جنرل صاحب، پانچ جولائی اور واشنگ پاؤڈر


بہتیروں کو اس واشنگ پاؤڈر کا اشتہار یاد ہو گا جس میں ہمیں باور کروایا جاتا تھا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں، جنہیں یہ اشتہار یاد نہیں وہ اپنی دماغی صلاحیت تیز کرنے کے لیے حکیم جاہل جان لیوا کا گاؤزبان چار ہفتوں تک استعمال کریں، اگر اللہ نے چاہا تو کچھ افاقہ محسوس نہیں ہو گا، خیر بات ہو رہی تھی داغوں کی، لباس کو لگنے والا داغ تو اچھا ہو سکتا ہے مگر تاریخ کی پیشانی پر اگر داغ پڑ جائے تو قوموں کا حسن گہنا جاتا ہے، ہمارے حسن کو بھی ایک بار پھر گہن پانچ جولائی کو لگا تھا، جب ایک مرد قلندر و مومن و مجاہد و کمانڈر پاکستانی اقتدار کے افق پر غیر فطری طریقے سے نمودار ہوا تھا، اس مرد آہن نے نیک سیرتی کا چولا زیب تن اور پارسائی کا مکھوٹا چڑھا رکھا تھا، جس کے عزائم کی خبر شاید منکر و نکیر بھی نہ رکھتے تھے، ہمارے دانشور آج بھی حسد کی آگ میں جل کر دائمی عذاب کا شکار ہیں، ایک ولی کامل سے بغض و عناد، کیا کسی کو فیصلے کا دن آنے میں شک ہے.

جس کو دیکھو اس درویش کے خلاف محاذ کھولے بیٹھا ہے، کیا بینائی آپ کی تعصب نے چھین لی ہے جو اس درویش کی عظمت کا اقرار نہیں کر رہے، اس کی ذہانت کے آپ کیوں قائل نہیں ہیں، دلائل کے ہمالے آپ کے سامنے ہیں اور آپ پھر بھی انکار کیے جاتے ہیں، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ نیوٹن و آئن سٹائن کی ذہانت ہمارے مرد قلندر کے سامنے دو زانو ہے، ان دو چھٹ بھیوں نے تو فقط سائنس کے کچھ قوانین دریافت کیے تھے، وہ نہ کرتے تو کوئی اور کر لیتا، مگر جس طرح حضرت ولی کامل نے حکمرانی کی، وہ اگر نہ کرتے تو کون کرتا، شاید قیامت آنے تک ایسا خیال کسی کے کند ذہن میں نہ آتا کہ عوام کو اس طرح بھی بیوقوف بنایا جا سکتا ہے، یہ مذہب کا منجن جو اس نے بیچا کیا کوئی اور بیچنے پر قادر تھا، جذبات کی جو مدرا مذہب کے نام پر ہمیں پلائی گئی کیا کوئی اور ساقی ایسا کر سکتا تھا۔

آئیے ذرا تاریخ کا دریچہ وا کرتے ہیں، اس شخص کا نام جنرل (ر) فیض علی چشتی ہے جو امیر المومنین کا کبھی معتمد خاص تھا، اب ان سے زیادہ کس کی گواہی میں صدق ہو سکتا ہے، جنرل صاحب لکھتے ہیں کہ امیر المومنین صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اسلام کا نعرہ مستانہ بلند کرتے تھے، رمضان آرڈیننس کے ذریعے ہوٹلوں وغیرہ کو بند کرتے تھے، جب کہ ان کے اپنے بیرکوں میں رمضان کے دوران دوپہر کو کھانا پکتا تھا (خدا نخواستہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ امیرالمومنین روزہ سے نہیں ہوتے تھے) ، کبھی کبھار امیرالمومنین سائیکل پر بھی عوام کے درمیان جا نکلتے تھے، بعد میں پتا چلتا تھا کہ یہ کرتب پوری پلاننگ کے ساتھ کیا گیا تھا، اسی طرح کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو فیض علی چشتی نے ”بھٹو، ضیاء اور میں“ میں لکھی ہیں۔

ایسی باتیں کچھ بائیں بازو والے بھی بتاتے ہیں، جس سے آشکار یہ ہوتا ہے کہ اکثریت امیرالمومنین کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھتی، کچھ دائیں بازو والے بھی جنرل صاحب سے بدظن ہیں، نہ جانے کیوں اکثریت ان کی مخالف کیوں ہے، ہاتھ اپنے دل پہ رکھیئے اور ایماندارانہ رائے دیجیئے کہ جنرل نے پاکستان کے لیے جو کچھ کیا، کیا کوئی اور وہ کر سکتا تھا، فرقہ واریت کا ناگ کیا کسی اور حکومت کے ہوتے ہوئے اس طرح پھن لہرا سکتا تھا، شیعہ سنی کے درمیان اس قدر تقسیم کسی اور کے دورحکومت میں کیا ممکن تھی، دہشت گردی کو کوئی حکومت کیا ریاست کی پالیسی بنا سکتی تھی، کوئی اور حکومت لوگوں کی پیٹھوں پر کوڑے برسا کر کیا ان کو لہو لہان کر سکتی تھی، ان کے نیک اعمال کی ایک طویل فہرست ہے جن کو ہم قرطاس پر اتارنے سے عاجز ہیں۔

اب آپ کو ایک لطیفہ سناتے ہیں، آج کچھ پانچ چھ برس پیشتر ایک صاحب سے پاکستانی حکمرانوں پر بات چل نکلی، مذہبی آدمی تھے اور مذہب بارے علم قطرے سے زیادہ نہ تھا اس لیے ہر مخالف کو تہ تیغ کرنے کے حق میں تھے، فرمانے لگے کہ پاکستان میں اگر اسلام کو نافذ کرنے کی اگر کسی نے سنجیدہ کوشش کی ہے تو وہ جنرل ضیاءالحق ہے، باقی سب منافق تھے یا امریکہ کے غلام۔ یہ لطیفہ ہی تو تھا کہ اسلام کو نافذ کرنے کی جنرل نے سنجیدہ کوشش کی تھی، لیکن یہ لطیفہ عام صنف سے ذرا ہٹ کر ہے، اس لیے شاید آپ نے تبسم نہ فرمایا ہو۔

Facebook Comments HS