بڑے ایوانوں پر مادری زبانوں کے دروازے بند کیوں ہیں؟


قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، کچھ دن پہلے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے حزب اختلاف کے ایک ممبر جاوید شاہ جیلانی نے سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی زبان کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا، اسی اجلاس میں سرائیکی وسیب کے ممبر مہر ارشاد نے سرائیکی زبان میں خطاب شروع کیا، تو پریزائیڈنگ افسر امجد خان ولد شیر افگن خان نے ان کو روک کر اردو میں بات کرنے کو کہا، روکنے والی کی اپنی مادری زبان بھی سرائیکی ہے۔

مہر ارشاد نے اردو میں تقریر کرنے سے پہلے ایک سچ کہہ دیا کہ ”جو ماں بولی کو بھل ویندا ہے وہ اپنی ماں کو بھل ویسیں“ ۔ جو اپنی مادری زبان کو بھولتا ہے وہ اپنی ماں کو بھی بھول جائے گا۔

گھوٹکی کے منتخب ممبر سردار محمد بخش مہر نے اپنی تقریر کا اختتام سندھی زبان میں کرتے ہوئے کہا کہ ”مان سندھ مان چونڈیل ممبر آھیان ہن بجیٹ کی رد کرے واک آؤٹ تھو کریان“ ۔ مطلب گھوٹکی کے منتخب ممبر کی حیثیت سے میں اس بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے واک آؤٹ کرتا ہوں، اسپیکر کی کرسی پر براجمان متحدہ کے ممبر صابر قائم خانی نے بھی انہیں سندھی میں جواب دیا۔

بجٹ اجلاس میں زبانوں پر طنز کا سلسلہ بھی حکومتی وزیر نے ہی بلاول بھٹو کی تقریر کے جواب میں شروع کیا، بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کے ابتدائی کلمات انگریزی زبان میں ادا کیے تو انرجی کے وزیر محترم نے کہا کہ ”منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنے سے دامن پر لگے کرپشن کے داغ دھل نہیں سکتے۔“ جس وزیر صاحب کو انگریزی والی تقریر بری لگ رہی تھی اس کی اپنی اردو بھی کچی نکلی، وہ جائے گا کو جاوے گا اور آئے گا کو آوے گا بول رہے تھے۔

قومی، صوبائی، علاقائی، غیر علاقائی، سرکاری، غیر سرکاری، دفتری، غیر دفتری، مقامی، غیر مقامی، مادری غیر مادری زبانوں کا یہ تضاد بھی پاکستان کا ہم عمر ہے۔ 21 مارچ 1948 ع کو جناح صاحب نے پاکستانی بنگال کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اردو کو قومی زبان کرنے کا اعلان کیا تو وہاں فسادات بھڑک اٹھے، کیوں کہ پاکستان کے ایک بانی صوبے کے بنگالی عوام کا مطالبہ تھا کہ ان کی ماں بولی کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے، بنگالیوں پر بھی باقی قوموں کی طرح اردو زبان ٹھوسنے کی کوشش کی گئی، دوسری قوموں نے تو یہ کڑوا گھونٹ پی لیا، لیکن بنگالی اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اپنی زبان کو چھوڑنا بہت مشکل ہے، اور اتنا مشکل کسی زبان کو ٹھوسنا بھی ہے، زبان تو کیا زبردستی کی تو دین کے معاملے میں بھی اجازت نہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کا دن منایا جاتا ہے جسے ہمارے ملک میں کوئی سرکاری طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کی شروعات کیسے ہوئی وہ سب کو علم ہے کہ سن 1952 ع اسی تاریخ یعنی 21 فروری کو ڈھاکا میں بنگالی بھائیوں نے بنگلا بھاشا کو قومی زبان کا درجہ دلوانے کے لیے احتجاج کیا تو گولی چل گئی، جس کے نتیجے میں آٹھ طلبا جان بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، پھر ان تمام حربوں اور حرکات کا نتیجہ 16 دسمبر 1971 ع کو مل گیا، لیکن ریاست مادری زبانوں یا ان قوموں کی زبانوں کے بارے میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوئی جنہوں نے اس ملک کو بنایا تھا، نہ ہی زبان کی حساسیت کو سمجھا گیا۔

ریاست سمجھتی ہے کہ مادری زبانوں کی ترقی اور ترویج سے قومی اتحاد اور ملی یکجہتی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ ایسے سرکاری مفروضے اور خدشات ہیں جن کی بنیاد پر عوام کو ڈنڈے کے زور پر ایک ہونے کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے، لیکن ان معاملات میں کوئی سچ بولتا ہے تو غداری کا سرٹفکیٹ ہاتھ میں تھمائے جاتے ہیں۔

قوم یا ملت ریاست سے بنتی ہے، ریاست آئین اور اصولوں کے ساتھ بنتی ہے۔ پہلے آئین کو تو عزت دینا سیکھیں اس کے بعد ایک قوم کی بات کریں، ہم پہلے دن سے حقائق کو مسترد کر کے کیمو فلیج پر یقین رکھنے والی ریاست بن چکے ہیں۔

جب یہ کہا جائے کہ بڑے ایوانوں میں مادری زبان نہیں بولی جا سکتی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ایوان کتنے کاغذی ہیں، ان ایوانوں کے بڑے عہدوں پر بیٹھنے والوں پر یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ آپ نے اپنی مادری زبان نہیں بولنی۔

میں ایسے کئی واقعات کا عینی شاہد ہوں، جب آصف علی زرداری ایوان صدر کے مقیم تھے تو انہوں نے ہمارے ایک صحافی کو انٹرویو دینے سے اس لیے انکار کیا تھا کہ انہیں سندھی زبان کے چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سندھی زبان بولنا پڑتی۔

مشرف سے پی سی او حلف لے کر ذاتی وفاداری نبھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے ان دنوں میں میری ایک سینئر صحافی کے ساتھ ملاقات ہوئی، میں ان سے سندھی زبان میں بولے جا رہا تھا وہ اردو میں جوابات دے رہے تھے، وہ میرے ساتھی صحافی کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ میں صرف سندھی ہوں۔

سابق اسپیکر میڈیم فہمیدہ مرزا بھی جب تک اسپیکر کی کرسی پر رہیں، اپنے دفتر میں سندھی زبان کے لیے دروازہ بند رکھے، ایک مرتبہ تو ایک افسر نے ہمیں رو کر بتایا کہ میڈم نے مجھے اس لیے ڈانٹا کہ میں سندھی میں بات کرنا چاہتا تھا۔

بڑے عہدے رکھنے والے اردو کا استعمال صرف اپنی پاکستانیت بچانے کے لیے کرتے ہیں، جتنا بڑا عہدہ اتنا زیادہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کے اوپر سندھی، پنجابی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون ہونے کا ٹھپا نہ لگ جائے، کسی کو اردو پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ غالب، میر تقی میر، ابراہیم ذوق، ادا جعفری، ساحر، جون ایلیا، جاوید اختر، فراق گورکھپوری سمیت سینکڑوں اعلیٰ شان شاعروں کی زبان ہے، کرشن چندر، منٹو، قرت العین حیدر، ابن سفی، شوکت صدیقی، مرزا حادی رسوا، عصمت چغتائی، ابن انشا، مشتاق یوسفی، بشیر احمد، مظہر الاسلام سے لے کر ماہا ملک تک سب نے اردو زبان کے افسانہ نویس اور ناول نگار ہماری آنکھوں کے تارے ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ اس زبان کو قومی درجہ دیا گیا جس کے بولنے والے 7 فیصد ہیں، جب اردو کو یہ مقام ملا تب اردو بولنے والے تین فیصد بھی نہیں تھے، یہ ملک جب نہیں تھا تب یہاں وہ قومیں آباد تھیں ان کی زبانیں بھی تھیں، لیکن ان کو آج تک نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

یہ طے ہے کہ جس ممبر کو اردو زبان نہیں آتی اس کا ان بڑے ایوان میں آنے کا کوئی کام نہیں کیوں کے ان ایوانوں میں مادری زبان میں بولے جانے والا ایک لفظ بھی رکارڈ کا حصہ نہیں بنتا، اس لیے نامزدگی فارم بھرنے کے لیے سے پہلے امیدواروں کو اردو یا انگریزی کی ٹیوشن لینا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 57 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments