اوسلو کے تاریک پہلو: ڈرگز، ریپ، جسم فروشی، شراب نوشی، گداگری اور ڈارک روم


آپ نے اوسلو کی رنگین راتوں کے بارے میں پڑھا، اب اسی اوسلو کے کچھ تاریک رنگ دیکھیں۔

اوسلو نے اپنے لیے ایک نیا نام پا لیا ہے ”ڈرگ ڈیتھ کیپیٹل آف یورپ“ کیونکہ اس وقت یورپ میں سب سے زیادہ ہیروئن کے عادی افراد اوسلو میں ہیں۔ اوور ڈوز اموات کی شرح بھی یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔

اوور ڈوز سے اموات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں لوگ ہیروئن کو انجیکٹ کرتے ہیں، اسموک نہیں۔ اس کے علاوہ دوسری ڈرگز کو ملا کر استعمال کرنا یا الکوحل کا ساتھ میں استعمال بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ منشیات کے عادی مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ نوجوانوں میں اس کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ منشیات کا استعمال، خرید اور فروخت ناروے میں جرم ہے۔ مسئلہ اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے جب منشیات کے عادی لوگ اپنی لت پوری کرنے کے لیے بھیک مانگنے کے ساتھ دوسرے جرم بھی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک بحث چل رہی ہے کہ اس کی روک تھام کیسے کی جائے۔ اور منشیات کے عادی افراد کے ساتھ مجرموں والا سلوک بھی نہ کیا جائے۔

اوسلو کے سنٹرل اسٹیشن کے آس پاس ایک زمانے میں ہر طرف نشے میں دھت لوگ نظر آتے تھے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کا کاروبار کرنے والے بھی۔ ایک عام شہری بھی یہ اندازہ لگا لیتا تھا کہ یہاں خرید و فروخت ہو رہی ہے۔

ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں ہر طرف استعمال شدہ سرنج پڑی نظر آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ناروے میں ایڈز سے متاثرین کی تعداد بھی بڑھ کر چھے ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

نشہ آور اشیا میں الکوحل سر فہرست ہے، اس کے بعد چرس، کوکین، ایکسٹیسی، امفٹامین، اور ہیروئن۔ ان سب کے علاوہ مشرقی افریقہ خاص طور پر صومالیہ سے آنے والوں نے ایک نئی ڈرگ متعارف کروائی اسے کھات کہتے ہیں۔ یہ کھلے عام بیچی اور خریدی جاتی رہی۔ ڈرگز کی اسمگلنگ رکنے میں نہیں آ رہی۔

منشیات کے عادی افراد کی مدد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہیں کھانا اور سونے کے لیے کمرا اور بستر بھی۔ اپنا علاج کروانا چاہیں تو وہ بھی۔ مشکل یہ ہے کہ انہیں زبردستی کسی کلینک میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔ ناروے کا قانون کسی پر جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ جب تک وہ دوسروں اور خود اپنے لیے خطرہ ثابت نہ ہو جائیں۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ اگر یہ علاج کی غرض سے داخل ہو بھی جایں کچھ وقت کلینک میں گزار کر علاج کروا لیں۔ تھراپی بھی کروا لیں لیکن باہر آ کر کچھ عرصہ بعد پھر اسی حال میں پہنچ جاتے ہیں۔

دوسرے جرائم میں ریپ کا بڑھنا بھی ہے۔ اس میں گینگ ریپ بھی شامل ہے۔ اس لیے نئے آنے والوں کو خاص طور پر ہدایت جاری ہوتی ہے کہ اگر بار میں جائیں تو کبھی اپنا ڈرنک نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں اور نہ ہی کسی اجنبی سے کوئی ڈرنک قبول کریں۔ کوئی اس میں کچھ ملا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ ناروے کی خواتین اکیلی آتے جاتے ڈرتی نہیں لیکن پچھلے برسوں میں سنسان راستوں اور پارک میں اکیل جاتی لڑکیوں پر جنسی حملے ہوئے اس کے بعد سے وہ محتاط ہو گئیں جو ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ انہیں اپنی شخصی آزادی پر ایک ضرب محسوس ہوتی ہے۔

ناروے میں یہ بحث بھی کی جا رہی ہے کہ ریپ کی ڈیفینیشن کو وسیع تر کیا جائے۔ اسے صرف ڈرا دھمکا کر زور زبردستی کے سیکس عمل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر جنسی عمل جس میں دونوں فریق دل سے راضی نہ ہوں وہ ریپ ہی سمجھا جائے۔ کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بننے سے ایک پیغام ضرور جائے گا لیکن ریپ کی روک تھام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس کے لیے سوچ کو بدلنا ہوگا۔

سن 2011 میں ریپ کے پے درپے واقعات سامنے ٓآئے۔ سنسان جگہوں پر جاتی لڑکیوں پر حملے ہوئے۔ پولیس نے تحقیق کی تو کنکشن غیر ملکیوں سے جا ملا۔ کنزرویٹو لیڈروں کو موقع مل گیا کچھ کہنے کا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ غیر ملکی پناہ کے طالب ٹراما جیسے حالات سے گزرے ہیں اور ان کا عورتوں کے بارے میں کچھ اور ہی طرح کا تاثر ہے اور ان ریپ کے کیسز میں اسی سوچ کا عنصر ہے۔ جو بھی ہے غیر ملکیوں کو شرمندگی سی ضرور ہوئی۔ ریپسٹ پکڑے بھی گئے اور انہیں سزائیں بھی ہوئیں۔

شراب نوشی کے سخت قوانین ہیں۔ یہ صرف حکومت کی اپنی دکانوں پر فروٖخت ہوتی ہے۔ گروسری اسٹورز پر صرف بیئر خرید سکتے ہیں الکوحل جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ قانونی ہے باقی سب منشیات کا استعمال غیر قانونی ہے۔ نئے آنے والوں کو یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ناروے میں پبلک جگہوں پر الکوحل کا استعمال قطعی ممنوع ہے۔ حتی کہ آپ اپنی بالکونی میں بھی بیٹھے پی رہے ہوں جہاں لوگ آپ کو باآسانی دیکھ سکیں تو تکنیکی اعتبار سے یہ غیر قانونی ہیں۔ آپ لاکھ کہیں کہ یہ میرا گھر ہے یہاں جو چاہے کر سکتا ہوں لیکن یہ ہے قانون شکنی ہی۔ پبلک جگہوں پر حوائج ضروری سے فارغ ہونا بھی جرم ہے۔ اس پر 10 ہزار کرونا کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ نشے میں دھت ہو کر تماشا لگانے کا مطلب ہے کہ رات آپ کو جیل میں گزارنی پڑے گی۔ شراب کا نشہ تمام نشوں سے زیادہ خطرناک اور عام ہے اٹھارہ سال کی عمر میں اسے قانونی طور پر باآسانی خریدا جا سکتا ہے۔ اس کے نقصانات بے شمار ہیں۔ صحت کی خرابی سے لے کر خاندان سے کٹ جانا اور مقروض ہونا بلکہ چوریوں میں ملوث ہونا بھی ہے۔ حد سے گزر جانے پر سڑک کنارے یا کسی تاریک گلی میں جاں سے گزر جانا۔

ایک وقت تھا کہ اوسلو کی تنگ تاریک گلیوں میں رات گئے آپ کو تنگ مختصر لباس میں سجی سنوری عورتیں دکھائی دیتی تھیں۔ یہ سیکس ورکرز تھیں۔ اکثریت جن کی سفید فام اور بلونڈ تھی۔ پھر ٹریفکنگ میں افریقہ اور مشرق بعید سے بھی لڑکیاں آنے لگیں۔

ناروے نے جنس کے کاروبار کو روکنے کے لیے قانون بنایا جس میں سیکس بیچنا تو جرم نہیں لیکن خریدنا جرم ہے۔ بات عجیب سی لگتی ہے اس کے بارے میں پہلے مفصل لکھ چکی ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ خریدنے والوں کو سزا ملے بیچنے والوں کو آئڈینٹی فائی کیا جائے اور انہیں تحفظ اور مدد ملے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے سیکس کے کاروبار میں نمایاں کمی آئی۔ 2009 میں جنس فروشوں کی تعداد 100 تھی اور اب یہ پندرہ سے بیس کے درمیان ہے۔ کھلے عام یہ کاروبار مندا ہے لیکن بس پردہ کوئی نہیں جانتا کہ خریدار کتنے ہیں اور بیچنے والے کتنے۔

ایک منظر جو اب ناروے والوں اور خاص کر اوسلو میں رہنے والوں کے لیے تکلیف دہ لیکن عام ہو گیا ہے وہ مشرقی یورپ کے جپسی گداگر ہیں جو جگہ جگہ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ اپنے ہاتھ میں پکڑے گلاس میں سکے کھنکھاتے آپ کے سامنے کر دیں گے

یہ خانہ بدوش ہر میٹرو اسٹیشن کی ایگزٹ پر، ہر شاپنگ سینٹر کے دروازے پر اور ہر گروسری اسٹور کے باہر بیٹھے ہیں۔ زیادہ تر خواتین ہیں۔ سردی گرمی یہ اپنی مخصوص جگہ پر صبح سے شام ڈھلے تک موجود ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مخصوص حلیہ اور لباس سے بآسانی پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ ہیں کون اور کہاں سے آئے ہیں؟

ان کی جڑیں انڈیا کے شمالی علاقوں سے جا ملتی ہے۔ نویں صدی میں ان کے گروہ انڈیا سے ایران اور ترکی ہوتے ہوئے آرمینیا اور پھر یورپ کے دوسرے ملکوں میں داخل ہوئے۔ آج کی زبان میں انہیں روم فولک کہتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں رومانیہ، بالکان اور ہنگری میں آباد ہوئے۔ لیکن ہر جگہ ان سے امتیازی سلوک برتا گیا۔ یہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ نہ سوسائٹی میں رچ بس سکے نہ تعلیم اور کام کے دروازے ان پر واز ہوئے۔ ان کی شادیاں بھی آپس میں ہی ہوتی ہیں۔ اس سے یہ ہوا کہ یہ اپنی ثقافت اور زبان سنبھالے رہے۔ رہنا سہنا، پہننا اوڑھنا وہی رہا۔ ان کی اپنی زبان ہے جو ان کے علاوہ اور کوئی نہیں بولتا۔

ان کی ایک بڑی تعداد رومانیہ سے پر سال ناروے اور دوسرے اسکنڈے نیویا کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ عام طور پر گزارا بھیک پر ہی ہے لیکن کچھ جرائم میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ چوری چکاری، شاپ لفٹنگ، جسم فروشی اور ڈرگز کی خرید و فروخت بھی۔ پولیس نے ان مسکنوں پر چھاپے مارے تو بڑی تعداد میں برانڈیڈ جیکٹس، کوٹ، بیگز اور جوتے نکلے۔ کچھ گھروں سے تانبے کی تاریں بھی نکلیں۔ یہ تاریں وہ زیر تعمیر عمارت کے باہر سے چراتے ہیں۔ یہ مہنگے داموں بکتی ہیں۔ ایک اور گھر سے قیمتی سایئکلیں برآمد ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مافیا سسٹم ہے۔ انہیں لانے والے ان سے ایک بڑی رقم وصول کرتے ہیں اور ان کی بھیک کی آمدنی کا ایک حصہ ان کی جیب میں جاتا ہے۔

ناروجین ان کے بارے میں دو رائے رکھتے ہیں۔ کچھ انہیں ناروے کے لیے ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور کچھ کو ان سے ہمدردی ہے۔ یہ موضوع سیاہ اور سفید نہیں۔ کئی جہتیں لیے ہے۔ اس کے کئی سماجی اور معاشی پہلو کے علاوہ سیاسی زاویے بھی ہیں ان کے لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پیلے ان سب کا جاننا ضروری ہئی۔ موضوع وضاحت طلب بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔

پچھلے کچھ برسوں سے دنیا میں بچوں سے زیادتی کے کیسز میں شدید اضافہ نظر آ رہا ہے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی بڑھ گئی ہے اور مجرموں کا سراغ لگانا آسان ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجرموں نے بھی نئے نئے طریقے ڈھونڈ لیے۔ بچوں سے زیادتی اور بد فعلی کی ویڈیوز کی بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کا ایک گھناؤنا نیٹ ورک ہے جسے ڈارک روم کہا جاتا ہے۔

ناروے میں ایک پورا محکمہ ہے جو اس قسم کے پیڈوفیلز کا سراغ لگانے میں لگا رہتا ہے۔ 2016 میں ایسا ہی ایک نیٹ ورک ناروے کے علم میں آیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ اس میں پاکستان سے بھی مواد آ رہا ہے۔ پاکستان میں ناروے کے سفارت خانے نے ایف آئی اے کو سعادت امین نامی ایک شخص کے بارے میں اطلاع دی جو بچوں کی پورنوگرافک تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر رہا تھا۔ وہ سرگودھا کا رہائشی تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق اس نے ساڑھے چھے لاکھ سے زیادہ ویڈیوز بنائیں۔ وہ پکڑا گیا اور اسے سات سال کی سزا ہوئی اور بھاری جرمانہ بھی۔ ناروے کے ایک شخص جیمز لیندسٹروم کے ساتھ اس کے رابطے تھے اور ان ویڈیوز کے عوض اسے قیمت ادا کی جاتی تھی۔ یہ ایک بڑا نیٹ ورک تھا اس میں کئی ملکوں کے لوگ ملوث تھے۔ لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اس طرح کی بیمار ذہنیت کے خطرناک لوگ اب بھی ڈھکے چھپے یہ سب کر رہے ہیں۔ اور دنیا میں کہیں بھی بچے پوری طرح محفوظ نہیں۔

بچوں سے زیادتی اور ان پر جنسی حملوں میں ان کے قریبی لوگ ہیں۔ ایک میوزک ٹیچر پکڑا گیا۔ ایک ڈاکٹر اپنی کمسن مریضہ سے تعلق کی کوشش کرتا پکڑا گیا، ایک ڈینٹسٹ اس میں ملوث پایا گیا، سوتیلا باپ، دادا اور خاندان کا معتبر بندہ۔ بچوں کو دوسروں کی ناپسندیدہ چھیڑ چھاڑ سے آگاہی دینے کا یہ فائدہ ہوا کہ اب بچے فوری طور پر رپورٹ کرنے لگے۔ لیکن پھر بھی کئی ہیں جو ڈر خوف یا شرمندگی کی بنا پر چپ رہتے ہیں۔ انہیں یہ باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں ان کا قصور نہیں۔

ناروے کے مہذب معاشرے پر یہ داغ ہیں جو اچھے نہیں لگتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments