پاکستان میں مردوں کا ایمان اور عورت کا لباس

گزشتہ کئی دنوں سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نیازی کا ایک بیان بنام لباس پاکستانی عورت کے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جس کی حمایت اور مخالفت میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے خواتین کے خلاف جنسی جرائم کو ان کے لباس سے مشروط قرار دے دیا ہے، بادی النظر میں اس بیان میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اگرچہ یہ بیان کسی عام آدمی کا ہوتا، جس کا مطالعہ اور مشاہدہ دونوں ہی کمزور ہوتے ہیں، جس کے پاس طاقت اور اختیار نہ ہوتا جو سوائے بولنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ بیان ایک ریاست کے سربراہ کا ہے، وہ ریاست جہاں اوسطاً روزانہ گیارہ خواتین اور اٹھ بچے بچیاں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ جسے لباس سے نتھی کرنا انصاف کا قتل کرنے کے برابر ہو گا۔

کیونکہ ریاست کے سربراہ کا کام بیان بازی کرنا نہیں قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ مگر اس بیان نے ایک طرح سے ان تمام قوانین کو افادیت غیر فعال کر دیا ہے جو ان جرائم کے حوالے سے بنائے گئے ہیں، ویسے معذرت خواہ ہوں یہ قوانین ویسے بھی غیر فعال ہی ہیں

کیونکہ جرم صرف جرم ہے، اسے جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا، جیسے ریپ جیسے سنگین جرم کی ذمہ داری بلاواسطہ اور بالواسطہ خواتین پر ڈال دی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت یومیہ 11 خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں۔

یہ تعداد پولیس اور دیگر اداروں کے پاس درج ہونے والی شکایات سے اخذ کی گئی ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015 سے اب تک مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے 22 ہزار 37 مقدمات درج ہوئے جن میں سے چار ہزار 60 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اب تک 77 مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور صرف 18 فیصد کیسز پراسیکیوشن کی سطح تک پہنچے ہیں۔ یہ رجسٹرڈ معلومات ہیں، کیونکہ اکثریت خاموشی اختیار کرنا پسند کرتی ہے۔

تعزیرات پاکستان دفعہ 376 اور 375 کے مطابق کسی شخص کو ریپ کا مرتکب کہا جائے گا اگر وہ کسی خاتون (یا بچی) سے اس کی مرضی کے بغیر زبردستی، قتل یا ضرر کا خوف دلا کر زنا بالجبر کرے۔ تو ایسے میں عورت قانونی طور پر یہ حق رکھتی ہے وہ اس مرد کے خلاف قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ جس کے نتیجے میں مرد کو سزا پاکستان کے قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔

اس جرم کے مرتکب شخص کو سزائے موت یا کم سے کم 10 سال اور 25 سال قید کی سزا سنائی جائے گی جس کے ساتھ وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود پچھلے سال فروری کے مہینے میں سسٹینیبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زنا بالجبر کے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا۔ تحقیق کے مطابق صرف لاہور میں 73 ریپ کیسز اور 5 گینگ ریپ کیسز رپورٹ کیے گئے۔

ہراسانی کے معنی پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں جملے کسنا، ایسی آواز منہ سے نکالنا جو خاتون کو تکلیف پہنچائے یا اس کو ہراساں کرے، یا جنسی تعلقات میں الفاظ سے زبردستی کرے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ہراسانی کی سزا 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں۔

تاہم یہ قوانین محض الفاظ کا مجموعہ ہیں عملی طور پر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ سب کتنے بے مصرف قوانین ہیں جن پر عمل درآمد کرانے کی نیت کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ لیکن یاد رکھیں ان تمام قانون سازی پر لاگت کروڑوں کی آتی ہے۔ مجموعی طور پر ہمارے ہاں انصاف کا نظام اتنا دہشت ناک بنا دیا گیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے عام شہری تھانے میں قدم رکھتے ہوئے کان پکڑتا ہے۔ تمام تھانے رشوت ستانی کے اڈے ہیں اور وہ عقوبت خانے ہیں جن کا تصور صرف ہٹلر سے وابستہ ہے۔ پولیس صرف وی آئی پی سیکیورٹی ڈیوٹی کر رہی ہے اور حاکم کی غلامی۔ عوام کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ عوام جائے تو جائے کہاں؟ انصاف کے لیے کس چوکھٹ پر سر پھوڑے۔ آپ ہی بتا دیں وزیر اعظم صاحب؟

میرا کیا ہر مہذب فرد کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنی ساری شرم و حیا اتار کر بھی کسی مرد کے سامنے آ جائے اور پھر ہر ممکن طریقے سے اسے غلط کاری کے لیے آمادہ کرے تب بھی اس کے ساتھ زنا کرنا اس مرد کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی اس جرم کا ارتکاب کرے، یا پھر کسی با پردہ عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرے تو دونوں صورتوں میں بھی جرم کی نا ہی نوعیت مختلف ہو گی اور نا ہی دونوں پر جو حد جاری ہو گی اس میں کوئی فرق ہو گا کیونکہ جرم کی نوعیت ایک ہی ہے۔

قرآن مجید فرقان حمید کی ایک آیت میں ”یا بنی آدم“ کہہ کر صرف عورتوں کو نہیں بلکہ ”اولاد آدم“ کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اپنی شرم گاہوں کو چھپاؤ تاکہ تمہارا ایمان محفوظ رہے! ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں مردوں کا ایمان اتنا کمزور ہے کہ عورت کا لباس انھیں ڈانواں ڈول کر دیتا ہے؟

اور جو لوگ وزیراعظم کے بیان کو اسلام کا حقیقی چہرہ قرار دے رہے ہیں ان سے کہنا ہے کہ بات اگر اللہ کی ہے، اس کے فرمان کی ہے، ایمان کی ہے اور سب سے بڑھ کر حیا کی ہے تو وہ ہم سب مردوں عورتوں کا سانجھا ہے۔ شرم و حیا، عبادات، حقوق سب کے لیے اسلام میں یکساں احکامات اتارے گئے ہیں، کہیں بھی مردوں کے لیے کوئی اسپیشل ایڈیشن نہیں ہے۔ وہ جو ایک برتری دی گئی ہے تو اس کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ قرآن مجید اور شریعت میں کہیں بھی خواتین کو مردوں کی غلام یا لونڈی بنانے کا عندیہ نہیں دیا گیا، مذہب کی یہ تشریح برصغیر کے اس خطے کی دین ہے جہاں عورت کا وجود لذت و نشاط کی علامت کے سوا کچھ نہیں۔

میرے اپنے مشاہدے اور تجربے کے مطابق پاکستان کی خواتین کی اکثریت انتہائی مہذب لباس پہنتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے ملٹی کلچرل ماحول میں تمام صوبوں، خاندانوں، برادریوں اور فرقوں کے لوگ اپنے اپنے رواج کے مطابق لباس اور پردے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جو ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مگر اپنے اپنے علاقے اور مقام پہ سجتا بھی ہے اور جچتا بھی ہے۔ ہمیں ان تمام علاقائی ترجیحات کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے علاقے یا اپنے خاندان کا لباس اور پردہ سارے پاکستان کی عورتوں پہ ٹھونسنے کا اعلان کر دیں۔

دو ہزار اٹھارہ میں، میں اپنے گاؤں گئی تو پھپھو نے مجھے بڑی سی چادر دی کہ یہ پہن کر نکلنا، میں نے بصد احترام وہ واپس کی اور کہا کہ میرے لباس سے کسی کو شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ میں لاہور میں جو لباس پہنتی ہوں مجھے اس پر اور اپنے کلچر پر فخر ہے مگر میں کسی پر اپنی پسند مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی کو اجازت دے سکتی ہوں کہ وہ میرے ساتھ زبردستی کرے۔ ہر انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے، لوگوں کی نگاہوں سے آگاہ ہوتا ہے تاہم برائی پر آمادہ شخص کے لیے لباس، بے لباسی اور پردہ کبھی اثر اندازہ نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں کوئی بھی سماج ظلم، ننگے پن اور جرائم کو سپورٹ نہیں کرتا، اور نہ یہ سب کچھ لباس سے ہو رہا ہے، قانون کو موثر بنایا جائے، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے، باہر کے ممالک میں لوگ جنت میں نہیں رہتے، ان کے ہاں بھی ہر طرح کے جرائم ہوتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں فوراً انصاف ملتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں متاثرہ فرد ذلیل ہوتا رہتا ہے، ملزم دندناتا پھرتا رہتا ہے، کوئی سپورٹ سسٹم نہیں ہے۔ وکیل مہنگے ہیں، انصاف مہنگا ہے جو غریب کی پہنچ سے بہت دور ہے، بس یہی وجہ ہے کہ سنگین نوعیت کے کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے۔ جو باعث شرم ہے۔

اس لیے جناب وزیراعظم صاحب اب آپ اپوزیشن میں نہیں حکومت میں ہیں، مہربانی فرما کر تقاریر کے ساتھ ساتھ کام بھی کر لیں تاکہ عوام آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھیں ناکہ جانے پر بھنگڑے ڈالیں۔ کیونکہ قانون اور انصاف کے بغیر کوئی بھی نظام مملکت زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ہے؟ اسے سمجھتے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں ناکہ لباس کو حرف تنقید اور بنیاد بنا کر مجرم کو شہ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words