پاکستان کو کمزور کرنے کا بیانیہ
گزشتہ دنوں بجٹ سیشن کے دوران جس طرح قومی اسمبلی میں پارلیمان کے نمائندگان نہ صرف پارلیمان میں گالم گلوچ کی بلکہ نوبت ہاتھا پائی تک بھی آئی اس کے بعد بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اور پھر ان کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے کس طرح لاء انفورسٹمنٹ کے اداروں نے اسمبلی کا گیٹ توڑا یقیناً یہ واقعات شرمناک اور قابل مذمت ہیں مگر میں سمجھتی ہوں یہ واقعات قابل مذمت اور شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ خوفناک اور آنے والے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہیں ایسا طوفان جو جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
جس طرح کچھ دہائیوں سے پاکستان میں جمہوریت کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاستدانوں کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سالمیت و حرمت اور بقا کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ صرف اور صرف سیاستدانوں سے ہے گو کہ اس میں چند سیاستدانوں کو اقتدار کی ہوس میں مبتلا کر کے ان قوتوں نے استعمال کیا اور اپنے اس بیانیے کو سچ ثابت کرنے کے لئے ڈرامہ، فلم اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی استعمال کیا گیا۔
ٹی وی شوز میں تجزیہ نگار دیکھ لیں ان کی نوکری ہی یہی ہے کہ سیاستدانوں کو بدعنوان اور چور ڈاکو ثابت کرنا ہے اور جو صحافی یا میڈیا ہاؤس اس نوکری سے انکار کرتا ہے وہ زیر عتاب آ جاتا ہے۔ اس بیانیے کو پروموٹ کرنے کے لئے بڑے سوچے سمجھے طریقے سے کام کیا گیا ہے طلبا یونینز پر پابندی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جن دنوں طلبا یونینز کام کر رہی تھیں ان دنوں نوجوان نسل میں سیاسی شعور اپنے جوبن پر تھا یہ وہ دور تھا جب ایوب خان کا زوال اور ذوالفقار علی بھٹو کا عروج شروع ہوا۔
نوجوان نسل کو سیاست سے متنفر کیا گیا اور غیر سیاسی سوچ کو پروان چڑھایا گیا۔ ایوب خان کے زوال اور ذوالفقار علی بھٹو کے عروج کے دوران پاکستان میں جمہوری سوچ بہت مضبوط تھی مگر ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت اور ضیاء الحق کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد پاکستان میں جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا گیا اس دور میں نہ صرف طلبا یونینز پر پابندی لگائی گئی، صحافت زیر عتاب آئی، سیاست میں ایسے کردار متعارف کروائے گئے جن کا حاصل صرف اور صرف اقتدار کا ایوان تھا اور جمہوریت یا ملک سے ان کو کوئی خاص سروکار نہ تھا۔
وہ تسلسل چلتے چلتے آج تحریک انصاف کے روپ میں قوم پر مسلط ہے جنہوں نے چند سال کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ تحریک انصاف کو ملک کی تیسری سیاسی قوت بنا کر پیش کیا گیا۔ شوبز اور سپورٹس کی سیلبرٹیز کو ساتھ ملا کر نوجوان نسل کو متاثر کیا گیا۔ تحریک انصاف کی اٹھان کے دنوں میں باقی جماعتیں سنجیدہ نعرے لگا کر اپنے جلسے جلوس منعقد کرتی تھیں۔ پی ٹی آئی نے ناچ گانے سے اپنے جلسوں کو رنگین بنایا اور ایک غیر سیاسی نوجوان نسل جن کی ابھی کوئی سیاسی تربیت ہی نہ تھی اس میں یقیناً قصوروار ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہیں اس رنگین ماحول سے متاثر ہوئے اور پھر عمران خان نے اپنے جلسوں اور تقاریر میں ایک بیانیہ متعارف کرایا کہ ان کے علاوہ تمام سیاستدان چور ڈاکو ہیں جو کہ میری رائے میں عمران خان کے اپنے لئے بھی انتہائی نقصان دہ ہے وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود ایک ایسا بیانیہ متعارف کروا رہے تھے جو دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہیں اقتدار میں لانے والے یہی چاہ رہے تھے کہ سیاستدانوں کو قوم کے سامنے ایک مجرم کی طرح پیش کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں میں بھی باقی اداروں کی طرح کچھ بدعنوان لوگ یقیناً پائے جاتے ہیں مگر یہ بیانیہ صرف اور صرف جمہوریت کو رسوا کرنے کے لئے پیش کیا گیا آج عمران خان کے اقتدار کو تین سال ہونے والے ہیں اور آج ان کا اپنا بیانیہ ان کی اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان کرپٹ ہیں۔
تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کی تابعداری کی قسم کھائی تھی حالیہ واقعات بھی اسی سکرپٹ کا حصہ ہیں کہ پارلیمان کو ہی بے توقیر کر دیا جائے۔ پی ٹی آئی جب سے اقتدار میں آئی ہے اس نے پارلیمان کو قانون سازی اور دیگر معاملات کے بجائے تم چور، تم ڈاکو ثابت کرنے، گالم گلوچ کی سیاست کو پروان چڑھانے کے لئے استعمال کیا۔ عمران خان نے سیاسی حریفوں کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کو بھی بد عنوان اور خود کو صادق اور امین ثابت کرنے کی کوشش کی اور ان کے دور اقتدار کا ایک ہی سلوگن رہا ”میں این آر او نہیں دوں گا“ ۔
اور پھر اس بیانیے کو نہ صرف ان کی جماعت نے بلکہ بہت سے تجزیہ نگاروں اور اینکرز حضرات نے بھی خوب پروموٹ کیا، یہ سوچے بغیر کہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی سپیس جب کم ہوتی ہے تو اس سے فائدہ غیر جمہوری قوتیں اٹھاتی ہیں شاید اس کا ادراک عمران خان صاحب کو کچھ برس بعد ہو مگر اس وقت تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوگا۔
موجودہ دور میں دیگر سیاسی جماعتوں کو اس بیانیہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جمہوری سوچ اور جمہوری رویوں کو پروان چڑھانا ہوگا خاص طور پر نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنی ہوگی انہیں یہ بتانا ہوگا کہ اس ملک میں مشکل ٹائم آیا تو قربانیاں سیاسی قوتوں نے دیں۔ شہادتیں، جلاوطنیاں سیاسی قوتوں کے حصہ میں آئیں۔ جمہوریت پر اس وقت نازک دور ہے اس میں سوچنا ہوگا کہ پارلیمان کو بے توقیر کرنے سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے ان قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا۔
آخر میں روحیل اصغر صاحب نے ایک بیان دیا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے ایک منتخب عوامی نمائندے کی ایسی بات باعث شرم ہے پنجاب کا کلچر ہرگز گالی نہیں ہے یہ بلھے شاہ ؒاور غلام فریدؒ جیسے صوفیا کرام کی دھرتی ہے جنہوں نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا۔ پنجاب کی دھرتی نے بے شمار صوفیا و شعرا، گلوکار اور سکالرز پیدا کیے۔ پنجاب کا کلچر محبت، دلجوئی اور رواداری کاہے۔ افسوس پنجاب کی دھرتی پر رہنے والے پنجاب کے کلچر سے ناواقف ہیں۔
گالی کبھی کسی بھی علاقہ کی ثقافت یا کلچر کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ گالی کا مقصد کسی کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنا اور اس کی توہین کرنا ہوتا ہے۔ تو کیا کوئی ثقافت یہ اجازت دیتی ہے کہ کسی پر ذہنی تشدد کیا جائے اس لئے خدارا یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر پس پردہ کون یہ کھیل کھیل رہا ہے جس کا مقصد صرف سیاستدانوں کو ولن اور خود کو ہیرو اور مسیحا بنانا ہے۔ اس وقت اصل جمہوری قوتوں کو لائحہ عمل بنانا ہی پاکستان، جمہوریت اور پارلیمان کی ضرورت ہے۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پاکستان مضبوط ہوگا ایک لاغر اور بے بس پاکستان ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دے پائے گا۔ آئیے پاکستان کے لئے سوچیں، اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں۔

