بدلا بدلا ہے عمران خان
خود اعتمادی کی دولت یقیناً ایک بہترین ہتھیار ہے جس کی مدد سے آگے بڑھنے کے راستے آسان ہوتے جاتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے سفر میں بہت سے تجربات سے گزرنے کے بعد ہی اعتماد کی دولت سے نوازا جاتا ہے۔ آج کل ساری دنیا نے جس شخص کو موضوع بحث بنایا ہوا ہے اس کا سبب پراعتماد رویہ ہی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان جس جرات اور بہادری کے ساتھ امریکہ بہادر کے مسلمان دشمن میڈیا کو کھری کھری سنا رہے ہیں اس پر ہر ایک انگشت بدنداں ہے۔
وہی شخص جو چند ماہ پہلے ”تحریک لبیک“ کے مطالبے کو صرف اس دلیل کی بنیاد پر نہیں مان رہا تھا کہ چونکہ پاکستان معاشی طور پر ایک کمزور ملک ہے جو یورپی یونین کی مخالفت مول نہیں لے سکتا، لہذا فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے مگر آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو برابری کی سطح پر بات چیت کرنے کے لیے زور دے رہا ہے۔ زبان کی ایک ہی جنبش میں ABSOLUTELY NOT کہنے والا کوئی اور نہیں وہی عمران خان ہے کہ جس نے معصوم عاشقان رسول پر ڈھائے گئے مظالم پر معذرت بھی نہیں کی تھی کیونکہ اس وقت حقیقت اور مادیت پرستی کے تقاضے کچھ اور واقعہ بیان کر رہے تھے۔
”پاکستان امریکہ کو اپنے اڈے فراہم نہیں کرے گا“ سے شروع ہونے والا سفر اب اپنے پورے کلائمیکس پر ہے اور وزیر اعظم پاکستان روزانہ کی بنیاد پر امریکی ٹی وی چینلز، جریدوں اور اخبارات کو انٹرویوز دے رہے ہیں اور ان کی گفتگو میں اس بات پر زور ہے کہ امریکہ اپنے سیاسی اور معاشی تعلقات میں پاکستان کو بھارت والا درجہ دے اور تباہ حال افغانستان کے مستقبل میں پاکستانی کردار کو محدود نہ کیا جائے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمران خان کا جواب کچھ یوں تھا ”جب جو بائیڈن ضروری سمجھیں گے مجھ سے رابطہ کر لیں گے مگر لگتا یہ ہے کہ اس وقت ان کی ترجیحات مختلف ہیں“ ۔
امریکہ تو امریکہ، بھارت بھی کپتان کے اس جارحانہ انداز سے پریشان ہے چنانچہ سارا بھارتی میڈیا عمران خان کے جارحانہ رویے کو دنیا کے سامنے اور خصوصی طور پر امریکہ کے لیے تشویشناک اور خطرناک انداز میں پیش کر رہا ہے۔ یوں دکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان نے ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے یک دم ٹونٹی ٹونٹی میچ کی سٹریٹجی اپنا لی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر جلد ہی حقیقت سامنے آ جائے گی مگر موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دلیرانہ اقدام کی پہلی سزا ایف اے ٹی ایف کی جانب سے سنائی جا چکی ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے ہمارے خطے کے ایک ملک سری لنکا کو آدھے سے زائد اہداف مکمل کرنے پر گرے لسٹ سے نکال دیا مگر پاکستان کو ستائیس اہداف میں سے چھبیس اہداف مکمل کرنے پر بھی گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب شاہ محمود قریشی کے بقول سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی ادارہ ہے یا ایک سیاسی ادارہ بن چکا ہے؟ کیا ایف ای ٹی ایف کسی خاص ملک کے سیاسی و مالیاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا ہے؟
اب ان باتوں کے جواب کا وقت آ گیا ہے مگر پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ترسیلات زر کا سیلاب رکنے کا نام نہیں لے رہا اور پاکستانی معیشت بڑی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ عالمی ادارے پاکستانی معیشت کے لیے خوش کن اشارے دے رہے ہیں مگر اس ترقی کے سفر میں ایک خطرے کی گھنٹی بھی بج رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہودیوں کا حمایت یافتہ ایک غیر مسلم طبقہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اس طبقے کو اپنے مرکزی دفتر سے سخت ہدایات ہیں کہ ہر طرح سے اور خصوصی طور پر مالی لحاظ سے عمران خان اور اس کی حکومت کی حمایت کی جائے۔
اس بات کی تصدیق برطانیہ میں مقیم میرے ایک دوست محترم سرفراز انجم کاہلوں نے بھی کی۔ محترم سرفراز انجم کاہلوں برطانیہ کے شہر کیمبرج میں پچھلے کئی عشروں سے سیاست کر رہے ہیں اور انگریزوں کے علاقے میں رہتے ہوئے مسلسل کئی الیکشنز جیت چکے ہیں جو ان کی عوامی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے وہ برطانیہ میں اپنے ضلع کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔ برطانیہ کو ویسے بھی پاکستانی سیاست دانوں کا دوسرا گھر کہا جاتا ہے چنانچہ کاہلوں صاحب کو بڑے بڑے پاکستانی سیاست دانوں کی میزبانی کا شرف کئی بار حاصل رہا ہے۔
سرفراز کاہلوں سے چند دن پہلے فون پر بات ہو رہی تھی جب انہوں نے مجھے یہ خبر دی تو میں پریشان ہو گیا اور ان کے اس انکشاف سے مجھے نظریہ پاکستان کے دفن ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا اور ساتھ میں قرارداد مقاصد کے بے اثر ہونے کا امکان بڑھ گیا۔ پوری قوم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ معیشت کی اس بحالی مہم میں پاکستان کہیں اپنی نظریاتی ڈگر سے نہ ہٹ جائے اور پاکستان کو معیشت کے سنہرے خوابوں کی تعبیر کی صورت میں اپنے نظریاتی سرحدوں کو ختم نہ کرنا پڑ جائے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی کہ مبادا روٹی اور روزی کا چارہ پھینک کر مذہب کو زندگیوں سے دیس نکالا کا حکم دے دیا جائے۔ یاد رکھیں! آخری فیصلہ عوام کا ہی ہوتا ہے۔


