بھارت کا ایک اور ڈرامہ بے نقاب


ستائیس جولائی 2021 کو بھارتی فضائیہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے عوام کو مطلع کیا کہ ’اتوار کی صبح جموں ( جہاں ہندوستان قابض ہے، اور مظلوم کشمیروں پر ستم کر رہا ہے ) ائر فورس سٹیشن کے تکنیکی علاقے میں دو کم شدت والے دھماکے ہوئے۔ ایک دھماکے سے ایک عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا جبکہ دوسرا کھلے حصے میں ہوا۔‘ بھارتی ائر فورس کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ان کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں ان دھماکوں کے درمیان چھ منٹ کا وقفہ تھا۔

بھارت ان دھماکوں کو ڈرون اٹیک کا نام دے رہا ہے جس کا الزام حسب عادت وہ پاکستان پر عائد کر رہا ہے۔ اس کا پاکستان پر الزام عائد کرنا کوئی حیران کن بات نہیں ہے بلکہ ایسا وہ ہر بار اپنی کوتاہی چھپانے کے لئے کرتا رہا ہے۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے کام شروع کرنے سے قبل ہی پاکستان کو موردالزام ٹھہرا کر اپنی تنخواہ وصول کر لیتے ہیں ان کے تحقیقاتی اداروں کا تو حال یہ ہے کہ وہ ہماری جانب سے جاتے غبارے تک کو جاسوس اور کبوتر کو دہشتگرد کہہ کر پریس کانفرنس کر لیتے ہیں یعنی سورماؤں کا یہ حال ہے، جب ہی مودی ان کی بلی چڑھ کر ہندوستان پر راج کر رہا ہے۔

بھارت ایک جگہ اپنے کو ترقی یافتہ ملک کہتا کر ٹکنالوجی کے میدان میں سبقت حاصل کرنے والا ملک کہتا ہے دوسری جانب ترقی پذیر ملک کے ڈرون اٹیک ( جو کہ ہمیشہ کی طرح ان کا از خود پلانٹڈ فلاس فیلک آپریشن تھا) سے بوکھلا جاتا ہے اور اپنے اہلکاروں کو بھی زخمی کرا دیتا ہے، خیر اپنے فوجیوں کو مروانا تو ان کی پرانی عادت ہے تب ہی بھارتی سینا فرسٹریشن کا شکار ہے اپنے ذہنی سکون کے لئے وہ کبھی خواتین کو استعمال کرتے ہیں تو کبھی خودکشی ہی کر لیتے ہیں، یہ بات میں نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ یہ بات ہندوستان کے میڈیا میں ہی رپورٹ ہوئی ہیں۔

بھوک سے نڈھال بھارتی فوجیوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی زینت ہیں اور بھارتی سینا میں لالچ کا یہ عالم ہے کہ ان کا سابق میجر اپنی سرکار سے دو کروڑ روپے کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہر سپاہی کو کم از کم اتنی رقم دیں تاکہ ان کا جوان جنگ لڑنے کے قابل ہو۔ بھارتی سینا کو ترقی کیسے ملتی ہے اس کا حال بھی ان کا ایک جوان اپنے کلپ میں بتا چکا ہے کس طرح انہیں اپنی خواتین پیش کرنی پڑتی ہیں جب جاکر ان کے رینک میں اضافہ ہوتا ہے۔

ستائیس جون کے اٹیک سے قبل بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ہندوستان میں کچھ ہونے والا ہے، اب مزے کی بات یہ کہ اس قسم کی اطلاعات بین الاقوامی نیوز ایجنسیاں یا ادارے نہیں بلکہ ماتحت ریاستی ایجنسیاں اپنے ادارے کو دیتی ہیں، اچھا چلیں ہم نے مان لیا بھا رت کی خفیہ ایجنسیاں کسی کام کی نہیں تو بھئی بین الاقوامی نیوز چینل کو ہی سنجیدہ لے لیتے۔ کیسے بھارتی ائر فورس ناکام ہو گئی؟ جبکہ یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہمارا ریڈار سسٹم اتنا اچھا ہے کہ پرندہ بھی پر مارتا ہے تو ہم چوکس ہو جاتے ہیں تو جناب بے بس کیوں ہوئے؟

اور یہ بے بسی پہلی بار تو رونما نہیں ہوئی اس بے بسی کی تو بہت تلخ سچی کہانیاں ہیں، جس پر بہت سے سوالات بنتے ہیں، پلوامہ میں بارود سے بھری گاڑی کہاں سے آئی؟ ہوٹل تاج میں دہشتگرد کیسے آ گئے جہاں معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی بھارتی فوج ناک رگڑنے پر مجبور ہو گئی تھی اور دہشتگرد ہاتھ نہیں آرہے تھے، بھارتی سینا کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے خواتین نے برہنہ احتجاج کیوں کیا؟

پاکستان خطے کے امن کی خاطر کبھی بھی سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے جبکہ بھا رت اپنی وحشی حرکات سے کبھی باز نہیں آتا ہے اور ہمارے معصوم شہریوں پر سیدھے فائر کرتا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے جواب میں ان کی فوجی چوکیوں کو نشانہ کیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل

آرمی چیف جنرل قمر جاو ید با جوہ نے پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر پیغام امن دیا جس کا پوری دنیا نے خیر مقدم کیا اور بحالت مجبوری ہندوستان کو بھی پاکستان کی تعریف کرنا پڑی، دنیا دکھاوے کے لئے چند ماہ سے بھارت نے ایل او سی پر کوئی بھونڈی حرکت نہیں کی ہے تاہم اپنے آقا امریکہ کے کہنے پر وہ ایک بار پھر پاکستان کے اوپر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے کیونکہ پاکستان امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے دو ٹوک الفاظ میں منع کر چکا ہے، وزیراعظم عمران خان نے واضح کہا ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ امن کے شراکت دار ہیں جنگ کے نہیں پاکستان کو مطلوب دہشتگرد جو 30 سال سے برطانیہ میں مقیم ہے کیا وہ ہمیں ڈرون حملے کی اجازت دئے گا۔

دراصل امریکن فوج اپنی روایت کے مطابق ایک مرتبہ پھر ذلیل ہوئی ہے اور اب کی بار یہ مقام ذلت افغانستان بنا ہے، آئے دن افغان مجاہدین امریکی فوجیوں پر حملہ کر رہے ہیں یعنی افغانستان، امریکی فوجیوں کا قبرستان بنتا جا رہا ہے اسی پریشانی سے بچنے کے لئے امریکہ پاکستان سے اڈے مانگ رہا ہے مگر اب ڈو مور کہنے والے کو Absolutely not کی مار پڑی ہے اسی لئے اس نے اپنے چھوٹو بھارت کو پاکستان کے پیچھے لگا یا ہے تاکہ ایک بار پھر جھوٹا حملہ کرا کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز تراشہ جائے کیونکہ افغانستان تو ویسے ہی ایک عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے جس پر پاکستان کے بہت احسانات ہیں آج بھی امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں پاکستان کی کوشش قابل ستائش ہیں تا ہم بھارت کے سے اپنے ایمان کا سودا کرنے والا،

افغانستان کو پاکستان کے احسانات کا ذرا پاس نہیں ہے، اب اس صورتحال میں جب ایک باڈر جو پہلے ہی انتشار کا شکا ر اور دوسرا باڈر بھی کشیدگی شروع کر دے تو یقیناً خطے اور ریاست پر منفی اثرات تو مرتب ہوں گے مگر مملکت خداداد نے ایک عرصے بعد عزت سے سر اٹھا کر جینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم عمران خان افغانستان میں مزید کشیدگی کے پیش نظر باڈر سیل کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں جبکہ اسی فیصد تو وہاں بھاڑ لگنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

رہی بات بھارت کی تو پڑ وسی کو ہماری چائے بہت پسند ہے جسے ہمارے شاہینوں نے اس کے دو جہاز گرا کر پلائی تھی ندیدے بھارت نے Tea is fantastic کے چکر میں اپنا ہیلی کاپٹر خود ہی مار گرایا تھا
بھارت کو یہ بات ذہین میں بیٹھا لینی چاہیں کہ اب اگر ستائیس فروری 2019 والی حرکت کی تو چائے تو اب کی بار بھی مل جائے گی مگر اب کی دفعہ قیمت دو لڑاکا طیاروں سے زیادہ ہوگی ایک اور مزے کی بات بھارت کی غیر سنجیدگی کی حد تو دیکھیں وہ جن ڈرونز اٹیک کی ویڈیو اپنے میڈیا پر چلا کر پاکستان پر الزام عائد کر رہا ہے ایسے ڈرونز تو ہمارے یہاں شادیوں میں تصاویر لیں نے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں، بہرحال یہ بات حتمی ہے کہ ہندوستان آج تک اپنے کسی بھی دعوی کا ثبوت نہیں دے سکا ہے، نہ پٹھان کوٹ، نہ بمبئی حملے، نہ پلوامہ اب ستائیں فروری 2019 کا ہی لے لیں ان کے ایک صحافی راہول کنول نے واقعہ کے دو ماہ بعد ایک شو کیا جس میں دعوی کیا کہ بھارت نے بھی پاکستان کا لڑاکا طیارہ گرایا تھا، اس نے اپنے دیکھنے والوں کو جنگی جہاز کے تباہ پرزے دیکھا کر بغل بجائیں کے جی ہم نے پاکستان کا لڑاکا طیارہ ایف سولہ مار گرایا تھا جبکہ اس آپریشن میں ایف سولہ تھا ہی نہیں مگر وہ زور دیتا رہا کہ جی ہم نے تو کمال کر دیا دوران شو ان کے ہی دفاعی تجزیہ کار نے کہا، یہ ایف سولہ کے نہیں بلکہ ایس او 30 کے کل پرزے ہیں جو پاکستان نے مار گرایا تھا جس کا پائلٹ ابھی نندن پاکستان کی چائے کا آج بھی مداح ہے، چھ ماہ بعد اسی صحافی نے پھر ذلت کے لئے کمر کسی اور گراف زدہ ثبوت لایا جس پر اس کا سوشل میڈیا پر بھرپور مذاق بنا، بین الاقوامی صحافیوں نے بھی اس کے ساتھ بھرپور مذاق کیا۔

رافیل طیارے خریدنے کے بعد بھارت اپنے آپ کو بہت طاقتور ملک سمجھنے لگا ہے پھر راجستھان میں امریکی فوجیوں سے فنون حرب سیکھنے کے بعد تو بھارت کے قدم زمین پر نہیں ہیں وہ ایک بار پھر ذلیل ہونے کی تیاریوں میں ہے اور پاکستان چائے بنانے کے لئے تیار ہے مگر اب کی بار چائے کی قیمت دو لڑاکا طیارے نہیں بلکہ وہ سب رافیل ہوں گے جو وہ فرانس سے لے چکا ہے جبکہ اللہ کے فضل سے پی اے ایف دنیا کی وہ پہلی ائر فورس ہے جو اپنے طیارے خود بناتی ہے بلکہ اب ہم اسے فروخت بھی کرنے لگے ہیں۔

پاکستان کی غیور فوج اپنے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دشمن کے جنگی طیاروں کو زمین پر لا پھینکتی ہے اور پائلٹ کو چائے پلا کر دو پیس سوٹ پہنا کر اس کے ملک روانہ کرتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words