EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا افغانستان میں کاشتہ فصل کاٹنے کا وقت آ گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈھنڈورچی اطلاع دے رہے ہیں کہ طالبان نے امریکہ کو مار بھگایا اور وہ رات کے اندھیرے میں بگرام ائیر بیس چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ پاکستان ہفتہ کے روز سے افغانستان میں قیام امن کے لئے ایک کانفرنس کا اہتمام کر رہا ہے جس میں خاص طور سے افغان حکومت کو مدعو کیا گیا۔ اس دوران چمن بارڈر کے پار افغان سرحدی علاقے پر کنٹرول کے حوالے سے طالبان اور کابل حکومت متضاد دعوے کر رہی ہے۔ سوال ہے اس الجھی ہوئی تصویر میں پاکستان کا مفاد کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان واضح کرچکے ہیں کہ افغانستان میں امن اور متفقہ انتقال اقتدار ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کا ماضی میں جو بھی طریقہ یا مؤقف رہا ہو لیکن اب وہ اس بات کا حامی ہے کہ افغان عوام کو ہی اپنے ملک کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہی بات امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کا دفاع کرتے ہوئے دہرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر کے لئے وہاں نہیں گیا تھا۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو ہی کرنا ہے۔ یہ انہی کا حق ہے اور انہی کا کام ہے۔ اسی دوران افغانستان کے صدر اشرف غنی کا یہ استفسار بھی سامنے آیا ہے کہ اب طالبان آخر کس کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد ملک میں مل بیٹھ کر امن سے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم جیسے طالبان کی نیت اور ارادوں کے بارے میں صرف اندازے ہی قائم کئے جا سکتے ہیں، اسی طرح یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ افغان حکومت اور اشرف غنی ملک میں امن چاہتے ہیں یا کسی بھی قیمت پر اپنا اقتدار بچانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری پالیسی کے مطابق امریکہ نے افغانستان سے فوج نکالنے کا بالکل درست فیصلہ کیا ہے بلکہ شاہ محمود قریشی اور معید یوسف کے الفاظ میں یہ فیصلہ درحقیقت اس مؤقف کے عین مطابق ہے جو عمران خان گزشتہ بیس برس سے پیش کرتے رہے ہیں۔ یعنی افغانستان میں امن کے لئے سیاسی مکالمہ کیا جائے۔ اس دعویٰ کے مطابق جو بات عمران خان کو 20 سال پہلے سمجھ آگئی تھی ، اسے سمجھنے میں امریکہ کو دو دہائیاں صرف کرنا پڑیں۔ اس بات کی کھال اتاری جائے تو بحث کی شکل بدل جائے گی لیکن عمران خان جس وقت طالبان کی حمایت میں سر پر کفن باندھ کر میدان میں اترے ہوئے تھے ، اس وقت طالبان کا پاکستانی روپ مملکت پاکستان کے خلاف برسر جنگ تھا اور ملک کی دو اہم جماعتوں کے خلاف مہم جوئی زوروں پر تھی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش و منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور پاکستان کو جبراً طالبانی ریاست بنانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں بچوں کے لاشے تقاضا کرتے تھے کہ یہ گروہ امن سے نہیں، للکارنے سے راہ راست پر آئیں گے۔ اب وزیر اعظم شمالی وزیرستان میں کارروائی کو قومی غیرت کے خلاف قرار دیتے ہیں لیکن اسی زبان سے طالبان کو امن کا سفیر کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔

کسی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہوسکتا کہ امریکہ یہ جنگ ہار گیا یا وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہؤا ہے لیکن ایک بات نوشتہ دیوار ہے: امریکی فوج اور لوگ اس خطے سے ہزاروں میل دور محفوظ اور امن سے ہیں لیکن اہل پاکستان کا امن اور خوشحالی، افغانستان کی صورت حال سے مشروط ہے۔ یہ بتانے پر دفتر سیاہ کئے جا چکے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان کیسے اور کیوں کر متاثر ہوگا۔ وزیر اعظم اعتراف کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہؤا تو وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی تجارت اور وہاں سے آنے والی گیس پائپ لائن متاثر ہوگی۔ امن قائم ہونے کی صورت میں پاکستان کے لئے مواصلاتی ترقی نئے معاشی فوائد کا سبب بن سکے گی۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی پاکستان کی مشکلات و مصائب کا سبب بنے گی تو وہاں پر امن اور پائیدار نظام پر قائم ہونے والی حکومت سے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ افغانستان میں امن شاید افغان عوام سے زیادہ پاکستانی شہریوں کے لئے اہم ہے۔

افغانستان ایک جنگ زدہ تباہ حال معاشرہ ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وہاں اربوں ڈالر گولہ بارود اور جنگی انفرا اسٹرکچر پر صرف کئے ہیں۔ وہاں عوام کی بہبود کے منصوبے شروع نہیں کئے جا سکے۔ صدر جو بائیڈن نے واضح بھی کردیا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی بہبود کے لئے نہیں بلکہ امریکی عوام کی حفاظت کے نقطہ نظر سے وہاں گیا تھا تاکہ ان دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جاسکے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پر حملوں ملوث تھے۔ امریکی حکومت کا خیال ہے کہ اب یہ خطرہ ختم کیا جا چکا ہے۔ اس لئے جب وہ اس ملک کو چھوڑ کر جا رہا ہے تو وہ بظاہر اپنے اہداف حاصل کرچکا ہے۔ اس سوال پر امریکہ کے علاوہ دنیا کے باقی ماندہ ممالک میں بھی بحث ہوتی رہے گی۔ تاہم اس بحث کی شدت و نوعیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد افغانستان میں مختلف عسکری دھڑے کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور مستقبل میں اتفاق رائے سے کوئی نظام حکومت قائم کرنے کے بارے میں کس حد تک سنجیدہ کوششیں ہوتی ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال ، طالبان کی جنگی پیش قدمی اور امن مذاکرات سے اجتناب کی صورت حال میں طالبان کی نیک نیتی پر سوال سامنے آتے ہیں اور صدر اشرف غنی کا یہ سوال جائز اور بروقت معلوم ہوتا ہے کہ طالبان اب کس کے خلاف جنگ کر رہے ہیں؟

طالبان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے 20 برس تک امریکہ اور اتحادی افواج کا مقابلہ کیا اور اب وہ افغانستان میں پیدا ہونے والے ’پاور ویکیوم‘ کو پر کرنے کی پوزیشن میں ہیں تو وہ شاید بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی کے مرتکب ہوں گے۔ افغان حکومت کے علاوہ تمام ہمسایہ ممالک طالبان کی عسکری طاقت اور سیاسی قوت کو تسلیم کرتے ہیں۔ کسی بھی گروہ کے لئے یہ بڑی کامیابی ہے۔ تاہم اگر یہ گروہ طاقت کے زور پر دیگر عناصر کو زیر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے عدم توازن پیدا ہوگا اور فساد کا سبب بنے گا۔ یہ وہ باریک نکتہ ہے جسے افغان طالبان کو 31 اگست سے پہلے سمجھنا ہے تاکہ امریکی افواج کے نکلنے کے بعد کوئی ایسا سیاسی فارمولا میز پر موجود ہو جس میں طالبان کو اختیار و اقتدار میں حصہ بھی مل جائے اور دیگر عناصر کو بھی زندہ رہنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کا موقع مل سکے۔

علاقوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت اور جنگی تجربہ سے حاصل قوت کے زعم میں اگر طالبان کسی مفاہمت کا مظاہرہ نہ کرسکے تو حالات خراب ہونے کا امکان ہے۔ اس لحاظ سے افغانستان کے مستقبل کی اصل کنجی اس وقت طالبان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ انہی کو فیصلہ کرنا ہے کہ طاقت کا فوری مظاہرہ کرکے بحران کو سنگین کیا جائے یا کسی قابل قبول انتظام پر اتفاق کے ذریعے ملکی گروہوں اور علاقائی طاقتوں کو یقین دلایا جائے کہ افغانستان، ان کے مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے پاکستان کوجیسے اپنا مفاد اہم ہے ، اسی طرح بھارت سمیت دیگر علاقائی ممالک جن میں ایران، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، کو بھی افغانستان کے حوالے سے اپنے مفادات عزیر ہیں۔ خانہ جنگی کی صورت میں یہ ساری طاقتیں اپنی اپنی ضرورت و صلاحیت کے مطابق اپنے گروہوں کے ذریعے اپنے مفاد کا تحفظ کریں گی۔ پاکستان سیاسی و سفارتی لائحہ عمل بناتے ہوئے افغانستان کی داخلی صورت حال کے عسکری پہلو کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ پاکستانی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو یہ اندازہ بھی ہونا چاہئے کہ طالبان اب اس کی عسکری ضرورتیں پورا کرنے میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔

اسی حقیقت کی وجہ سے پاکستان پر لازم ہے کہ وہ طالبان کے بارے میں متوازن رویہ اختیار کرے اور افغانستان کے تمام فریقوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کئے جائیں۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ افغانستان میں پاکستان کے بارے میں پائی جانے والی بدگمانی کو خیر سگالی میں تبدیل کرنے کے کام کا آغاز ہوسکے گا۔ لیکن جب پاکستانی حکومت و ریاست کے نمائیندے اپنی گفتگو میں بالواسطہ طالبان کی نمائندگی کی شعوری یا لاشعوری کوشش کرتے ہیں اور میڈیا کے بزرجمہروں کے توسط سے اسے کفر و اسلام کے درمیان جنگ کی شکل دی جاتی ہے تو شبہات اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر پاکستان میں خوشی کے شادیانے بجا کر طالبان کی تحسین و تکریم کا اہتمام کیا جا رہا ہے؟ اگر تحریک طالبان پاکستان، افغان طالبان ہی کی دوسری شکل ہے، اگر طالبان بدستور القاعدہ کے علاوہ مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ کے ساتھ روابط استوار رکھتے ہیں اور کسی خانہ جنگی کی صورت میں یہ گروہ پروان چڑھتے ہیں تو امریکہ ہی نہیں، پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ مشرقی ترکستان موومنٹ شمال مغربی چین کے صوبے سنکیانگ میں علیحدہ مملکت قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ چین اس گروہ کو دہشت گرد قرار دے کر کسی بھی قیمت پر کمزور کرنا چاہتا ہے۔

اس تصور کو پاکستانی شعور سے مٹانا اہم ہے کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانستان میں جو فصل کاشت کی تھی ، اب اس کا پھل کھانے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر اعظم ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس اعتراف کو حقیقی ثابت کرنے کے لئے پاکستانی حکومت و ریاست کے رویہ میں توازن پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ امید عبث ہوگی کہ کابل پر طالبان کا پرچم لہرانے سے افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا یا یہ پاکستان کی فتح کے مترادف ہوگا۔ افغانستان میں بھارت کی ناکامی کو پاکستان کی فتح سمجھنا درست نہیں۔ پاکستان کو سیکھنا چاہئے کہ تمام معاملات کو بھارت کے ساتھ تعلقات کے چشمے سے دیکھنے کا وقت بیت چکا ہے۔ اس سچائی کو ابھی تسلیم نہ کیا گیا تو مستقبل کا کوئی وزیر اعظم ایک بار پھر ناکام پاکستانی پالیسیوں پر کف افسوس ملتا دکھائی دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1909 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے