یہ جو ہم چپ رہتے ہیں

ماں سے جو سنی ہیں، اس کے پاس جو سنانے کو کہانیاں تھیں۔ وہ دیہی سندھ کی ہیں۔ نانا کب لائلپور سے اٹھ کر رانی پور سندھ گئے۔ اس کی تاریخ سال کبھی پوچھا نہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے یا بعد کا ہی کوئی وقت رہا ہو گا۔ کب سندھ سے اٹھ کر ساہیوال آ گئے یہ پتہ ہے۔ جب سندھ میں زبان کے مسئلے پر احتجاج ہوا۔ اس کے بعد سال دو لگے انہیں زمین بیچنے اور نئی جگہ ڈھونڈنے میں۔

دو مربعے یا شاید زیادہ بے آباد زمین تھی۔ ٹیلے تھے جنہیں ہموار کر کے قابل کاشت کرنا تھا۔ ماموں اور امی چھوٹے تھے۔ چھوٹی سی گوٹھ تھی، سب ہی رشتہ دار تھے۔ اردگرد ساری زمینیں اپنے ہی لوگوں کی تھیں۔ گوٹھ سے کھیتوں تک کام کرتے بڑوں تک کھانا پہنچانا لڑکیوں کی ہی ذمہ داری ہوتی تھی۔

یہ کہانیاں ان پانچ سو گز کے سفر کی ہیں۔ کبھی راستے میں سانپ دیکھ لیا۔ کبھی ٹیڑھے میڑھے کھالوں پگڈنڈیوں سے دھڑام کھیت میں جا گرے بھوت سے ہو گئے۔ کبھی اونٹ گائے سے ڈر کر انہی کے آگے لگ کر بھاگ گئے۔ اپنی چیخوں سے انہیں ڈرا کر کامیابی سے انہیں بھی اپنے ہی پیچھے لگا لیا۔ کبھی ہاتھ میں کلہاڑی پکڑے لمبی مونچھ والے کسی سندھی بزرگ کو اپنے ڈیرے پر بیٹھے دیکھ کر ڈر گئے۔

پھر کھیتوں میں لگی اپنی پرائی کپاس چننے آتے اور جاتے سندھی لڑکیوں اور بزرگ مائیوں سے دوستیاں بھی ہو گئیں۔ کپاس کی چنائی کا حساب کتاب کرتے بیٹیوں کو حصہ اور پیسے زیادہ ملتے ہیں یہ بھی جان لیا۔ بڑی خالہ کی شادی بھی وہیں ہوئی۔ ان کی گوٹھ دور تھی۔ انہیں عید ایک سے زیادہ گھروں سے جاتی تھی۔ نانا کے اپنے گھر سے اور ان کے سندھی دوست کے گھر سے۔

میری پیدائش سندھ کی ہے۔ ان کہانیوں نے بہت بعد میں سندھ کے بہت سے سفر کیے، خالہ زاد بہنوں کا ہمارے پاس پشاور آ کر رہنا اور پڑھنا۔ ان کے پاس آتے جاتے رہنا۔ رلی، سندھی ٹوپی، کڑھے ہوئے رومال، پراندے، مچھلی، اور امی نانی کی دوست مائیوں سے ملے پیار نے سندھ کے ساتھ مستقل جوڑ رکھا ہے۔ ان بہت سی ڈھیریوں نے بھی روح کی مٹی مٹی سے ملا کر تعلق پکا کر رکھا ہے۔

ابا سے جو سنی ہوئی پہلی باتیں یاد ہیں وہ گلگت بلتستان کوہستان کی ہیں۔ شاہراہ ریشم بن رہی تھی۔ ان کی وہاں بطور انجنیئر ڈیوٹی تھی۔ راستے تھے نہیں، راستوں میں ہی پھنسے رہ جاتے تھے۔ کئی کئی دن راہوں میں اپنی جیپ میں ہی پڑے رہتے۔ پیسے ہوتے کھانا نہ ہوتا۔ مقامی لوگ اکثر مدد کو آتے۔ چینی انجنیئروں کے ساتھ اک چھوٹے سے چشمے پر اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہوا پاک چین دوستی کا پل۔ جو پہلی برف باری میں ہی ایسا غائب ہوا کہ گہری کھدائی پر بھی اس کے آثار نہ ملے۔

کئی دہائیاں بعد ابا اک کوہستانی کو گھر لے آئے۔ اس کے ساتھ اس کی والدہ بھی تھی۔ شہد کی دو بوتلیں تھیں۔ وہ اپنی والدہ کے علاج کو پشاور شہد بیچنے آیا تھا۔ واپسی کا کرایہ نہیں تھا۔ ڈرا ہوا ڈرائینگ روم میں پریشان بیٹھا تھا۔ کھانا کھلا کر اسے اڈے پر لے جا کر بس پر بٹھایا۔ اس کو جو جیب خرچ دیا وہ پانچ سو ہزار ہو گا۔ گھر میں اتنے ہی پیسے تھے۔

ابا نے تو شاید اپنا کوئی قرض اتارا تھا، کسی کی مدد لوٹائی ہو گی۔ وہ ہمیں آج تک بتاتے ہیں کہ اس دن کے بعد مجھے کئی دن تک بہت پیسے کہاں کہاں سے آتے رہے۔ لوگ کام کہنے آتے تھے یا وہ حساب چکانے جو انہیں یاد بھی نہیں تھا۔ اور پیسے دے جاتے تھے۔ یہ ذکر مجھے اضافی ہی لگتا ہے۔ ابا بس اپنا اطمینان ہی بتانے کو کہانی ہی سناتے ہوں کیا پتہ؟

اب سکولے چلیں؟ مشر سے کھڑپینچ سے، اپنی ہم جماعت سہیلیوں سے ملاؤں؟ خوب استی سے، وہ افغان لڑکی جو میرے ساتھ مانیٹر تھی؟

ان سکول فیلوز کا ذکر کروں جو ابنارمل تھے، کھڑپینچ انہیں لیونی (دیوانے ) کہتا تھا۔ سکول کی برکت سے ہم روغ اور لیونی کو دور سے پہچان لیتے ہیں ، جان جاتے ہیں کہ کون ٹھیک ہے اور کون جھلا ، آپ کو بھلے ہم ہی جھلے لگتے ہوں تو بھی ہمیں کیا ، سمجھتے رہیں ۔

وہ ہم جماعت جو عیسائی اور ہندو تھے۔ وہ باتیں بتاؤں جو کہنے کی نہیں، ہم کرتے تھے۔ ہم اپنے کالے دوست کو کالا، میلے کو خڑ، لمبے کو ڈیرانی، سب کو اس گندے نام سے بلاتے تھے جو برا لگتا۔ اور تو چھوڑیں حاجی صاحب سے جب ملتا وہ آنکھیں بند کر لیتے، پوچھتے ”کہ سوک اے؟“ کون ہو بتاتا کہ آصف ہوں تو وہ پھر پوچھتے کہ ”طور آصف؟“ کالے آصف ہو، سڑ کر بتاتا کہ کالا ہی ہوں وہ چٹا تو آپ کا حال پوچھنے نہیں آتا۔

یہ گندے نام برے انداز اک وجہ سے بتا رہا ہوں۔ یہ برے نہیں لگتے تھے، پتہ نہیں کیوں ان سے پیار ہی جھلکتا تھا۔

خیر، بتانا یہ تھا کہ سکول جا کر تین روگ لگ گئے، شنواری، آفریدی اور افغان۔ تب احساس نہیں ہوتا تھا۔ اب ہوتا ہے کہ یہ ہڈیوں میں اتر گئے۔ ان سے روح مل گئی۔ عادتیں اپنا لیں۔ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ اک شنواری دوست کی والدہ فوت ہوئی۔ ان سے ملا بھی تھا۔ کبھی کبھار دوست کے ساتھ بھی گیا، جب وہ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا تھا۔

اب دعا کے لیے جانا تھا اور دعا کرنی آتی نہیں تھی۔ اور دعا بھی حاجی صاحب سے ہی کرنی تھی۔ دعا کرنی ایسے سیکھی کہ دوست حاجی صاحب کے پیچھے کھڑا ہو کر اشاروں سے بتاتا رہا کہ ایسے کرو۔ اب ہاتھ اٹھاؤ، اب رکو، اب قہوہ پینا ہے، اب پھر ہاتھ اٹھاؤ اور دعا کا کہو۔

ایسے کون سکھاتا ہے وہ بھی اپنے غم میں۔ اس مشکل وقت بھی اس یار کو مسئلہ یہ تھا کہ اس کا دوست کہیں کم نہ پڑتا محسوس ہو۔ حاجی صاحب کو اپنا ہی لگے۔

فاٹا والے، افغان، یا سندھی اور بلوچی، ان سے تعلق کے بہت حوالے ہیں۔ جو مٹی کے بھی ہیں اور پانی کے بھی۔ ان کے ساتھ دکھ سکھ اور ہنسی سانجھی ہے۔

یہ جو ہم چپ رہتے ہیں، کچھ کہہ نہیں پاتے، تو یہ بس انہیں ہی بتاتے اور سناتے ہیں جو کچھ کر سکتے ہیں۔ تمھیں بس اتنا بتاتے ہیں کہ چپ ضرور ہیں پر ساتھ ہی رہتے ہو اور تمھیں دل میں رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words