EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان کا حالیہ بجٹ اور جمی کارٹر کی مونگ پھلیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ، شوکت ترین نے پاکستان کے 22۔ 2021 کا 8487 ارب روپے کا بجٹ اس مہینے کے گیارہ تاریخ کو وفاقی اسمبلی میں پیش کر دیا جو کہ منظور (Pass) ہونا باقی ہے مگر اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ پاکستان کے حالیہ بجٹ کا امریکہ کے صدر جمی کارٹر جو 1977 سے 1981 تک امریکہ کے انتالیسویں ( 39 ) صدر تھے کے مونگ پھلیوں سے کیا لینا دینا تو قصہ اس طرح ہے کہ جب روس نے 1979 میں افغانستان میں قبضہ کیا تو اس وقت کے امریکہ کے صدر جمی کارٹر تھے۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر صدارت سے پہلے اپنے والد کے ساتھ مونگ پھلیوں کے کاروبار سے منسلک تھے۔

1979 میں جمی کارٹر نے جب پاکستان کے اس وقت کے حکمران جرنل ضیاء الحق سے افغانستان میں روس کے خلاف پاکستان کی مدد طلب کی اور ساتھ ساتھ جمی کارٹر نے جرنل ضیاءالحق کو 400 ملین امریکی ڈالر کی امداد کی پیش کش کی تو پاکستان کے اس وقت کے حکمران جرنل ضیاء الحق نے یہ کہہ کر آفر ٹھکرایا کہ ان چار سو ملین کی حیثیت تو آپ کی مونگ پھلیوں جیسی ہے اور ہمیں یہ مونگ پھلیاں نہیں چاہئیں۔ اس وقت جرنل ضیاء الحق کا اشارہ جمی کارٹر اور ان کے والد کے تجارت سے منسوب مونگ پھلیوں سے تھا۔

مگر آج ایک عام پاکستانی حالیہ بجٹ پے نظر ڈالے تو اس بجٹ میں اس کو ایک عام پاکستانی کے لئے بہت سے مونگ پھلیاں ہی ملیں گے یعنی اگر ہم حالیہ بجٹ جو 8487 ارب روپے یعنی امریکی کرنسی میں 54 بلین ڈالرز کے لگ بھگ ہے پر پوری تفصیلی روشنی ڈالیں تو کچھ اس طرح کی صورتحال ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ تعلیم اور صحت جو ایک ہر ایک عام پاکستانی کی بنیادی ضرورت ہیں مگر عمران خان کی حکومت نے اس بجٹ میں تعلیم کے لئے صرف 92 ارب روپے یعنی 589 ملین امریکی ڈالرز اور صحت کے حوالے سے صرف 25 ارب روپے یعنی 160 ملین امریکی ڈالرز مختص کیے ہیں اگر ہم بجٹ کے ان اعداد شمار کو بجٹ کے دوسرے اعداد شمار سے موازنہ کریں تو صحت اور تعلیم جو ہر عام و خاص پاکستانی کی بنیادی ضرورت ہے کے حوالے سے مختص بجٹ کی مثال جمی کارٹر کی اس وقت کی مونگ پھلیوں سی لگتی ہے۔

اس کے برعکس 2021۔ 22 کے اس حالیہ بجٹ میں افواج پاکستان کے تینوں مسلح دستوں کے لئے 1370 ارب روپے یعنی آٹھ بلین امریکی ڈالرز کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 651 ارب روپے بری فوج، 291 ارب روپے ایئرفورس (فضائی فوج) 148 ارب روپے نیوی اور 278 ارب روپے پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں کے لئے مختص کیے گئے ہیں

اگر ہم پاکستان کے حالیہ بجٹ سے صرف فوج کے بجٹ کا موازنہ دنیا کے لگ بھگ 225 ممالک سے کریں تو ہمیں یہ جان کر حیرت ہوگی کی دنیا کے 225 ممالک سے ایک سو تیس ممالک ( 130 ) ایسے ہیں جن کا سالانہ بجٹ پاکستان کے فوج کے بجٹ یعنی 8 بلین ڈالرز سے کم ہیں یعنی دنیا میں 130 ممالک ایسے ہیں جن کی سالانہ بجٹ کا موازنہ اگر ہم پاکستان کی بجٹ کی برعکس صرف افواج پاکستان کی سالانہ بجٹ سے کریں تو افواج پاکستان کا بجٹ ان 130 ممالک کی سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے۔

اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے دفاعی اخراجات کے حوالے سے پاکستانی افواج کی بجٹ کے برعکس اپنے افواج پے اس سے بھی زیادہ بجٹ خرچ کرتے ہیں مگر وہ ممالک آئی ایم ایف ( آئی ایم ایف ) جیسے بین الاقوامی اداروں سے ادھار پے ادھار لے کر ملک نہیں چلا رے ہوتے اور نہ ہی ان ممالک کو آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں کو 13000 ارب روپے یعنی 85 بلین ڈالرز کی لگ بھگ قرضہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ 3060 ارب روپے یعنی 19 بلین ڈالرز کا سود بھی آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں کو ادا کرنا ہوتا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ بجٹ ایوانوں سے منظور ہوگا یا پھر اس میں ترمیم ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے