EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مجھے میرا مقدمہ خود لڑنا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آزاد جموں کشمیر میں الیکشن کا میلہ سجتے ہی سرکاری و نیم سرکاری، جمہوری و غیر جمہوری اور سماجی کھڑپینچ اپنے اپنے سیاسی لیڈران کی نمائشی دکانیں سجا کر بیٹھ چکے ہیں۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا جب آزاد ریاست کے کسی نہ کسی کونے سے شیر کی دھاڑ، بلے کی مار، تیر کے وار، گھوڑے کی رفتار اور ترازو کے افکار کا واویلا نہ سنائی دیتا ہو۔ ہر سیاسی جماعت کے اپنے لوکل مینوفیکچرڈ لیڈران کی پہلے ہی کیا کمی تھی کہ پاکستانی برینڈز کے لیڈران نے بھی خوب رونق لگا رکھی ہے۔

ہر الیکشن میں تعلیم، روزگار، صحت، ڈیویلپمنٹ، سوئی گیس، بجلی اور دیگر ایسے کئی وعدے اور دعوے ایک عام روایت ہے لیکن آزاد جموں کشمیر کا الیکشن اس لحاظ سے منفرد اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں میدان مارنے کے لئے بڑا روایتی ہتھیار ہمیشہ سے ”مقدمہ کشمیر“ رہا ہے۔ لہذا ہر سیاسی پارٹی اپنے نظریے، منشور اور سیاسی ایجنڈے کی پروموشن سے کہیں زیادہ مقدمہ کشمیر کو پورے تن من دھن کے ساتھ پیش کرنے اور لڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپنے آپ کو کشمیریوں سے بڑھ کر ”کشمیری“ ثابت کرنے کے دعوے اور نعرے آپ کو ہر سو کھلے عام ملیں گے۔ یہاں تک کہ ان کی کشمیر سے خصوصی محبت، لگاو اور جذبات دیکھ کر ایک پوائنٹ پر یہ محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ ”اصیل“ کشمیری شاید یہی ”عاشقان کشمیر“ نہ ہوں۔ لیکن کیا کریں ان صاحبان کی تقاریر میں کشمیر سے محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتے دیکھ کر دماغ میں یہ کیڑا کلبلانے لگتا ہے کہ اتنے عشق کشمیر، خلوص اور جذباتی لگاو کے باوجود 70 سالوں میں پھر کمی کہاں رہ گئی کہ جہاں کھڑے تھے وہاں سے ایک انچ نہ آگے بڑھ سکے؟

اس سیاسی دنگل کے سب سے بڑے شاہسوار جو کشمیریوں کے سفیر ہونے کا ٹیگ اپنے سینے پر سجا کر ”حق کشمیر“ ادا کرنے پر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں ان کے روایتی نعروں میں فی الوقت چوروں، ڈاکووں اور مافیاوں کو نہ چھوڑنے کے علاوہ کوئی نئی بات تو نہیں ملتی۔ ہاں البتہ کشمیری عوام کی طفل تسلی کے لیے ان کی پاکٹ میں بین الاقوامی معیار کی چند غیر پرچی شدہ بولڈ تقاریر ضرور ہیں جن کا ذکر وہ ہر جلسہ عام میں کرنا ہرگز نہیں بھولتے۔

اگرچہ یہ کہانی پھر سہی کہ 5 اگست کا بھارتی خونی تحفہ انہیں لازوال اور دبنگ تقریروں کے بعد ہی کشمیریوں کو عطا ہوا تھا۔ ان کے پیادے تو اتنے دیالو اور محب وطن ہیں کہ ایک ہاتھ سے سرعام جلسوں میں دولت بھی لٹا رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے حسب روایت غداری کے سرٹیفیکیٹس بھی بانٹتے پھر رہے ہیں۔ اور جہاں جہاں موصوف جا رہے ہیں، کبھی پتھراو، کبھی انڈوں، ٹماٹروں اور کبھی ہوائی فائرنگ سے ایک انمٹ داستان رقم کر رہے ہیں۔

امین گنڈا پور، فردوس عاشق عوان، فیاض الحسن چوہان اور مراد سعید جیسے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اگرچہ اپنے زہریلے اور کاٹ دار انداز کلام سے بیسیوں بار ہم ”دو ٹکے“ کی کشمیری عوام کی دل آزاری کر چکے ہیں۔ لیکن گنڈا پور صاحب پر جوتے برسنے کے محرکات بہرحال کچھ اور ہیں کیونکہ کشمیری قوم کا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن یہ غیور قوم اپنی روایتی مہمان داری، بردباری اور وضع داری کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتی۔

وزیراعظم فاروق حیدر تک کی سطح پر اس واقع کی مذمت یقیناً خوش آئند ہے لیکن سوچنا یہ ہے کہ اس کے باوجود اس جوتا مار نوجوان کو عوامی سطح پر اتنی پذیرائی کیوں ملی کی وہ راتوں رات ایک ہیرو بن گیا؟ پاکستان میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور گالم گلوچ کا جو کلچر کچھ سالوں میں پروان چڑھ چکا ہے۔ اس کے اثرات آزاد کشمیر کے موجودہ الیکشن میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اور تو اور غیر محسوس انداز میں پورے کا پورا الیکشن چرانے کی سازش کی بو تک سونگھی جا سکتی ہے۔

لیکن 70 سالوں سے اپنے ہی گھر کی لڑائیوں کا خمیازہ بہرحال کشمیری عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ چاہے وہ بھٹو ہو، بے نظیر ہو، نواز شریف یا پھر عمران خان۔ ان لیڈران نے اپنے اپنے دور حکومت میں قومی اور بین الاقوامی ہر فورم پر مقدمہ کشمیر کو پیش کرنے کی سعی لا حاصل ضرور کی۔ یہاں تک کہ کئی سالوں پر محیط فوجی حکومتوں کے باوجود بھی کشمیری عوام کی شنوائی نہ ہو سکی۔ کیونکہ بنیادی نکتہ ہی روز اول سے نجانے کن سیاسی، سفارتی یا عسکری مصلحتوں یا وجوہات کی بنا پر نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ کشمیری قوم جو اس مقدمے کی بنیادی فریق ہے اس کو کبھی بھی بین الاقوامی سطح پر اپنا نکتہ نظر خود پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔

جب یہ لیڈران لہو گرمانے کو اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہی سہی لیکن اپنی تقاریر اور بیان بازی میں جب ایک دوسرے پر کشمیر پر سودے بازی، مودی سے یاری، اس کو بیچ کھانے، بیک ڈور رابطوں، حتی کی اس کو الگ صوبہ بنانے کی سازشوں کا الزام دھرتے ہیں تو یقین مانیے دل دہل جاتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ خدایا کہیں یہ سب سچ ہی نہ ہو۔ ان لیڈران کی کشمیر سے انسیت اور لگاو اپنی جگہ اور نہ ہی ان کی نیت پر شک کے لئے دل آمادہ ہوتا ہے لیکن کشمیر کا مقدمے کو پیش کرنے اور اس کے فیصلے کا حق بہرحال صرف اور صرف ایک ”کشمیری“ کو ہے۔ لہاذا خدارا ہمیں اپنا مقدمہ خود لڑنے دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے