عثمان خان کاکڑ شہید

عالیہ دنوں ایک سانحہ رونما ہوا جس سے سارے جمہوریت پسند اور مزاحمت پسند اشکبار ہوئے لوگوں کو اس واقعے نے جھنجوڑ کہ رکھ دیا۔ جمہوریت پسند اور مزاحمت پسند اقوام کی چوٹی کے لیڈر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری، صوبائی صدر اور سابقہ سینیٹر عثمان خان کاکڑ شہید ہوئے جو کہ ایک نظریاتی، انسان دوستی کے ساتھ مظلوم اقوام کی نمائندگی ماورائے رنگ، نسل، زبان اور علاقہ جس خلوص یا اخلاص سے انہوں نے کی واقعی ایک انمول مثال ہے۔
اس واقعے نے ساری دنیا کو یہ بتا دیا کہ نظریات اور عوامی سیاست خواہ وہ انتہائی مشکل اور مقتدر حلقوں کو ناپسند کیوں نہ ہو راہ حق اور من پسند ہے اس ہی کھڑی کے ایک مثال باوجود ان تمام تر مشکلات کے عثمان خان کاکڑ شہید تھے جنھوں نے جدوجہد اور مزاحمت جاری رکھیں زمانہ طالب علمی سے لے کر اپنی شہادت کے آخری لمحات تگ۔ سینٹ کی آخری تقریر جس میں جب عثمان خان کاکڑ شہید نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاں کہ جناب چیرمین صاحب پاکستان کی دو انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ وہ مظلوم اقوام کی سیاست اور جمہوریت پسندی سے کنارہ کش ہو جائے ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ باوجود منڈلاتے ہوئے خطرات کہ انھوں نے کہا کہ میری جان کی پرواہ نہیں یہ سیاست اور خدمت میں کرتا رہوں گا صرف ایک بات یاد رکھیں جائے کہ میرے
واقعے کو گم کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔
عثمان خان کاکڑ شہید کون تھے اور ان کی شہادت کا پیغام مظلوم اقوام اور ان کے رہنماؤں کے لیے کیا ہے۔ عثمان خان کاکڑ شہید ایک سردار کے بیٹے ہونے کے باوجود بھی کبھی اپنے نام کے ساتھ سردار نہ لکھا نہ لکھنے کی خواہش ظاہر کی، نہ ختم ہونے والی جدوجہد اور خدمت پر یقین رکھتے تھے حالانکہ ہمارے ہاں یہی وہ نام ہے جن سے لوگ اپنی تعریف کر آتے ہیں مگر عثمان خان کاکڑ شہید نے اپنے کردار سے یہ ثابت کر دیا کہ یہ مثبت کرداروں کے نام ہونے چاہئیں اور اپنے عمل سے ثابت کرانا چاہیے کہ واقعی وہ اپنے قوموں کے نمائندے اور خدمت کرنے والے ہیں۔
عثمان خان کاکڑ شہید پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں میں یکساں طور پر مشہور تھے اور ان کی ایک عدت مخصوصہ یہ تھی خاندانی، پارٹی اور پارلیمانی مصروفیات کے باوجود وہ ایک ادنیٰ کارکن سے لے کر پارٹی کے رہنما تک کو ہر وقت میسر ہوا کرتے تھے۔ اگر کبھی مصروف ہوتے کسی کی فون کال یا پیغام آ جاتا تھا تو وقت مل جانے کے بعد وہ خود اس شخص کو فون کرتا یا اس کے پیغام کا جواب بھیج دیا کرتا تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی ہے کچھ پڑھ لکھ کر یا کوئی چھوٹا موٹا عہدہ مل جانے کے بعد ہم اپنے اقدار، چھوٹوں پر شفقت بڑوں کی عزت اور بزرگوں کا احترام پھر بھول جاتے ہیں۔ کاکڑ نے ان ذمہ داریوں کا خوب احترام اور لاج رکھا اور یہ وہ اقدار ہیں جو ان کی پہچان بنی۔
عثمان خان کاکڑ شہید کے صوبائی صدر آنے سے پہلے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی زبوں حالی کا شکار تھی۔ پارٹی صوبائی صدارت کے مل جانے کے بعد انہوں نے گلی کوچوں، علاقوں کے دورے شروع کیے، گلیوں کے یونٹوں اور علاقائی یونٹوں کو فعالیت دی جس کی بدولت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے 2013 کے عام انتحابات میں تقریباً تمام پشتون علاقوں کے سیٹ جیتے : سٹی ناظم اعلیٰ، صوبائی نمائندگی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی ملی۔
شہرت اور نام مل جانے کے بعد کچھ کینہ پروروں کا مل جانا فطری عمل ہے ان کو بھی بخوبی سنا اور ان کے چھوٹوں پر شفقت کیا اور کبھی بھی ان کو برا بھلا نہ کہا، کسی اور کو بھی کہنے کے لئے مجبور نہیں کیا۔
ایک اور مخصوص عدت عثمان خان کاکڑ شہید کی کہ وہ پارٹی صوبائی صدر ہونے کے باوجود پارٹی کے ایک ادنیٰ کارکن کو منٹو سنتے خندہ پیشانی سے اور کبھی بھی ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ اپنے لیڈری ان کو دکھاتے اور یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میں آپ سے زیادہ سمجھتا ہوں یا جانتا ہوں مگر وہ منٹو ان کو سنتے اور سر ہلاتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے۔
تمام قومیتوں، برادریوں اور مذاہب کا احترام کرتے تھے اور ان کے رہنماؤں سے ملاقات ان کی ہوا کرتی تھی اور یکساں مقبولیت وہاں بھی رکھتے تھے۔
تمام خوبیوں کے علاوہ وہ اپنی پارٹی کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی کے دستہ راس اور امراض تھے جن کا مظاہرہ عثمان خان کاکڑ شہید کی نماز جنازہ سے لے کر فاتحہ خوانی کی آخری ایام اور ان کی قبر پر حاضری سے آپ تمام حضرات کو پتہ چل چکا ہوگا کہ وہ ایک عظیم کارکن سے محروم ہوئے۔
عثمان خان کاکڑ شہید کی خوبیاں، پرورش اور کارنامے تھے کہ اپنی پارٹی کارکنوں کے علاوہ وہ تمام مظلوم اقوام میں یکساں مشہور اور معروف تھے عثمان خان کاکڑ پر حملے کی خبر، ہسپتال میں داخل ہو جانے کے بعد عوامی رد عمل، ہسپتال میں عیادت کے لیے لوگوں کا جانا، گرا و زاری، ان کے لئے خیر و عافیت کی دعا کرنا اور روڈ کے دونوں اطراف پر ان کے لیے احتراماً کھڑا ہونا، ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد عثمان خان کاکڑ کی آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں منتقلی اور پھر ان کی شہادت کی خبر سے پہلے چاہنے والوں نے ان کی صحت کے لیے ذکر و اذکار، قرآن خوانی اور خیرات کیے مگر چونکہ کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے عثمان خان کاکڑ نے اپنی قوم، دھرتی اور مظلوم عوام کی خاطر عظیم قربانی دی اس دنیا فانی سے چلا گیا ظالموں اور جابروں نے ان کو شہید کر دیا۔
کراچی کے جناح گراؤنڈ کے جنازے سے لے کر سندھ کے گوٹھوں کے عوام نے خراج عقیدت اور بلوچستان میں داخل ہوتے ہی بلوچستان کے جمہوریت پسند بلوچ اقوام نے خراج تحسین اور عقیدت کے پھول نچھاور کیے، عثمان خان کاکڑ شہید کی میت کا گزر جن علاقوں سے ہوا ہر مکتبہ فکر اور قوم نے عثمان خان کاکڑ کی میت کے کاروان پر پھول برسائے، سلوٹ کیے، پیار اور محبت کا اظہار کیا۔ تمام عمر افراد شامل تھے بلوچ قوم نے ان کی جدوجہد کو سراہا ان کو خراج تحسین اور عوام نے کہاں کہ ہم ایک مخلص لیڈر سے محروم ہو گئے۔
لاکھوں چاہنے والوں اور اتنے بڑے نماز جنازہ عثمان خان کاکڑ شہید کی جو مدتوں یاد رکھا جائے گا، لاکھوں چاہنے والوں اور اس کی نمازجنازہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عثمان خان کاکڑ شہید کی فکر اور سوچ، کہ مظلوم اقوام کے لیے جہدوجہد کرنا اب ایک پلیٹ فارم سے فرضین ہو چکا ہے۔ بے فکر پنجابیوں ( مدہوش کہ انہیں آگ نہیں جلائے گی) ، مظلوم بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں اور پشتونوں کے راہنماؤں نے اب ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنی ہوگی اور اپنی مظلوم قوموں کے لیے آئینی اور معاشرتی حقوق حاصل کرنے ہوں گے ورنہ ایک ایک کر کے سب شہید ہوتے چلے جائیں گے۔
اس سانحہ نے یہ بھی بتا دیا بے شک آپ محترم میاں محمد نواز شریف کے فلیٹ فارم سے سیاست کرے یا آپ زرداری صاحب یا عمران کے ساتھ کرے تب تو ہمارے ”آنا“ کو کچھ نہیں ہوتا مگر مظلوم عوام کا ایک پلیٹ فارم پر سیاست کرنا کیوں انا پرستی ہے اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا اور ایک کو امام بنانا کیوں ہماری انا پرستی بن جاتی ہیں اس انا پرستی نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا، اور مزید ذلیل و خوار کرنے والی ہے یہ انا پرستی بصد احترام۔
عثمان خان کاکڑ شہید کی سانحہ نے اگر اب بھی مظلوم اقوام کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ کیا اور ان ماؤں اور بہنوں کی آں و زاریاں اگر اب بھی ان کو جمع نہ کرسکیں جو اپنے بچوں کی تلاش میں در در ٹھوکریں کھاتی سڑکوں پر نظر آتی اور عید سڑکوں پر مناتی ہیں تو کوئی اور سانحہ ان حضرات کو اکٹھا نہیں کر پائیں گی۔
پسماندگان کے لیے صبر اور حضرت امام بن حنبل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ عظیم لوگوں کو آپ ان کی کی موت کے بعد پہچانیں گے یعنی ان کے نماز جنازہ اور استقبال سے۔
