خالہ ریاض


بعض عورتوں کا نام تو نسوانیت سے بھرپور ہوتا ہے مگر ان میں نسوانیت نام کو بھی نہیں ہوتی، شاید ان کے بارے میں خدا نے مرد بنانے کے اپنے فیصلے کو آخری دم پر تبدیل کیا ہوتا ہے، ان کو کسی زاویے سے بھی دیکھو مجال ہے جذبات میں ذرا سا بھی ارتعاش پیدا ہو۔ صبح اٹھ کے صابن کا جھاگ بنا کے منہ دھو لیں یا نہ دھوئیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رخ انور پہ مہنگی کریم لگا لیں یا سرسوں کا تیل چوپڑ لیں رزلٹ برابر۔ موٹا جھوٹا پہن لیں یا مہنگے برانڈ کی لان مجال ہے جو جچ جائیں۔ تنگ و چست پہن لیں تو دیکھنے والے پہ ویسے ہی وحشت طاری ہو جائے، کھلا ڈلا پہن لیں تو چلتے پھرتے تمبو کا گمان ہو۔ یعنی صرف اور صرف نام کی خواتین۔

ہمارے محلے میں بھی ایک ایسی ہی خاتون رہتی تھی جو مندرجہ بالا تمام صفات کی حامل تھی مگر ستم بالائے ستم کہ اس کے چہرہ و مہرہ، قد و قامت اور ڈیل ڈول کے علاوہ اس کا نام بھی مردانہ تھا۔ شاید نام رکھنے والا دیدار اول میں ہی اس کی مردانہ صفات کو بھانپ گیا ہوگا تبھی اس نے نوزائیدہ کا نام ریاض رکھ دیا۔ ریاض کے ساتھ خالہ کا سابقہ کب جڑا اس کی روایات معدوم تھیں۔ خالہ ریاض کی عمر قریباً پچاس، پچپن برس تو ہوگی مگر چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر لاٹھی ٹیکتے بوڑھوں تک اسے خالہ ریاض ہی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ خالہ کا خاوند کب کا فوت ہو گیا تھا، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ ایک بیٹی بیاہ دی تھی، باقی ماندہ بیٹے اور بیٹی بیاہنے کو تیار تھی۔

خالہ ریاض لمبے قد کی ایک لحیم شحیم خوفناک خاتون تھی، موٹے موٹے سانولے اور کھردرے ہاتھ پاؤں جن پہ ہمیشہ ہلکا ہلکا ورم سا رہتا تھا۔ ہاتھ میں ہر وقت ان گنت دانوں والی تسبیح جھولتی رہتی تھی۔ چہرہ تو گہرا سانولا تھا ہی مگر پیشانی پہ یہ دو بڑے بڑے سیاہ داغ تھے۔ آواز ایسی کڑک دار تھی کہ کانوں کے پار جائے، آنکھوں میں وہ رعب کہ جسے دیکھے وہ سہم جائے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر وہ شعور اور مردم گری کے اصولوں سے بھی پوری طرح واقف تھی۔

سلیقہ مندی اور صفائی میں بے مثال خالہ ریاض کا گھر دیکھ کر کسی چھوٹی سی فوجی چھاؤنی کا گمان ہوتا تھا۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند تھی، رمضان کے مہینے میں عورتیں تراویح پڑھنے ان کے گھر اکٹھی ہو جایا کرتی تھیں۔ عام طور پر خالہ ریاض کا گھر ہمارے لیے نو گو ایریا ہوا کرتا تھا مگر رمضان میں رش کا فائدہ اٹھا کر ہم اپنی شرارتوں کا کوٹہ پورا کرنے کی پوری کوشش کیا کرتے تھے۔ آخری عشرے میں خالہ اعتکاف کی غرض سے گھر کے کسی ایک کمرے میں گوشہ نشین ہوجاتی تھی تو ہمارا میدان شرارت وسعت اختیار کر جاتا تھا کیونکہ اب ہم خالہ کی قولی و فعلی یلغار سے خود کو مامون سمجھتے تھے۔

عصر کے بعد روزانہ ہی خالہ ریاض کے گھر چھوٹے چھوٹے بیمار بچوں کو گود میں اٹھائے عورتوں کا ایک جم غفیر اکٹھا ہوجاتا تھا۔ بچوں کی جھاڑ پھونک نے خالہ کو پورے قصبے میں مشہور کر دیا تھا۔ بڑھے ہوئے سر کے بچوں کو خالہ ریاض خاص طور پر بینگن دم کرنے کے بعد اس میں ببول کے کانٹے چبھو کر دیا کرتی تھی، اس بینگن کو کسی نمایاں جگہ پر لٹکانے کی ہدایت کی جاتی تھی، جیسے جیسے بینگن خشک ہوتا جاتا بچے کا بڑھا ہوا سر بھی نارمل ہونے لگتا تھا۔

لیکن خدانخواستہ اس ساری تگ و دو کے بعد بھی بچے کا بڑھا ہوا سر کم نہ ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہو سکتی تھی کہ خالہ کی بتائی ہوئی ایس او پی پر ٹھیک طرح سے عمل نہیں کیا گیا اور جن بچوں کے سر ٹھیک ہو جاتے تھے اس میں سراسر خالہ کے پر اعجاز دم کا کمال ہوتا کرتا تھا۔ لیکن خالہ کسی سے اس خدمت کا معاوضہ نہیں مانگتی تھی ہاں کوئی اپنی مرضی سے مٹھی میں کچھ تھما جاتا تو انکار نہیں کرتی تھی۔

کئی گھروں کے چھوٹے موٹے مسائل خالہ کے ایک دبکے کی مار ہوا کرتے تھے۔ عورتیں تو خالہ کی ویسے ہی معتقد تھیں، مرد بھی دم نہیں مارتے تھے۔ ساس بہو کی روایتی لڑائی میں خالہ کا کردار دیدنی ہوا کرتا تھا۔ جہاں خالہ کی زبان سے کام چلتا تھا چلاتی تھی ورنہ لاٹھی اور جوتے سے کام لینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ اٹھا رکھتی تھی۔ شادی شدہ لڑکی کو میکے میں دیکھ کر خالہ زیادہ خوش نہیں ہوتی تھی اور اگر خدا نخواستہ کوئی لڑ بھڑ کے میکے آجاتی تو خالہ کو گویا آگ لگ جاتی تھی اس کی وہ در در پھٹ پھٹ کرتی کہ اسے سسرال واپس بھیج کے ہی دم لیتی تھی۔

لڑتے بھڑتے میاں بیوی کو شیر و شکر کرنا خالہ کے بائیں ہاتھ کا کام تھا، وہ پہر کے تڑکے اٹھ بیٹھتی اور نماز کے بعد سیدھی متحارب آنگن میں پہنچ جاتی تھی اور بنا چھت کے کچن میں جاکر خود ہی لکڑیاں سلگانا شروع کر دیتی تھی، فریقین جب یہ منظر دیکھتے تو دوڑتے ہوئے آتے اور خالہ کے ہاتھ چوم لیتے، بس یہیں خالہ اپنے ترکش کا دوسرا تیر نکالتی اور ایسا تاک کر نشانہ لگاتی کہ ایک ہی وار سے دونوں ڈھیر ہو جاتے۔ اگر پیار کی پھکی سے بھی کسی کا پیٹ ٹھیک نہ ہوتا تو خالہ کے پاس کڑوے کوڑ تمے کے نسخے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ گلی محلے میں آوارہ و سرگرداں پھرتے لونڈے خالہ کے سائے سے بھی بھاگتے تھے وہ حتیٰ الامکان ادھر کا رخ ہی نہیں کرتے تھے جدھر خالہ کے موجود ہونے کا شائبہ بھی ہو۔ بقول غالب

”جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں“

یہ وہ دن تھے جب میں نیا نیا سائیکل چلانا سیکھ رہا تھا، جون جولائی کی جلتی بلتی دوپہروں میں جب سب آرام کی غرض سے گھروں میں دبکے ہوتے، میں ابا کی سائیکل لے کر چپکے سے گلی میں نکل جایا کرتا تھا۔ قد چھوٹا، سائیکل بڑی تھی لہٰذا میں سائیکل کو سٹینڈ پہ کھڑی کر کے اس پہ سوار ہو جاتا تھا پھر زور سے پیڈل گھماتا تو پہیہ تیز رفتاری سے گھومنے لگ جاتا۔ پھر سائیکل کو آگے کی جانب ایک جھٹکا دیتا تو وہ سٹینڈ کی قید سے آزاد ہو جاتی تھی اور گھومتے پہیے کی وجہ سے چلنا شروع ہوجاتی اور میں آدھے آدھے پیڈل مار کر اسے اور تیز کر دیتا تھا۔

لیکن اسے روکنے کی دقت اس سے بھی سوا تھی۔ چلتی سائیکل روکنے کے لیے مجھے اس کو دیوار یا کسی ساکن چیز سے ٹکرانا پڑتا تھا۔ اس مشق میں کہنیوں اور گھٹنوں پہ ہلکے پھلکے گھاؤ لگنا عام سی بات تھی۔ ایک دو بار میں نے سائیکل روکنے کے عمومی طریقہ کار میں تھوڑی ترمیم کی اور چلتی سائیکل سے چھلانگ لگا کر اترنے کا تجربہ کیا لیکن یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ”کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا“ کے مصداق اس میں دگنی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

خالہ ریاض نے حسب معمول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا، آخری روزے کے دن محلے کی سبھی عورتیں خالہ کو اعتکاف سے اٹھانے کی تقریب میں شریک ہونے کی تیاری کر رہی تھیں۔ سہ پہر کو اماں نے مجھے پھول لانے کو کہا تو میں نے سائیکل پہ جانے کی شرط عائد کر دی، جسے اماں نے بادل نخواستہ قبول کر لیا۔ میں پھول لینے کے لیے قصبے کی اکلوتی نرسری پہ پہنچا تو سائیکل روکنے کے لیے کسی دیوار کو نہ پاکر تھوڑا پریشان ہوا اور اسی پریشانی میں سائیکل سڑک کنارے ایک کھڈ میں اتر گئی، کھڈ زیادہ گہرا نہیں تھا مگر سائیکل میرے اوپر گر گئی تھی۔

سڑک سے ایک دو لوگ دوڑے اور مجھے اٹھایا، میرے گھٹنے سے خون جاری تھا۔ نرسری والے نے ایک پرانا کپڑا پھاڑ کے گیلا کیا اور میرے گھٹنے پہ باندھ دیا۔ جب کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ایک شاپر میں کچھ پھول لے کر ہینڈل پہ ٹانگ لیے اور سائیکل کے ساتھ پیدل چل کر گھر پہنچا۔ اماں مجھے زخمی دیکھ کر حواس باختہ ہو گئی۔ یہ میرے لیے ایک دشوار صورتحال تھی سچ بولتا تو سائیکل چھن جانے کا اندیشہ تھا لہذا میں نے اماں سے کہا ”اماں جی نرسری کے پاس ایک آوارہ کتے نے مجھ پہ حملہ کر دیا تھا میں نے اس سے بچنے کی پوری کوشش کی مگر اس کا دانت میرے گھٹنے کا گھائل کر گیا۔

چھوٹا سا زخم ہے جلد ٹھیک ہو جائے گا“ میں اماں کو حوصلہ دینے کے ساتھ اپنا اور سائیکل کا سمبندھ بھی بچانا چاہتا تھا۔ مگر ماں کا کلیجہ ایسے کب ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اماں نے صحیح طرح سے زخم کی مرہم پٹی کی اور کہا ”چل تجھے خالہ ریاض سے دم کروا کے لاتی ہوں۔ ایسا نہ ہو کتے کے کاٹے کا زخم خراب ہو جائے جلدی چل، بڑی شفا ہے خالہ کے دم میں، چل چل شاباش“ ۔

جب ہم خالہ ریاض کے گھر پہنچے تو اعتکاف کی مبارک دینے کی غرض سے ہاتھوں میں پھول اٹھائے بہت سی خواتین وہاں جمع تھیں۔ اماں کے ایک ہاتھ میں پھول اور دوسرے میں زخمی بیٹے کا ہاتھ تھا۔ اماں نے خالہ کو زخمی گھنٹہ دکھاتے ہوئے اس عظیم سانحے کی پوری روداد سنا ڈالی۔ خالہ خاموشی سے ساری بات سنتی رہی اور پھر اپنی آنکھوں کو موند لیا۔ میں اور اماں غور سے خالہ کے چہرے کو دیکھ رہے تھے جو آج پہلے سے زیادہ مہیب دکھائی دے رہا تھا۔

خالہ بند آنکھوں کے ساتھ اچانک گویا ہوئی ”کتیا کالے رنگ کی تھی نا“ میں اس خلاف توقع سوال سے سٹپٹا سا گیا مگر جلد ہی اپنے حواس بحال کرتے ہوئے جواب دیا ”جی جی کالے رنگ کی تھی“ ”اس کے جسم پہ سفید دھبے بھی تھے نا“ خالہ نے دوسرا سوال کیا۔ ”جی جی بالکل سفید دھبے بھی تھے“ میں نے ایک بار پھر فوراً جواب دیا۔ پھر خالہ نے بند آنکھوں کے ساتھ ایک طویل و عریض دم کیا اور تین بار پھونک ماری۔ ”اللہ نے بہت بڑی مصیبت سے بچا لیا، اس کا صدقہ بھی اتارو“ یہ کہتے ہوئے خالہ ریاض نے آنکھیں کھول دیں۔ مگر میں اماں کو دیکھ رہا تھا جس کی حیرت سے پھٹی ہوئی آنکھیں خالہ ریاض کی عقیدت میں نمناک ہو چکی تھیں۔

Facebook Comments HS