EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

خیبر پختونخوا: ضلع کرم سے اغوا ہونے والے پانچ مزدور 20 روز بعد بازیاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضلع کرم میں پانچ مغویوں کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی سے متعلق ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) طاہر اقبال کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)
پشاور — خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے کرم سے گزشتہ ماہ نجی موبائل کمپنی کے اغوا ہونے والے مزید پانچ ملازمین کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر ایک کارروائی میں جون کے آخر میں نجی موبائل ٹیلیفون کمپنی کے اغوا ہونے والے پانچ مزدوروں کو بازیاب کرایا ہے۔ یہ پانچ مزدور بھی ان 16 مغویوں میں شامل تھے جن کو گزشتہ ماہ 26 جون کو وسطی کرم سے اغوا کیا گیا تھا۔

اغوا کاروں نے 16 مغویوں میں سے 10 افراد کو اسی دن رہا کر دیا تھا۔ جب کہ ایک مغوی کو 12 جولائی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کیے جانے والے مزدور کا تعلق پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تھا۔

رپورٹس کے مطابق 25 سالہ گلزار ولد ذوالفقار کو لواحقین کی جانب سے مبینہ طور پر 20 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی میں ناکامی پر قتل کیا گیا۔

ضلع کرم میں پانچ مغویوں کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی سے متعلق ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) طاہر اقبال کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

گزشتہ برس اغوا ہونے والے انجینئروں اور وکیل کی ویڈیو جاری

ادھر نامعلوم عسکریت پسندوں نے جنوبی وزیرستان سے اکتوبر 2020 میں اغوا ہونے والے دو انجینئروں اور شمالی وزیرستان سے فروری 2021 میں اغوا ہونے والے ایک وکیل سمیت دیگر افراد کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مغوی حکومت سے ان کے رہائی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

مغویوں نے ویڈیو میں عسکریت پسندوں کے مطالبات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ البتہ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی رہائی کے بدلے بھاری رقوم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) شوکت علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں مغویوں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے پولیس حکام رابطے میں ہیں اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔

مغویوں کی ویڈیو شدت پسند تنظیم، جو خود کو ’ساؤتھ ٹائیگرز‘ قرار دے رہے ہیں، کے قاضی توکل نامی ترجمان نے جاری کی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آٹھ مغویوں کے پیچھے دو مسلح افراد رائفلز اٹھائے کھڑے ہیں۔

ویڈیو میں وکیل عتیق اللہ داوڑ نے پشتو زبان میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سے کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی سخت حالات میں گزر رہی ہے۔ حکومت اغوا کاروں کے مطالبات مان لے اور ان کی رہائی کو جلد ممکن بنائے۔

عتیق اللہ داوڑ بنوں کے وکلا کی تنظیم کے رکن ہیں۔ بنوں بار ایسوسی ایشن کے صدر نور زادہ ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ویڈیو پیغام ملنے کے بعد انہوں نے ایک بار حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ عتیق اللہ داوڑ سمیت تمام مغویوں کی جلد از جلد بازیابی کی کوشش کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2591 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے