EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ہیٹی کے صدر کے قتل کے الزام میں گرفتار بعض افراد نے امریکہ سے فوجی تربیت لی: پینٹاگون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیٹی کے صدر کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہہ افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے (رائٹرز)
ویب ڈیسک — امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو ایک ای میل پیغام میں تصدیق کی ہے کہ ہیٹی کے صدر جوونیل موئس کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار ملزمان میں سے بعض امریکہ کی فوجی اور تربیتی پروگراموں میں حصہ لے چکے ہیں۔

لیفٹینینٹ کرنل کین ہافمین نے کولمبیا سے تعلق رکھنے والے جن افراد کا ذکر کیا ہے وہ ہیٹی کی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

ترجمان کین ہافمین نے بتایا کہ ملزمان کی تربیت سے متعلق معلومات ان کے ڈیٹا بیس کے جائزے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جن ملزمان نے تریبت حاصل کی تھی انہیں کب اور کہاں تربیت دی گئی۔

ان کے بقول "ہم ابھی جائزے کے ابتدائی مرحلے میں اور ہمارے پاس مزید معلومات نہیں ہیں۔”

اس بارے میں سب سے پہلے خبر واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی تھی۔

پینٹاگون کے بیان کے مطابق امریکہ ہر سال جنوبی امریکہ، وسطی امریکہ اور کیریبیئن جزائر سے سیکڑوں فوجی اہلکاروں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔

ہافمین نے بتایا کہ یہ تربیت انسانی حقوق کے احترام پر توجہ مرکوز رکھتی ہے، قانون کا احترام بجا لاتی ہے اور فوج کو جمہوری طور پر منتخب قیادت کے ماتحت بناتی ہے۔

ہیٹی کی قومی پولیس کے سربراہ لیون چارلس کا کہنا ہے کہ پولیس نے کولمبیا کے اٹھارہ شہریوں کو صدر کے قتل کے شبہے میں گرفتار کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ ہیٹی کے صدر مائز کو سات جولائی کی علی الصباح پورٹ او پرنس میں ایک مہنگے علاقے میں ان کی نجی رہائش گاہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ہیٹی کی پولیس نے دو ہیٹئن امریکن باشندوں کو صدر کے قتل کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک عہدیدار جان گونزالے نے وائس آف امریکہ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ امریکہ ان افراد کے قصوروار ثابت ہونے پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

صدر بائیڈن نے جمعرات کو جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ یہ بات نہیں مان سکتے کہ امریکی فوج کسی بھی سطح پر ہیٹی میں صدر کے قتل کے واقعے میں ملوث ہو۔ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ہیٹی میں امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہیں۔

بائیڈن کے بقول، ’’ہم امریکی میرینز کو صرف اپنے سفارت خانے بھجوا رہے ہیں۔ اپنے امریکیوں فوجیوں کو ہیٹی بھیجنے کے پیچھے کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے ہیٹی کے الیکشن کے امور کے وزیر ماتھیاز پیرے نے کہا تھا کہ امریکہ کو اپنے فوجی بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ درخواست سات جولائی کو ہیٹی کے عبوری وزیرِ اعظم کلاڈے جوزف اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کے درمیان گفتگو کے دوران کی گئی۔ پیری نے بتایا کہ جوزف نے آٹھ جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اقوامِ متحدہ کے دستے بھجوانے کی بھی درخواست کی تھی۔

صدر مائز کی اہلیہ مارٹین اس حملے میں زخمی ہو گئی تھیں اور وہ میامی فلوریڈا کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کی طبیعت بہتری کی طرف گامزن بتائی جا رہی ہے۔

ہیٹی کے عبوری وزیرِ اعظم کلاڈے جوزف نے صحافیوں کو بتایا کہ خاتون اول کے ساتھ ان کی کئی مرتبہ گفتگو ہوئی ہے اور وہ رو بہ صحت ہیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ہیٹی کے صدر کے قتل کی مذمت کی تھی اور امریکہ کا ایک خصوصی وفد ہیٹی بھجوایا تھا کہ تحقیقات میں مدد فراہم کر سکے۔ وفد میں محکمہ خارجہ، ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمہ انصاف اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اراکین شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2594 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے