ساہیوال، نقیب اللہ، جنید حفیظ اور مشال خان: انصاف کب ملے گا؟


امریکی عدالت نے سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے قاتل کو ساڑھے بائیس سال کی سزا سنا دی گئی۔ یہ امریکا میں طاقت کے جان لیوا استعمال پر اب تک کسی پولیس اہلکار کو دی جانے والی سب سے طویل سزا ہے۔ گزشتہ سال ڈیرک شاون نے تلاشی کے دوران سیاہ فام جارج فلائیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ چھیالیس سیکنڈ تک گھنٹے ٹیکے تھے۔ اور تین منٹ میں ہی جارج فلائیڈ بے جان ہو گیا تھا۔ اور پھر دنیا بھر میں اس قتل پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ بلیک لائیوز میٹر کے نام کے بینرز نے دنیا بھر کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ آج بھی انسانیت زندہ ہے، گو اس انصاف کا ایک پہلو سیاہ فام افراد کے امریکی نظام پر اٹھنے والے وہ سوالات تھے جس سے امریکی نظام عدل داغدار ہونے کے ساتھ بے وقعت اور کسی ممکنہ تبدیلی کا شاخسانہ بھی ہو سکتا تھا جس کو امریکی باخبر عدالت نے احسن طریقے سے نبھایا۔

اب ذرا پاکستان کا رخ کیجیے۔ زیادہ پرانی بات نہیں۔ ساہیوال میں بھی ایک پولیس مقابلہ ہوا تھا بلکہ پولیس مقابلہ تو کہنا غلط ہوگا۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو گولیوں سے بھون دیا تھا اور نام دیا گیا کہ دہشتگردوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ لیکن وہ کیسے دہشتگرد تھے جو ساتھ بیوی بچوں کو بھی لے کر جا رہے تھے۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچے بھی زخمی ہوئے۔ معاملہ میڈیا پر آیا۔

اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلا۔ پیشیوں پر پیشیاں ہوئیں لیکن ہوا کچھ نہیں۔ سنا ہے وہ اہلکار پہلے سے زیادہ تازہ دم ہو کر اونچے عہدوں پر فائز ہیں۔ رہی بات مرنے والوں کی جن میں گھر کا سربراہ۔ اس کی اہلیہ اور ایک بچی بھی شامل تھے، ان کا خون تو رائیگاں ہی نہیں بلکہ عام فرد کو آگاہی دے گیا کہ اس ملک میں انصاف کی امید بے سود ہوگی۔ لواحقین نے پہلے تو بہت شور مچایا، انصاف کے لئے تگ و دو کی لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے۔ یا پھر خاموش کر دیا گیا۔ واللہ عالم۔

آپ کو نقیب اللہ محسود بھی یاد ہوگا؟ اسے بھی دہشتگردی کے شبے میں مارا گیا تھا۔ اس کے قتل میں راو انوار کے ملوث ہونے کا الزام تھا۔ راو انوار وہی جسے سابق صدر زرداری بہادر بچہ کہا کرتے ہیں لیکن شاید یہ پولیس افسران اپنی بہادری کمزوروں پر ہی دکھاتے ہیں۔ پھر وہی ہوا، میڈیا پر معاملہ آیا۔ ملک بھر میں احتجاج ہوا۔ راو انوار کے خلاف مقدمہ بھی چلا لیکن وہ آج بھی عدالتی ضمانت پر نہ صرف باہر گھوم رہا ہے بلکہ طاقت کے خدا اس کی حفاظت بر معمور ہیں۔ نقیب اللہ کے والد اسی انتظار میں دنیا سے چلے گئے کہ شاید میرے بے قصور بیٹے کو انصاف ملے گا لیکن وہ بھی جانتے تھے کہ یہ پاکستان ہے یہاں انصاف ملنا اتنا آسان نہیں۔

پشاور کا مشال خان یاد ہے؟ جسے توہین مذہب کا الزام لگا کر مارا گیا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ سچائی تو سامنے آ گئی، انصاف کے نام پر مشال خان کو جو ملا اس پر آج تک شرمندگی ہے۔

یہ تو طالبعلم تھا یہاں تو استاد بھی محفوظ نہیں، ہم بات کر رہے ہیں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جنید حفیظ کی جن پر توہین مذہب کا الزام لگا جسے ثابت نہ کیا جا سکا، اس کی پاداش میں وہ برسوں سے قید ہیں، ان کا مقدمہ لڑنے والے وکیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، وکیل کے قتل کی تحقیقات کرنے والے افسر کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اب یہ عالم ہے کہ پروفیسر حفیظ انصاف کے انتظار میں دن گزار رہے ہیں۔

چند ماہ قبل سرزنش پہ طالب علم پرنسپل کو مار کر اہانت کا الزام لگا چکا، گارڈ نے مینیجر کی روک ٹوک پہ گولی مار کر گستاخی مذہب کا کہہ دیا۔ کوہاٹ میں ایک طالبعلم مشال خان کی طرح مارا جانے سے بچ گیا جسے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

اسلاموفوبیا کا شور مچانے والے ہمارے وزیراعظم کو شرم آنی چاہیے کہ ان کے اپنے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم ہفتہ ناموس رسالت بڑے زور و شور سے مناتے ہیں۔ جناب ہفتہ منانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تو سارا سال یہی کرتے ہیں۔

حضرت علی علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ حکومتیں کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ آج پاکستان کا ہر شہری انصاف کا متقاضی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عدالتی نظام اتنا فرسودہ ہو چکا ہے جسے چاہ کر بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظٓام کا سارا دار و مدار وکالت پر ہے اور یہاں وکلا پیسے بنانے کے چکر میں جھوٹ بول بول کر مقدمات کو طول دیتے ہیں۔ چاہے جائیداد کا مقدمہ ہو یا قتل کا فیصلہ۔

زمین کا تنازع ہو یا پھر توہین مذہب کا معاملہ۔ انصاف برسوں بعد بھی نہیں ملتا۔ قاتل اور ڈاکو مہنگے ترین وکیل کر کے قانونی پیچیدگیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ مقدمات سیشن کورٹ سے ہائیکورٹ پھر سپریم کورٹ تک جاتے ہیں اسی میں برسوں لگ جاتے ہیں اب بھی سپریم کورٹ میں ترپن ہزار مقدمات انصاف ملنے کے منتظر ہیں، لیکن ہوتا کچھ نہیں، اس کی تازہ مثال مرید عباس قتل کیس ہے۔ جس کی بیوہ دو سال گزرنے کے بعد بھی عدالتوں کے چکر پر چکر کاٹ رہی ہے۔ اپنے شوہر کے قتل کا انصاف چاہتی ہے لیکن ہر بار اسے نا امیدی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

کہتے ہیں۔ انصاف میں دیر انصاف سے انکار ہے۔ اور ہم سب سالوں سے یہ انکار کر رہے ہیں۔ جب تک یہ انکار زندہ رہے گا ہم یوں ہی مرتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments