پھر کہتا ہوں کہ عورت مارچ انسانی حقوق کی تحریک نہیں


متنازع موضوعات کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والے کا موقف درست ہو یا نہیں، لیکن پڑھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ اس کی موافقت یا مخالفت میں ضرور کھڑا ہو جاتا ہے۔ میری آج کی تحریر اگر خواتین کے حقوق کے خلاف ہوئی تو یقیناً بہت سے لوگ میری مخالفت میں کمنٹ کریں گے بلاگز لکھیں گے جبکہ خواتین کی آزادی کے مخالف افراد میرا ساتھ دینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ صورتحال جیسی بھی ہوگی نتیجہ شہرت کی صورت میں نکلے گا۔ ایک دم سے مجھے بہت سے لوگ جاننے لگ جائیں گے۔ میرے لکھنے کا مقصد عورت مارچ میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ حالانکہ میں خود خواتین کے حقوق کا بہت بڑا حامی ہوں۔ میری بیشتر تحریروں میں خواتین کے مسائل پر ہی روشنی ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

گزشتہ چند روز سے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کا چارٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس چارٹ میں وطن عزیز ترقی کے ہر میدان میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہی نظر آتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے یا پھر ہماری قوم دوسری قوموں سے کم محنتی ہے۔ میری نظر میں ہمارے پیچھے رہ جانے کی تین بنیادی وجوہات ہیں جن میں پہلا مسئلہ جمہوریت کا تسلسل، دوسرا ہمارا رنگ برنگا تعلیمی نظام اور تیسرا معاشی ترقی میں خواتین کا کمزور کردار ہے۔

خواتین ہماری آبادی کا نصف ہیں اگر ہم اپنی معاشی ترقی میں خواتین کے کردار کو دیکھیں تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ اس کے برعکس انڈیا اور بنگلہ دیش میں صورتحال خاصی مختلف ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ جب تک ہماری خواتین معاشی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام نہیں کریں گی اس وقت تک ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

خواتین کے حقوق کی ابتدائی تحریریں فرانس کی خواتین نے لکھیں۔ جہاں مرد جنگیں لڑنے کے لئے گھروں سے نکلتے اور پھر کئی کئی سالوں تک واپس نہیں لوٹتے تھے۔ اس زمانے میں خواتین پر سخت قسم کی معاشرتی پابندیاں عائد تھیں۔ انہی خواتین نے خواتین کے حقوق کی ابتدائی تحریریں لکھی ہیں۔ فرانس ہی کی خواتین کو خواتین کا پہلا باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرانے کا اعزاز حاصل ہے یہ احتجاج انقلاب فرانس کے دوران کیے گئے۔ اس وقت خواتین پہلی بار مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آ کر گھر سے باہر نکلیں۔

امریکہ میں خواتین کے حقوق کی تحریک کا آغاز 1848 ء کی سنیکا فال کنوینش جبکہ برطانوی خواتین نے سفرجیٹ کے ذریعے اس تحریک کا آغاز کیا۔ خواتین کے حقوق کی پہلی لہر ووٹ ڈالنے کا حق اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی تھی۔ دوسری لہر میں خواتین نے معاشرتی اور معاشی حقوق مانگے جبکہ تیسری لہر پوسٹ فیمنزم کی ہے جس میں مکمل آزادی مانگی گئی یہ لہر ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔

انسانی حقوق کی ہر تحریک تین مراحل پر مشتمل ہوتی ہے جس کی ابتدا بنیادی انسانی حقوق سے ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید اختیارات مانگے جاتے ہیں جبکہ تیسرے مرحلے میں مکمل اختیارات یا آزادی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں چلنے والی خواتین کے حقوق کی تحریک کے مطالبات خواتین کی حقوق کی کے لئے چلنی والی حقیقی تحریکوں سے خاصے مختلف ہیں جس کی وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد نے اس تحریک کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ تحریک کی مخالفت میں کھڑی ہو گئیں۔ جس کا نقصان ملک میں چلنے والی خواتین کے حقوق کی خاموش حقیقی تحریک کو پہنچا ہے۔ خواتین کے حقوق کی خاموش تحریک نے مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں فرانس کی خواتین کی طرح گھر سے باہر نکلنا تھا لیکن عورت مارچ نے اسے آپس میں لڑوا دیا ہے۔

میں عورت مارچ اور اس کے حامیوں کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عورت مارچ ایک ایسا بوجھ ہے جسے وقت سے پہلے ہماری خواتین کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ تحریک چلانے والوں کے پاس لائحہ عمل نہیں ہے۔ خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق سے ناواقف دوستوں نے تحریک کو لاحاصل بحث و مباحثے میں الجھا دیا ہے جس کی وجہ سے تحریک مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لئے نکلنے والی زیادہ تر بہنیں عورت مارچ کو ”مدرز ڈے“ فادرز ڈے ”اور“ ویلنٹائن ڈے ”کی طرح ایک دن منا کر چلی جاتی ہیں۔ دوسری قسم کی نوجوان خواتین نے سوشل میڈیا پر“ فیمنزم ”کے نام سے پیجز بنا رکھے ہیں جہاں پورا دن لڑکا، لڑکی اور آزادی پر پر بحث ہوتی ہے۔ جبکہ تیسری قسم کی خواتین پڑھنے لکھنے والی ہیں جنھوں نے خواتین کے حقوق کو مردوں پر تنقید سے منسلک کر دیا ہے۔ خواتین کے حقوق پر لکھی جانے والی زیادہ تر تحاریر میں خواتین کے مسائل کے بجائے مرد کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے فیشن بنا دیا ہے کہ آپ مرد سے نفرت کا اظہار کریں گی تو آپ عورتوں کے حقوق پر لکھ رہی ہیں۔

میں نے قوت بینائی، سماعت اور ویل چیئر پر بیٹھی بہت سی لڑکیوں کی کہانیاں لکھی ہیں۔ کہانیاں لکھتے لکھتے اکثر میں، میری بیگم اور والدہ رو پڑتی ہیں۔ میری آنے والی کہانی کامونکی کی باہمت لڑکی کی ہے جس نے حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ سلائی کڑھائی سے پیسے جمع کرنا شروع کیے اور محنت کے بل بوتے پر دو گھر بنا لیے ۔ میں اپنی تمام کہانیاں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی این۔ جی۔ اوز اور فیمنزم کے بہت سے پیجز پر پوسٹ کر دیتا ہوں۔

اس کے علاوہ ”ہم سب“ کے گروپ میں بھی ڈال دیتا ہوں۔ پڑھنے والوں کو حیرت ہوگی کہ این۔ جی۔ اوز اور فیمنزم کے ان پیجز سے مجھے کبھی ایک لائک یا کمنٹ نہیں ملا۔ میری استاد محترم گوہر تاج کے علاوہ کوئی خاتون ان گمنام ہیروز کی کہانیاں پڑھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتی۔ میں مایوس نہیں ہوں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری بہنیں ابھی تک خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق سے ناواقف ہیں۔

2016 ء تک وطن عزیز کے معذور افراد اپنے بنیادی انسانی حقوق سے ناواقف تھے۔ میں نے معذور افراد کو حقوق کے حوالے سے آگہی دی، میں نے انھیں لکھ کر اپنا حق مانگنے کا طریقہ سکھایا اور میں نے ہی ان کے مسائل پر سب سے زیادہ لکھا۔

الحمدللہ میری وجہ سے ہزاروں لوگ موٹیویٹ ہوئے ہیں اگر میں اپنا موازنہ خواتین کے حقوق کے لئے چلنے والی تحریک سے کروں تو میری تحریک عورت مارچ سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پیجز پر مسائل پر بات ہوتی ہے۔

خواتین کے حقوق لڑکا، لڑکی، میرا جسم میری مرضی یا مردوں پر تنقید کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑا اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ ہمیں ایک طرف اپنی خواتین کو ان کے معاشی اور معاشرتی حقوق کے حوالے سے آگہی دینی ہے تو دوسری طرف مردانہ معاشرے کو یہ سمجھانا ہے کہ عورت کے حقوق بھی انسانی حقوق ہیں۔ انھیں ان کے برابری کے حقوق دینے سے ہی آپ کے گھر میں توازن کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔ آپ کا معاشرہ اور آپ کا ملک خواتین کو حقوق دیے بغیر ترقی نہیں سکتا۔

عورت مارچ، مذہب سے نفرت اور ہم جنس پرستی کی تحریکیں، آنے والے چند سالوں میں ہمیں بہت سے غیرجمہوری اسلامی ممالک میں نظر آنے والی ہیں۔ آپ دیکھیں گے عورت مارچ سے پاکستان سمیت کسی اسلامی ملک کی عورت کو حقوق نہیں ملیں گے، مذہب سے نفرت سے روشن خیالی پروان نہیں چڑھے گی اور نہ ہی ہم جنس پرست حقوق حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ کیونکہ تحریکوں کا مقصد ہمیں اپنے معاملات میں مصروف رکھنا اور معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنا ہے۔

ہماری یہ دنیا سازشوں کا گڑھ ہے یہاں ہر جنگ، مالیاتی بحران، بغاوت اور انسانی حقوق کی تحریکیں ایک مقصد کے تحت شروع کی جاتی ہیں جس کا مقصد انسانی معاشرے کو مصروف اور تقسیم کر کے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ ہم نے اسی سازشی ماحول میں رہتے ہوئے اپنا راستہ تلاش کرنا ہے اور ہر سازش میں سے اپنے فائدے کا پہلو تلاش کر کے اس پر کام کرنا ہے۔

معذور افراد کے لیڈر اور انسانی حقوق کے کارکن کی حیثیت سے میں عورت مارچ لیڈرز سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی تین چار سالہ جدوجہد میں مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں اور مجھے مستقبل قریب میں بھی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں جس پر عمل کرتے ہوئے آپ مختصر سے عرصے میں نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہماری بہنیں خواتین کی سرکاری، پرائیویٹ اور پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں تعداد بڑھانے پر زور دینا شروع کریں۔ گھریلو، چھوٹی، مددگار اور طفیلی صنعتوں کے قیام میں خواتین کو رہنمائی اور مدد فراہم کریں۔ فری لانسنگ، آرٹ، ہینڈی کرافٹ اور انٹرنیٹ کے ذریعے خواتین کو آمدنی کے گر سکھانا شروع کر دیں اور ایک سال میں چار پانچ لاکھ خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں۔

اسی طرح دو تین سالوں میں اس تعداد کو بیس پچیس لاکھ تک لے جائیں تو پھر آپ کو نعروں، احتجاجوں، بحث و مباحثوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بنگلہ دیش اور انڈیا میں عورت مارچ اس لیے نہیں ہوتی کیونکہ وہاں کی عورتوں نے اپنے آپ کو معاشی طور پر مستحکم کیا۔ ہماری خواتین بھی اگر ایک دوسرے کو معاشی میدان میں مستحکم کرنا شروع کردیں تو دو تین سالوں میں بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS