پاکستان کا خاندانی نظام اور انسداد گھریلو تشدد بل


پاکستان میں مشرق کے فضائل بیان کرتے ہوئے پاکستان کے خاندانی نظام کی مضبوطی کی فضیلت بہت شد و مد سے بیان کے جاتی ہے ساتھ میں تڑکے کے طور پر مغرب کی برائیاں اور بے حیائیاں اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ جس کا ایمان نہیں بھی ڈگمگانا وہ بھی دعا مانگے کہ یہ جنت مجھے زمین پر دیکھنے کا موقع ملا ساتھ میں ان کے خاندانی نظام کی ابتر صورتحال اور اس کے اثرات ”مرنے کے بعد کیا ہو گا“ کے طور پر فلم کی طرح بیان کیے جاتے ہیں لیکن ہماری قوم بھی ایسا چکنا گھڑا ہے کہ سب سے بڑی ویزے کے حصول کی قطار انہی ممالک کی ایمبسیوں کے باہر ہوتی ہے میری سمجھ سے باہر ہے یہ بات کہ اتنی اچھائیوں کے بعد خرابی کی جڑ ملکوں میں تشریف لے جانے کی کیا ضرورت ہے بری صحبت کا برا اثر ہوتا ہے اس لیے مغرب جا کر ان برائیوں کے نظارے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

پاکستان کے جس خاندانی نظام کی اچھائیاں اور فضائل دن رات بیان کیے جاتے ہیں اس کی زمین بوس ہوتی عمارت کے مناظر Sustainable Social Development Organisation Tracking numbers :A state of violence against women and children in Pakistan کے اعداد و شمار سے عیاں ہیں۔ اس کی سال 2020 کی رپورٹ میں حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے اس لیے جن لوگوں کو ان اعداد و شمار پر غصہ ہوتا ہے کہ یہ غیرملکی سازش ہے تو یہ بے جا ہے اس کے مطابق سال 2020 کے آخری چھے مہینوں میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد میں دگنا اضافہ دیکھا گیا اور بچوں پہ تشدد کے 1920 کیس، خواتین پر تشدد کے 9401 کیس، honour killing کے 2556 کیس نوعمری کی شادی کے 32 کیس رپورٹ کیے گئے۔

یہ وہ کیس ہیں جو رپورٹ ہوئے اور اخباروں کے ذریعے توجہ پا سکے۔ ہمارے پسماندہ علاقوں میں جس قسم کے تشدد کا سامنا خواتین اور بچوں کو کرنا پڑتا ہے وہ رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے child right index پہ دس میں سے صرف 5.46 سکور کیا ہے اور Women Peace and security index 2019 / 2020 میں پاکستان 167 ممالک میں 164 نمبر پر براجمان ہے۔ پاکستان کا شمار خواتین کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں افغانستان اور کانگو ریپبلک کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس سب کا Domestic Violence Protection and Prevention Bill سے کوئی لینا دینا نہیں یہ ساری برائیاں اس بل سے پہلے موجود ہیں اور جس بے حیائی کا فلڈ گیٹ اس بل نے کھولنا ہے اس میں ہم پہلے ہی گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ UNO کے مطابق domestic violence یا abuse اس طرح کے رویہ کا نام ہے جو اپنے ساتھی یا کسی بھی فرد جو ساتھ رہتا ہو اس کے اوپر اپنا دباو یا اثر قائم کرنے کے لیے اختیار کیا جائے۔ اس میں وہ رویہ اور کام جس سے دوسرا خوفزدہ ہو، پریشان ہو، شرمندہ ہو، معاشی مشکلات کا شکار ہو یا زخمی ہو یا موت واقع ہو جائے اس زمزمے میں آتے ہیں۔

اس کا شکار گھر میں رہنے والا کوئی بھی فرد ہو سکتا ہے اس میں خواتین، بچے، بوڑھے اور کمزور افراد ہو سکتے ہیں۔ اس تشدد میں ذہنی، جسمانی، جنسی اور معاشی تشدد شامل ہے۔ اس کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ اس کا شکار ہونے والا شخص یا تو ذہنی طور پر اتنی پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اپنے آپ کو ختم کر لیتا ہے یا جسمانی تشدد سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس سے نبٹنے کے لیے ممالک ایسے قوانین وضع کرتے ہیں جو کمزور طبقات کو ان کے گھروں میں تحفظ فراہم کر سکیں۔

پاکستان ایسے کئی بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستانی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہی کہ وہ ایسے قوانین متعارف کرائے جو کمزور طبقات کا تحفظ کر سکیں اس لیے ایسے قوانین کا قیام مہذب دنیا کی ضرورت ہے۔ Human Right Commission Pakistan کے مطابق پاکستان میں ہر سال گھریلو تشدد کے جو کیس رپورٹ ہوتے ہیں اس میں 76 فیصد چیخنے چلانے اور نفسیاتی تشدد کے ہوتے ہیں، 52 فیصد تھپڑ مارنے کے، 49 فیصد ڈرانے دھمکانے کے، اور 49 فیصد انتہائی مار پیٹ کے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ ہزار خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتی ہیں جو کہ انتہائی تشویش دہ بات ہے۔

پاکستان میں 25 جون 2021 کو جب سینٹ نے مشترکہ طور پر Domestic Violence Protection and Prevention Bill 2021 کی منظوری دی تو سوائے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے حدیث کے تینوں سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی اور یہ بل پاس ہو گیا۔ یہ بل مذہبی جماعتوں، خودساختہ عالم دین صحافیوں اور سوشل میڈیا کے شدت پسند جانبازوں کی بدولت اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کر کے حکومت نے اپنی جان چھڑائی، جہاں پر ڈٹ جانے کی ضرورت تھی۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو اس پر مزید قانون سازی کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ وہ کونسل ہے جس نے شوہر کو بیوی کو مارنے کی اجازت یہ کہہ کر دے رکھی ہے کہ ماریں لیکن آہستہ۔ مار مار ہوتی ہے اس کا صرف جسمانی نہیں نفسیاتی اثر بھی ہوتا اور مار کھانے والا ہمیشہ اپنے آپ کو کمتر انسان سمجھ کر نفسیاتی کمتری کا شکار رہتا ہے۔ اس ساری مخالفت میں اس بل کو پڑھنے کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس بل کو اگر عام آدمی بھی پڑھے تو اس کو بھی پتہ چلتا ہے کہ اس میں اسلام کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی خاندان کو اجاڑنا مقصود ہے۔ اس بل کی اہم شقوں میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں

اس بل کے مطابق گھریلو تشدد میں جسمانی، نفسیاتی، جذباتی، معاشی اور جنسی تشدد شامل ہے۔ اس بل میں نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی جو وضاحت دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جنونی حد تک دوسرے کو کنٹرول کرنا اور اس کے کام میں مداخلت کرنا، اس کی دوسروں کے سامنے تضحیک کرنا، جسمانی اذیت دینا، بیوی کو ہر وقت طلاق اور دوسری شادی کا ڈراوا دینا، بیوی یا گھر کے کسی بھی فرد کے کردار پر بہتان طرازی کرنا، متاثرہ شخص کی جائز شکایات کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنا، کسی کو سٹاک کرنا یعنی اس کا پیچھا کرنا اور ہراساں کرنا، بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی بھی دوسرے فرد کے ساتھ جنسی تعلق پر مجبور کرنا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اپنے اہل خانہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا اور معاشی بدحالی کا شکار کرنا شامل ہیں۔ لیکن اس بات کا تعین کرتے وقت جرم گھریلو تشدد کے زمزمے میں آتا ہے یا نہیں تمام حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ اتنی اہم اور مکمل تعریف ہے کہ اگر اس کا اطلاق ہو تو وہ تمام لوگ جو اپنے گھروں میں تشدد کا نشانہ بنتے ہیں ان کو ریلیف مہیا ہو سکے گا۔ لیکن اس میانہ رو قانون کو خدائی فوجدار صحافیوں اور علمائے کرام کی طرف سے جس تنقید کا سامنا کرنا پڑا اس میں سرفہرست اس کی گھریلو تشدد کی یہ تعریف تھی۔

پچھلے چند دنوں میں اس کے خلاف کی گئی تقریروں اور تحریروں میں پاکستانی عوام کو یہ گمراہ کن تاثر دیا گیا کی اس کی رو سے کوئی باپ اپنی اولاد کی نگرانی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی غلط حرکات پر ان کا جیب خرچ بند کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کو جھڑک سکتا ہے اور اس کی تعریف (definition) کی باقی شقیں بھی غیر اسلامی ہیں۔ میرا ان خودساختہ اخلاق کے علمبرداروں سے سوال ہے کہ اپنے اہل خانہ کی تضحیک کرنا، اپنی بیوی کو طلاق سے یا دوسری شادی سے ڈرانا یا اس کو دوسرے لوگوں سے جنسی تعلق استوار کرنے پر مجبور کرنا یا ان کو معاشی بدحالی کا شکار کرنا کون سے اخلاق اور مذہب کے تقاضے سے جائز ہے۔

اسلام میں طلاق ناپسندیدہ فعل ہے اور دوسری شادی انصاف کے قوانین پورے کیے بغیر اور بیوی کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں، اولاد سے شفقت کا حکم ہے اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کو افضل قرار دیا گیا ہے تو یہ بل کیسے اسلام کے خلاف ہے یہ تو عین اسلام کے مطابق ہے ہاں اگر پاکستان میں اہل خانہ کے ساتھ ناروا سلوک اور تشدد ایک روایت ہے جس کو چھوڑنے پر ہم راضی نہیں تو خدارا اپنی غلط حرکات جو معاشرے کی رگ رگ میں سما گئی ہیں ان کو اسلام کے کندھے پر مت لادیں۔

اس قانون کے تحت متاثرہ شخص کورٹ میں درخواست دائر کرے گا اور عدالت اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ سات دن کے اندر اس کی درخواست سنے اور اگلے سات دن کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کرے۔ جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا چھے مہینے سے تین سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہے۔ اگر عدالت یہ نتیجہ اخذ کرے کہ متاثرہ شخص گھریلو تشدد کا شکار ہوا ہے تو ملزم کو ہدایت کرے گی کہ وہ مزید تشدد سے اجتناب کرے، متاثرہ شخص سے دور رہے اور کسی قسم کا رابطہ نہ کرے، شدید تشدد کی صورت میں ملزم کو متاثرہ شخص سے ایک خاص فاصلے پر رہنے کی ہدایت کی جائے گی جس کا تعین عدالت حالات و واقعات کی بنیاد پر کرے گی اور بدترین تشدد کی صورت میں ملزم کو ٹریکر پہننے کا پابند کیا جائے گا۔

بدترین تشدد کی صورت میں ملزم یا اس کے رشتے دار گھر میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور اگر متاثرہ شخص کسی دوسری جگہ پر رہے تو اس کے کرائے کی ادائیگی ملزم پر ہو گی۔ اس میں کہیں پہ درج نہیں کہ متاثرہ شخص کی ایک فون کال پر پولیس حاضر ہو جائے گی اور ملزم جو اس مصنوعی مورال برگیڈ کے مطابق صرف مرد ہی ہو سکتا ہے اس کو پکڑ کے لے جائے گی اور گھر داخلے پر پابندی لگا دے گی۔ اس کی بجائے عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ درخواست سنے اور دونوں فریقین کا موقف جان کر فیصلہ سنائے اور اس کے لیے بھی فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔

یہ ایک انتہائی جامع قانونی مسودہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ صحافی حضرات اور علمائے کرام جو اپنے قلم اور عوام پر اثر و رسوخ کا غلط استعمال کر رہے ہیں حکومت ان سے بلیک میل ہونے کی بجائے اس بل کو عملی شکل دینے کے لیے جج، وکلا، پولیس افسران اور عوامی نمائندگان پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دے جو اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روڈ میپ وضع کریں اور اس کا جلد سے جلد نفاذ کیا جائے۔ اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کی نہیں بلکہ قانونی ماہرین، عوامی نمائندگان اور پولیس افسران کی ضرورت ہے جو اس کو لاگو کریں اور عوام میں شعور اجاگر کریں۔

جہاں تک اس کے مخالفین کا سوال ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس بات کو اپنے دماغ میں نقش کریں کہ اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کو خوف و ہراس میں رکھ کر خاندان یا گھر نہیں بنتے بلکہ نفسیاتی مریض جنم لیتے ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ انسانی حقوق کے کارکنان اس بل کو سرد خانے کا شکار نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ بل نہ صرف گھریلو تشدد بلکہ honour killing، کم عمری کی شادی اور بچوں کے ساتھ اپنے ہی خاندان کے افراد کے جنسی تشدد کو روکنے میں مدد دے گا تاکہ وہ خاندان کی عمارت جو اخلاقی بدحالی کا شکار ہے اس کی اٹھان درست اور مضبوط بنیاد پر کی جاسکے۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.