خود کے قریب تو رکھتی ہیں مگر ابا، ابا، ابا کو ایک خوفناک لفظ بنا کر دماغ میں چسپاں کر دیتی ہیں۔ دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر بس یہ نام ہوا بن جاتا ہے۔ شور مت مچانا ابو سو رہے ہیں۔ دروازہ مت کھولنا، نہیں، سائیکل مت چلانا، والیوم بند کرو، پاؤں اٹھا کر چلو۔ آواز نیچی کرو۔ تمہارے ابا سو رہے ہیں۔ بیٹے کی زبان بندی، دماغ بندی، دل بندی کے بعد یہی احترام کی قبض ہوتی ہے جو بیٹے اور باپ کے درمیان دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

حالاں کہ یہ سب باتیں پیدا کرنے سے قبل نہ صرف سوچ لینی چاہئیں بلکہ آپس میں تبادلہ خیال بھی کر لینا چاہیے کہ ہم پیدا کرنے جا رہے ہیں سو بعد میں معاملات یوں، یوں، یوں ہونے ہیں۔ اگر نہیں، اتفاق نہیں تو ازراہ کرم اچھی کوالٹی کی کنڈوم کا استعمال مت بھولیے۔ ورنہ اپنی غلطی کو بعد میں بچے پر شور کر کے نہیں بدل سکیں گے۔ البتہ بچوں کو خود سے بدظن کر دیں گے۔ اور ہم مڈل کلاسیوں کے ہاں بچوں کو بدظن کرنا کار ثواب ہے۔

بیٹے کو باپ سے اس قدر ڈرا دیا جاتا ہے کہ وہ خود کوئی بات کر ہی نہیں سکتا۔ ایک ان دیکھا خوف لاحق ہوتا ہے۔ پھر جو بات ہوگی ماں کے گوش گزار کرو، ماں ابا کی سیکرٹری کا کردار بخوبی نبھاتی ہیں لیکن ایسا نہیں کرتیں کہ جو دیوار حائل ہے اس کو توڑیں، اس حصار کو ختم کریں اور باپ بیٹے کو روبرو کر کے مکالمہ کی فضا بنائیں۔ بیٹا دور مزید دور ہوا چلا جاتا ہے۔ اب باپ کو کوئی بات، کوئی حکم جاری کرنا ہے یا پوچھ گچھ کا سیشن ہے ماں جزو لازم ہیں ان کے بغیر باپ بیٹے کے بیچ کوئی بات نہیں ہوگی۔

ابا بھی تو اس شور غوغا پر پورے اترتے ہیں۔ حالاں کہ ماں کا برابر پارٹنر سائبان ہی ہے۔ جیسے ماں سے محبت، ویسے ہی باپ سے محبت ضروری ہے۔ خوامخواہ کے احترام سے بہت اچھا ہے کہ آپ اپنے بیٹے سے دوستی کر لیں۔ اس سے مل کر اودھم مچائیں، گھر کو سر پر اٹھائیں، کھیلیں، گنگنائیں۔ بیٹے کو مختلف چیزوں کے متعلق بتائیں۔ اپنی زندگی، اپنا بچپن دکھائیں۔ باپ ہر زندگی کا ایک خوبصورت کردار ہے۔ مظلوم کردار، جس کے ساتھ نا انصافی برتی جاتی ہے۔ ایسی نا انصافی جس میں باپ بذات خود شریک ہوتا ہے۔

پھر فادرز ڈے پر بچے جھوٹ موٹ کی تعریفیں لکھ کر ٹرینڈ کا حصہ بنتے ہیں۔ حقیقت میں باپ سے بدکتے ہیں مگر سوشل میڈیا پر عزت رکھنے ہر ایک بہترین باپ کا اسٹیٹس چڑھاتا ہے۔ شاید یہ بھی اک خوف ہے کہ ابا کے متعلق کوئی شکایت لکھ دی، دل کی بات کہہ دی تو لوگ کیا سوچیں گے؟ یوں ہی ایک خیال یہ بھی آیا کہ جب سب ہی کے والدین اس قدر اعلیٰ اخلاق و روایات کے ساتھ بہترین کردار کے مالک تھے تو یہ بگڑے ہوئے بیٹے کس پر گئے ہیں؟ خیر سوشل میڈیائی تعریفوں کے ساتھ اگر ہم اپنے اپنے ابا کو جپھی ڈال لیں تو یہ درمیان کی یہ شیشے کی دیوار گر سکتی ہے۔ چلیں اس دیوار کو دھکا لگاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟

20 جون 2021

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے