افغان مسئلہ اور پاکستانی زاویہ


افغانستان سے امریکی فوج کے نکلنے کی تاریخ آ ہی گئی۔ اس لڑکی کی جب بھی شادی ہوئی ہمیں جوتیاں ضرور پڑی ہیں لیکن ایسی ذرا سی بات سے ہم کبھی اپنی خدمات پیش کرنے سے ہچکچائے بھی نہیں۔ طالبان اپنے ہدف میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ افغان قوم اس امر پر فخر کر سکتی ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی جنگی قوت کو شکست دینے کے بعد وہ پہلی بڑی قوت کو بھی شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے لیے اتنا ہی پسماندہ اور دلیر ہونا ضروری ہے جتنی افغان قوم ہے۔ جہاں یو ایس ایس آر نے افغانستان میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا دیا تھا، وہاں امریکی پیش پا افتادہ اور  لگے بندھے جنگی حملوں تک محدود نہیں رہے۔ سویلین آبادی پر حملے کوئی ایسی انوکھی بات نہیں رہی۔ لہذا، مساجد میں پڑھنے والے بچے، باراتیوں اور ہسپتالوں کو بار بار نشانہ بنا کر ایک نئی جنگی جہت  کا آغاز کیا گیا۔ نت نئے ہتھیاروں کی عملی آزمائش،جس کی انتہا تمام بموں کی ماں کا استعمال تھا۔ یہ ان تمام دانشور حضرات کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے جو دوسری عالمی جنگ  میں دو اٹیم بموں کی تباہ کاری کو جنگی مجبوری بتاتے رہے ہیں۔

آگے کیا نظر آ رہا ہے؟ چودہ لاکھ مصدقہ مہاجرین۔ اتنے ہی غیر مصدقہ۔ یعنی اٹھائیس لاکھ افغان مہمان، مستقل بنیادوں پر پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ہم تو انہی مصدقہ و غیر مصدقہ مہاجرین سے پریشان تھے اور ہیں۔ تاہم شنید یہ ہے کہ اسلام آباد میں بزرجمہر اس امکان پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ مزید افغانی،مہاجرین کے روپ میں اس پاک دھرتی کو شرفِ میزبانی بخش سکتے ہیں۔ پھر امریکہ کے ہوتے افغان سرحد سے مسلسل حملے! یہ امر بھی یقینی ہے کہ ہماری مقتدرہ، جو افغان مسئلے پر سند بھی ہے، یہ مسائل امریکیوں کے ساتھ  اُٹھائیں گے ہی نہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں عالمی تزویراتی سوچ رکھنے والوں کے شایان ِ شان ہیں بھی نہیں۔

طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی متشدد، مذہبی رحجانات میں مزید اضافہ یقینی امر ہے۔ یعنی پاکستانی طالبان کی اخلاقی اور مادی حمایت میں اضافہ۔ احسان اللہ احسان کے  نئے بیانات۔ اگر وہ پکڑا بھی گیا تو کیا ڈر ہے۔ چھوٹ تو جانا ہی ہے۔ اور اُن پردہ نشینوں کے نام بھی ہمیں کبھی معلوم نہیں ہو پائیں گے۔ جو اس کارِ خیر میں شریک تھے۔ کیا امریکی ہمارے  احسان مند یا شکرگزار ہوں گے؟ ملازم کو اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دینے پر شاباشی ضرور ملتی ہے۔ لیکن ہر صورت میں نہیں۔ بعض مالکان کا خیال ہوتا ہے کہ یہ اڑیل قسم کا ملازم ہے۔ اسے تعریف سے نہیں، کھینچ کر رکھنا درست طریقہ ہے۔ اسی لیے پاکستان کے کسی نمائندے کو ماحولیات کے اجلاس میں بلانے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا۔

تو کیا افغان طالبان یا افغان قوم ہماری شکر گزار ہو گی؟ ماضی میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ان کی روایت بھی نہیں ہے۔ بلکہ جو احسان کرے اسے اتارنے کا افغان طریقہ بھی ہم سب کو معلوم ہے۔ کیا امریکی فرار کے بعد افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ دو، تین سال بعد، جب طالبان کا اقتدار پورے ملک میں قائم ہو جائے گا تو قبرستان جیسا جو امن طالبان کے پہلے دور میں تھا وہ پھر لوٹ آئے گا۔ بہر حال، یہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت سے بہتر ہو گا۔ جس کی وجہ ِ شہرت ہی وار لارڈز، منشیات کے سمگلر اورزنا بالجبر کے عادی ارکان ہیں۔ البتہ امریکہ میں منشیات کے نرخ ایک  دفعہ ضرور بڑھ جائیں گے۔

کٹھ پتلی حکمران کسی بھی ملک وقوم کے لیے ذلت کا باعث ہوتے ہیں۔ میر جعفر، کوئز لنگ، مارشل پیتاں، جنوبی ویت نامی صدور، ببرک کارمل، نجیب اللہ، حامد کرزئی اور موجودہ بدقسمت صدر۔  ان بدبخت افراد نے اپنی ذاتی منفعت کے لیے ملک و قوم کا سودا کیا ہوتا ہے۔ جو ہمیشہ ’چہ ارزاں فروختند‘ ثابت ہوتا ہے۔ لیکن وہ پاکستانی کالم نویس کس زمرے میں آتے ہیں جو کابل کٹھ پتلی حکومتوں کی 1979 سے تائید و تشہیر کر رہے ہیں؟ دائیں بازو کے دانشور تو درست ناراض ہیں کہ اتنی جانی قربانیوں کے باوجود ہمیں وہ معاوضہ نہیں دیا گیا جو ہمارا حق تھا۔ بیچارے بائیں بازو والے مارکس، لینن اور ماوزے تنگ کی تعلیمات بھلا کر ایک بار پھر غیر ملکی قبضے کی حمایت کرتے پائے گئے۔ لیکن ان پرندوں کا کیا کیا جائے جو لکھ رہے ہیں کہ طالبان اس لیے مذاکرات نہیں چاہتے کہ انتخابات میں انہیں ووٹ نہیں ملیں گے۔ گوریلا جنگ عوامی حمایت کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ جو زمینی حقائق سے اس قدر دور نہیں وہ بھی کٹھ پتلی اشرف غنی حکومت اور طالبان میں مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ ایک فاتح گروہ، غلاموں اور وطن فروشوں سے کس بنا پر مذاکرات کرے گا؟ کہ ڈھیر سارے افغان عوام کی جان بچ جائے؟ اب تک تو کسی بھی افغان نے  خصوصاً طالبان نے ایسی کسی انسانی صفت کی موجودگی کا اشارہ نہیں دیا۔ ان بیس برس میں اتنی بڑی تبدیلی آ گئی ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔

سوال یہ ہے کہ ان چالیس برس میں پاکستان نے اس مدمیں کیا کھویا اور کیا پایا؟ افغانیوں کی ناشکرگزاری۔ روس تو روس، امریکہ کی بھی ناراضی بلکہ دشمنی۔ چلیں، پُرانی باتیں تو چھوڑیں،  امریکی حملے کے بعد بھی پاکستان کا بھلا نہیں ہوا۔ آئیڈئیل صورتِ حال تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ پاکستان کا تمامتر قرض ختم ہو جاتا۔ پاکستانی برآمدات کو امریکہ اور یورپ میں ہمیشہ کے لیے بغیر کسی بندش کے بھیجنے کا معائدہ کیا جاتا۔ میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ۔

لیکن فوجی اقتدار کی وجہ سے ہوا کیا! پاک بھارت توازن ختم اور پاک افغان برابری شروع۔ ایک خوشحال، پُرامن پاکستان کی بجائے پورے پاکستان میں دھماکے اور افراتفری۔ پاکستانی اڈے  امریکی تصرف میں۔ کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے امریکیوں کو ہاں کر دی تھی۔ پھر کسی کور کمانڈر نے یہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا کہ کن شرائط پر۔ صرف قوم کو بعد میں یہ بتانے میں فخر محسوس کیا گیا  کہ جب سال بعد ہم نے اس اڈے کا دورہ کرنا چاہا تو ہمیں وہاں گھسنے بھی نہیں دیا گیا۔ خیر جس زمانے کی ہم بات کر رہے ہیں اس میں ایسے ایسے جنرل بھی گزرے ہیں جو پڑھے بغیر کسی بھی  معاہدے پر دستخط کر دیتے تھے۔ اس لیے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اور سب کچھ برا ہوا بھی۔

تاہم اس دفعہ ہمارا سٹائل ذرا مختلف ہے۔ حکومت تو سوئے سوئے  (sleep walk)ان بھول بھلیوں کی جانب جا رہی ہے، جسے افغان مسئلہ کہتے ہیں۔ اس کی اتنی ہی صلاحیت ہے۔ بھارت کا پچھلے چالیس سال سے افغانستان میں ایک ہی مقام تھا۔ صفر۔ تمامتر امریکی کاوش کے باوجود اب تک عملاً یہی صورتِ حال ہے۔ (حالانکہ پاکستان نے اسے ترکی کانفرنس میں مبصر کا درجہ دینے پر اعتراض نہیں فرمایا۔ غالباً مست ہونے کی وجہ سے)۔ البتہ کٹھ پتلی خان نے، ایک چھوٹا سا بیان دے کر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان سے تعلقات میں بگاڑ کا مستقل سامان پیدا کر لیا ہے۔

 کیا اصلی تے وڈی سرکاراں اس مرتبہ ہمیں، عمران خان، نیز افغان مسئلے سے بے عزتی خراب کرائے اور ہر فریق کی جانب سے ملزم ٹھہرائے گئے بغیر نکال سکتی ہیں؟ یہی ہمارا فوری امتحان ہے۔

Facebook Comments HS