امریکی فرار اور طالبان کی یلغار


میں صرف علم سیاسیات کا ایک ایسا طالبعلم ہوں جس کو تاریخ سے بھی کچھ دلچسپی ہے۔ میرے کہیں بھی کوئی ”ذرائع“ نہیں۔ اس لئے اس مضمون میں میں معاملات کا اپنی تشخیص کے مطابق ہونے کا دعویٰ نہیں کروں گا صرف چند مضمرات کا ایک طالبعلم کے طور پر احاطہ کروں گا۔ افغانستان میں طرفین متضاد دعوؤں میں مصروف ہیں۔ عام حالات میں بھی حکومتیں اور حکومتی طفیلی میڈیا صرف منتخب حقائق (selective facts) بیان کرتے ہیں، ایسے حقائق جو ان کے نقطہ نظر کے حق میں ہوتے ہیں۔ ان منتخب حقائق کی رپورٹنگ کو پاکستان میں آج کل ایک نئے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ ہے ”مثبت رپورٹنگ“ ۔ لیکن کسی نہ کسی نام سے یہ دنیا کے ہر ملک میں جانی اور پہچانی جاتی ہے۔

جدید ریاستیں سچ کا کاروبار نہیں کرتیں، نہ ہی جدید ریاستی تصور کے اصولوں پر کھڑے بین الاقوامی تعلقات میں اخلاقیات کا کوئی عمل دخل ہے۔ یہ اخلاقیات، انسانی حقوق، سچائی، جمہوریت کا فروغ، مظلوم کی دادرسی اور حفاظت کی ذمہ داری اور اس جیسے اور بہت سے خوش کن تصورات شمال جنوب کی تقسیم کو مزید گہرا کرنے، سامراجیت کے دوام، اور عالمی قوانین اور ادارہ جات پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ جدید ریاستی تصور پر مبنی بین الاقوامی تعلقات میں اٹل حقیقت صرف اور صرف مفادات ہوتے ہیں۔ جہاں مفادات نہیں ہوتے وہاں جو مرضی قیامت ٹوٹتی رہی کسی کے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔

جہاں تک جنگوں کا تعلق ہے طرفین کے پاس متضاد دعوؤں کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جس میں دشمن اور اس کے حامیوں کے حوصلے پست کرنا، ان کے عزائم اور منصوبہ بندیوں میں رخنے اور اپنے عزائم اور منصوبہ بندیوں پر پردہ ڈالنا، اپنی صلاحیتوں کے بارے میں دشمن کو گمراہ کرنا، دشمن کو مرعوب کرنا، اس سے مذاکرات میں مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ جیسی کئی وجوہات شامل ہوتی ہیں۔ لیکن ان متضاد دعوؤں میں کہیں نہ کہیں تھوڑا بہت سچ بھی ہوتا ہے جو کبھی بالکل سامنے کی بات ہوتی ہے اور کبھی اس کو سمجھنے کے لئے تھوڑا زور لگانا پڑتا ہے۔ تو ہم صرف جو بالکل سامنے کی بات ہے اس کو لے کر اس سے ممکنہ طور پر پیدا ہونے والی مضمرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ متضاد دعوؤں سے دامن بچاتے ہوئے سامنے کی بڑی باتیں اس وقت صرف دو ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی افغانستان سے بظاہر جا رہے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ افغان طالبان سبک رفتاری سے پے در پے فتوحات کے پھریرے تو لہرا رہے ہیں لیکن اہم شہری مراکز پر قبضہ نہیں کر رہے ہیں۔

افغان طالبان پر ہمیشہ سے چار بڑے الزامات رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ افغانستان میں پاکستان کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کی پراکسی ہیں۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے عالمی جہادیوں کو پناہ دی۔ تیسرا یہ کہ انہوں نے اسامہ بن لادن سمیت دیگر عالمی مفروروں کو 11 ستمبر 2001 ء کے حملوں کے جرم میں امریکہ کے حوالے نہیں کیا۔ اور چوتھا یہ کہ وہ ظالم اور سخت گیر ہیں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں۔ افغان طالبان پر نہ ہی پہلے کسی نے یہ الزام لگایا نہ ہی ان پر اب بھی یہ الزام ہے کہ وہ دیگر ممالک کے خلاف کوئی عزائم رکھتے ہیں یا ان کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ ہاں یہ بات ایک الگ حقیقت ضرور ہے کہ ان کے مدوجزر سے عالمی اسلامی عسکری تنظیموں کا مدوجزر جڑا ہے۔ خاص طور پر خطے بھر کی جہادی تنظیمیں اور شخصیات ان کے وجود سے روحانی اور ”اخلاقی“ تقویت پاتی ہیں۔ لیکن ان کے کشمیر، چینی ترکستان (سنکیانگ) ، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ یا دنیا کے کسی بھی حصے میں ملوث ہونے کا نہ کوئی الزام رہا ہے نہ کوئی ثبوت۔

افغان طالبان کے اخلاقی یا قانونی حیثیت و جواز سے قطعہ نظر اس حقیقت سے اب کوئی مفر نہیں کہ وہ موجودہ افغانستان کی نہ صرف حقیقت ہیں بلکہ اس کی حاوی سیاسی و عسکری قوت بھی۔ ان کے حامی اس خیال پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ امریکہ کو شکست ہو گئی۔ یہ تصور بیک وقت صحیح بھی ہے اور غلط بھی۔ تاریخ حال اور مستقبل کو ماپنے کا پیمانہ ہوتی ہے۔ یہ بات غلط اس لئے ہے کہ تاریخ کے پیمانے میں روس کے مقابلے میں امریکہ کا مالی اخراجات اور چند سو جانی نقصان کے علاوہ کچھ خاص نہیں بگڑا۔ امریکہ آج بھی صحیح سالم نہ صرف موجود ہے بلکہ اب بھی دنیا کی اولین طاقت ہے۔ لیکن یہ خیال صحیح اس لئے ہے کہ اگر آپ امریکہ کے افغانستان آنے کی وجوہات اور اس کے اعلان کردہ عزائم کا جائزہ لیں تو وہ القاعدہ کو کمزور کرنے اور اس کے لیڈر کو ہلاک کرنے میں تو کامیاب ہوئے لیکن نہ ہی افغانستان کو امن، ترقی اور جمہوریت کا گہوارہ بنا سکے نہ ہی افغان طالبان کا خاتمہ کرسکے۔

امریکی قبضے کے بعد افغانستان مزید بدعنوانی اور بدقماشی کا شکار ہو گیا اور افغان طالبان نہ صرف یہ کہ آج تک قائم ہیں بلکہ بظاہر پہلے سے زیادہ منظم، آزمودہ کار اور طاقتور ہیں۔ میدان جنگ ان کے ہاتھ ہے اور چند شہری مراکز چھوڑ کر تقریباً تمام افغانستان میں ان کا طوطی بول رہا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین عسکری اتحاد کے سامنے بیس برس مسلسل برسر پیکار رہ کر یہ سب کچھ حاصل کرلینا ”اخلاقی“ طور پر فتح ہی شمار ہوگی۔ اس ”اخلاقی“ فتح کے مضمرات بہت دور رس ہیں۔ عالمی جہادی تنظیموں اور اسلام پسندوں میں ان کو فاتح ہیرو کے طور پر دیکھا جائے گا۔ پہلے بھی جہادی تنظیموں میں ان کی ”عظمت“ کے چرچے بہت رہے ہیں۔ جیسا کہ شام کی خانہ جنگی کے عروج کے زمانے میں کبھی کبھی وہاں افغان طالبان اور ملا محمد عمر کے نام کے ترانے گائے جانے کی خبریں متبادل میڈیا میں ملا کرتی تھیں۔ امریکہ کے خلاف اس ”اخلاقی“ فتح نے عالمی جہادیوں کی نظر میں افغان طالبان کو ”ارطغرل“ بنا دیا ہے جس کی یلغار کے سامنے اندرونی اور بیرونی دشمن رائی کا پہاڑ ثابت ہوتے ہیں۔

دوسری طرف افغان طالبان کے مخالفین جہاں ان کی سخت گیری سے نالاں ہیں تو وہیں اس ”اخلاقی“ فتح کے ممکنہ مضمرات سے پریشان ہیں۔ افغانستان کے اندر یا باہر کوئی بھی سیاسی، علاقائی اور عالمی طاقت طالبان کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ اس کی ایک وجہ ان کا ”شریعت“ پر اصرار ہے تو دوسری طرف اس کے عالمی جہادی تنظیموں پر ممکنہ اثرات۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ امریکہ کی 20 سالہ تگ و دو کی ناکامی کے بعد سردست کوئی بھی بندوق اٹھا کر ان کا راستہ روکنے کی ہمت کرنے پر تیار نہیں۔ خاص طور پر علاقائی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اس کی ان کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ افغان طالبان ”اسلامی نظام“ کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور ان کے اس مطالبے کو ماننے پر کوئی اور تیار نہیں بشمول پاکستان کے جیسا کہ پاکستان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مطالبہ مزید نزع کا باعث بنے گا۔ وگرنہ حقیقت حال یہ کہ ہے کہ بیرونی طاقتیں اگر واقعی افغانستان سے دست بردار ہوجائیں تو طالبان چند ہفتوں میں غالب آ جائیں گے اور وہاں کوئی خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ خانہ جنگی کے امکانات تبھی ہیں جب طرفین اپنے اپنے مطالبات پر ڈٹے رہیں گے اور دیگر بیرونی طاقتیں اپنے اپنے مفادات اور تحفظ کے لئے وہاں قصداً یا مجبوراً مداخلت کریں گی۔

اس سارے معاملے میں جو سب سے پراسرار رویہ ہے وہ امریکہ کا ”فرار“ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی عوام کے اندر بیرونی جنگوں کے لئے بہت مخالفت پائی جاتی ہے خاص طور پر افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی طویل جنگ سے بیزاری بہت زیادہ ہے۔ امریکہ کی واپسی کی جلدی کے پیچھے یہ عوامل تو متحرک ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن امریکہ جیسے ہرجائی سا رویہ اپنائے ہوئے ہے بلکہ راتوں رات اڈے خالی کر رہا ہے اس کے پیچھے کوئی اور مفاد بھی کارفرما ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسٹبلشمنٹ اپنی 20 سالہ تگ و دو میں دلچسپی کھو کر منہ موڑ چکی ہے۔ بلکہ امریکہ صدر بائیڈن نے ابھی چند روز قبل ہی ڈرون اور ہوائی حملے جاری رکھنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تاریخ کا پیمانہ ایک اور بار سامنے رکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بہادر جہاں سے بھی رخصت ہوتا ہے وہاں چہار سو مزید آگ اور خون کا کھیل وسیع ہوتا ہے۔ قیاس یہ ہے کہ افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی امریکی مفاد کو بہت زیب دے گی۔

حالیہ تجزیوں اور خود امریکی انتظامیہ کے اعترافات کے مطابق امریکہ اور چین کے مابین طاقت کا خلا چھوٹا ہو رہا ہے۔ یہ بات امریکی پالیسی کا حصہ تھی اور ہے کہ کسی بھی ملک کو امریکہ کے سٹریٹجک مقابلے کے قابل نہیں ہونے دینا۔ امریکہ جہاں دیگر ذرائع سے چین کی ناکہ بندی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے وہیں وہ سی پیک اور بی آرٹی منصوبوں کا کھل کر مخالف بھی ہے۔ دوسری طرف سنکیانگ کے مسلمانوں کے انسانی حقوق کا واویلا بھی کر رہا ہے جس سے زیادہ بھیانک کردار اس کا اپنا رہا ہے۔ ایسے میں اگر افغانستان میں ”اسلامی نظام“ کی خاطر ہونے والی خانہ جنگی کے اثرات کو سنکیانگ پہنچنے سے روکنے کے لئے چین خود افغانستان میں کود پڑے تو ”جھولے لعل“ ۔ امریکی کی نہ ہینگ لگے گے نہ پھٹکڑی اور چین کی ابھرتی طاقت کے ٹھکانے لگنے کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ شاید طالبان امریکی حکمت عملی کو سمجھ کر ہی شہروں پر فی الحال قبضہ نہیں کر رہے۔ ممکن ہے کہ ان کو یہ ڈر ہو کہ وہ شہروں پر قبضے کی کوشش کریں یا حکومتی ڈھانچہ مکمل کرنے کی غرض سے ان کی لیڈرشپ سامنے آئے اور امریکہ فضائی حملوں سے ان کو نشانہ بنائے یا ان کی پیش قدمی کو روکے۔

پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغان طالبان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان کی تقویت کا باعث بنے گی جن کے ہاتھوں پاکستان ہزاروں شہریوں کی قربانی دے چکا ہے۔ جو اسلحے اور مہاجرین کا سیلاب آئے گا وہ الگ ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تحریک طالبان پاکستان ہے کہ جس کے بارے میں پاکستان کا پہلے موقف یہ تھا کہ وہ راء کی ایجنٹ ہے۔ دنیا اس اچھے اور برے طالبان کی تفریق کو تسلیم کرنے سے انکاری رہی ہے۔ جبکہ مبصرین اور ماہرین یہ کہتے رہے کہ دونوں طرح کے طالبان ایک دوسروں کے معاون ہیں۔ ان مبصرین کے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ کئی کشتیوں کا سوار ہونا ہے۔ وہ خرگوشوں کی دلجوئی بھی کرنا چاہتا ہے اور شکاریوں کو وفاداری کا یقین بھی دلاتا ہے۔ ان کے بقول وہ کچھ پیادوں اور معدودے چند جہادی لیڈرز کا شکار بھی کرتا ہے اور بقیہ کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے بلکہ ان کے علاج معالجے اور رہائش کی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس بابت خود ایک موجودہ وفاقی وزیر کا اعتراف بھی خود اپنے ہی ملک کے خلاف چارج شیٹ ہے۔

پاکستان کو افغان طالبان سے کوئی محبت نہ تھی نہ ہے۔ ماضی میں بھی ان کا ساتھ مجبوراً دیا گیا۔ تاریخ یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے بلکہ افغان لیڈر شپ انگریز کی قائم کردہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے سے انکاری رہی ہے۔ ضیاء دور میں پروان چڑھنے والی تزویراتی گہرائی کی سوچ نے پاکستان کو افغان طالبان کے روپ میں ایک ایسا طاقتور پارٹنر فراہم کیا جس سے پاکستان سو فیصدی خوش نہ صحیح تو مکمل طور پر پریشان بھی نہ تھا اور وہ افغانستان میں پاکستان مخالفین کے لئے کا ؤنٹر فورس کا کام کرتے رہے۔ افغان روس جنگ نے پاکستان کی مغربی سرحد بالکل برہنہ کردی تھی اور کئی قسم کے وبالوں نے گھر کی راہ دیکھ لی تھی۔ پاکستان نے اپنے تئیں ان وبالوں کا سدباب کرنے کے لئے ماضی میں طالبان کی پذیرائی کی۔ پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان چین کی سدابہار دوستی بھی نہیں چھوڑنا چاہتا اور ڈالر کو خیر باد بھی نہیں کہنا چاہتا۔ جبکہ چین اور امریکہ دونوں ہی طالبان کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ یاد رہے کہ ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں تو ہمیشہ سے تھیں ہی طالبان مخالف۔ بھارت بھی ان سے متنفر ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ چین کی قائم کردو شنگھائی تعاون کی تنظیم کے بنیاد کی ایک بڑی وجہ 90 ء کی دہائی میں ہونے والی افغانستان کی خانہ جنگی اور افغان طالبان کا عروج تھا۔ پاکستان اور بھارت اب اس تنظیم کے مستقل رکن ہیں اور یہ تنظیم اپنی اصل میں طالبان مخالف ہے۔ پاکستان کے حق میں بہترین صورتحال یہ نکل سکتی ہے کہ طالبان افغان سیاست پر حاوی بھی رہیں اور اس کے جمہوری نظام کا حصہ بن کر پاکستان مخالف جذبات کو کنٹرول میں رکھیں نہ کہ وہ افغانستان کا بلا شرکت غیرے مالک بن کر ”شریعت“ نافذ کر دیں۔ اس صورتحال کے علاوہ ہر صورت پاکستان کے لئے چکی کے کئی پاٹوں میں پسنے کے مترادف ہوگی۔

علم سیاسیات دہشت گردوں، باغیوں اور عسکری تنظیموں کو عقلی اداکار (rational actors) کی نظر سے دیکھتی ہے یعنی یہ کہ وہ قصداً طاقت کے استعمال کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ ان کے پاس کم خطرناک راستے بھی موجود ہوتے ہیں۔ عسکری تنظیموں کی رو سے اس عقلیت کا دار و مدار اس گروہ کی خود مختاری پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ کسی کی پراکسی ہیں تو پھر ان کے ہر عمل کے ذمہ دار گروہ والے خود اتنے نہیں ہوتے جتنی ان کی مربی طاقتیں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی طاقتور عسکری گروہ یا تنظیم جن وجوہات کی وجہ سے پھلتی پھولتی اور قائم رہتی ہے اس میں جہاں اس کی خود مختاری کا عمل دخل ہے وہیں اس کے مربی کی امداد کا بھی۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جتنا مرضی انکار کرتا رہے اس کی سابقہ پالیسیوں کے باعث بیرونی دنیا پاکستان کو افغان طالبان کا مربی اور افغان طالبان کو پاکستان کی پراکسی سمجھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ہر عمل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے گا۔ چاہے وہ امریکہ ہو یا چین یا کوئی اور طاقت وہ اپنی ناکامیوں کا حساب پاکستان سے مانگیں گے۔ دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ وہ افغان طالبان جو پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے تھے ان کی تعداد کہیں کم ہو چکی ہے۔ 20 برس بیت چکے ہیں۔ ایک نئی نسل جوان ہو چکی ہے اور اس نئی نسل کے تجربات بہت تلخ ہیں۔ یہ نئی نسل پاکستان پر اعتبار نہیں کرتی اور اسے امریکہ کا یار سمجھتی ہے۔ دوسری طرف ان کے پاکستانی ہمدرد بھی ہیں جن کے ساتھ پاکستان کی ایک خون آشام تاریخ ہے اور جن کے ہاتھوں پاکستان نے بے حد نقصان اٹھایا ہے۔

امریکا کا نیٹو ہو یا چین کی شنگھائی تعاون کی تنظیم طالبان کی اکثریت کی نظر میں ہم ان کے مخالفین کی صف میں کھڑے ہیں۔ فی الوقت وہ بھی کسی سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن بات بڑھ گئی تو ممکنہ خانہ جنگی کا خطرہ افغان عوام کے بعد سب سے زیادہ پاکستان کے لئے ہے۔ اب کے بار افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی شام کی خانہ جنگی سے کہیں بڑی ہوگی اور دنیا بھر سے جوق در جوق جنگجو افغانستان پہنچیں گے کیونکہ جہادی تنظیموں کی نظر میں خراسان کی حیثیت اور طالبان کا مقام دیومالائی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ان حلقوں کے نزدیک ”غزوہ ہند“ کا وقت ہوا چاہتا ہے اور وہ قوت ”خراسان“ سے نمودار ہونے کو ہے جس کو ایک حدیث کے مصداق ”ایلیاء“ تک کوئی طاقت نہ روک سکے گی۔ اس حوالے سے مغربی محققین نے حالیہ سالوں میں جہادی تنظیموں کے اسلامی عقیدہ معادیت (Islamic eschatology) یعنی آخری زمانے کے متعلق عقائد کے استعمال پر بہت ریسرچ کی ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستانی پالیسی سازوں کو بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار ہے تو دوسری طرف چین اور امریکہ کے مابین جاری طاقت کا کھیل۔ ایسے میں افغانستان میں خانہ جنگی ہمارے لئے آگ و خون کا دروازہ کھول دے گی۔

Facebook Comments HS