منٹو ایک سوچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعادت حسن منٹو ان ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں کہ جنہوں نے معاشرے کے ایسے مسائل کو موضوع بنایا جو عام آدمی کی نظر سے دور تھے۔ ادب کی دنیا کا وہ نام کہ جس نے ایک الگ طرز فکر سے اپنی تحریریں سماج کے سامنے رکھیں، ان کی تحریروں کے موضوعات محدود نہیں۔ منٹو نے صرف جنس یا طوائف پر بات نہیں کی بلکہ فسادات اور معاشی بدحالی کو بھی اپنے افسانوں میں بیان کیا۔ انھوں نے سماج میں موجود لوگوں کی ذہنیت اور سماجی حقیقتوں کا عکس بڑے عمدہ انداز میں کیا ہے۔

سعادت حسن منٹو ایک بے باک لکھاری ہیں اور انھوں نے معاشرے میں موجود چھپی غلاظتوں کو سماج کے سامنے پیش کرنے کی ایک ممکن حد تک کوشش کی ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں جنسی پہلو کو موضوع بحث بنایا، اسی وجہ سے ان پر بہت سے اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں مگر ان کا اصل موقف کیا تھا اور وہ کیا بات سامنے لانا چاہتے تھے، اس کا اندازہ صرف ایک وسیع سوچ کی مالک شخصیت ہی سمجھ سکتی ہے۔ ان پر یہ الزام سامنے آتا ہے کہ وہ ایک فحش لکھاری ہیں جبکہ فحاشی کے حوالے سے بات کچھ یوں ہے کہ یہ ہمارے معاشرے اور اس میں موجود لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور اس قدر رچی بسی ہوئی ہے کہ عام اور سیدھی سی بات کو بھی غلط تصور کر لیا جاتا ہے۔ منٹو کی تحریریں اور افکار معاشرے میں موجود عام آدمی کی فہم سے کہیں آگے کی ہیں۔

منٹو خود اپنی تحریروں پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’ہماری تحریریں آپ کو بڑی کڑوی کسیلی لگتی ہیں مگر اب تک جو مٹھاس
آپ کو پیش کی جاتی رہی ہے اس سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا، نیم کے
پتے کڑوے سہی مگر خون ضرور صاف کر دیتے ہیں ’۔

اس حوالے سے عرض کروں گی کہ ہمارے معاشرے میں لوگ فحاشی کرنا تو پسند کرتے ہیں مگر اس پر بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں اور یہ اعتراضات ان لوگوں کی طرف سے سامنے آتے ہیں جو بذات خود اس میں ملوث ہیں، منٹو سماج کے اسی طرز عمل پر بات کرتا دکھائی دیتا ہے۔

منٹو کہتا ہے :
’میں نے ایسی فضا میں پرورش پائی ہے جہاں‘ آزادی گفتار اور آزادی خیال ’
بہت بڑی بدتمیزی تصور کی جاتی ہے۔ جہاں سچی بات کہنے والا بے ادب سمجھا
جاتا ہے ’۔

منٹو ایک ایسی شخصیت ہے جو کہ ہمیشہ سے اختلاف کا شکار رہی ہے اور ان کی شخصیت کے بارے میں نت نئے بیانات سامنے آتے ہیں اور ہر فرد اپنی ذہنی سوچ کے مطابق منٹو کو پکارتا ہے۔

نفسیاتی حوالے سے بات کی جائے تو منٹو نفسیات کو کاغذ پر بکھیرتے دکھائی دیتا ہے، منٹو نے سماج کے ذہنوں میں گھس کر ان کی نفسیات کو جانچا ہے۔

بقول حقانی القاسمی:
’منٹو نے انسانی ذہن کی پراسراریت کو سمجھا‘ ۔

منٹو سماج کی نفسیات کو پڑھ کر بات کرتا ہے، سماج نے ان کی تحریروں کو پڑھا اور بجائے اس کو سمجھنے کے ان پر بے حیائی کے فتوے اور فحش گوئی کے الزامات لگاتے رہے۔ میرا مقصد اپنی تحریر میں منٹو کی تعریفوں کے پل باندھنا یا ان کے ڈیل ڈول پر صرف ان کی اچھائیاں اور سماج کو برا کہنا ہرگز نہیں ہے۔ منٹو شدت پسند بالکل نہیں تھے مگر ان کے انداز افکار سے یہی معلوم ہوتا اور گمان کیا جاتا کہ وہ شدت پسندی کے قائل ہیں۔ وہ سماج میں موجود ہر عام فہم کو اپنا موقف سامنے رکھنے اور اپنا حق لینے کے لیے اکساتے ہیں۔ ’مظلومیت آخر کب تک مظلومیت رہے گی‘ پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

منٹو اپنی تحریروں میں سیاسی افکار معاشرتی رویوں، حالات کی تصویر کشی اور بات کی گہرائی کو بڑے عمدہ انداز میں پیش کرتے ہیں، انہی تحریروں کے بل بوتے پر ان کو کئی بار قید اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کم عمری میں ہی زیادہ سے زیادہ لکھنا اور پھر لکھنا بھی ایسا کہ سیدھا دل پر جا لگے یا کم سے کم کچھ روز راتوں کی نیند ضرور اڑا لے جائے۔

منٹو کے افسانے ان کی تحریروں میں سب سے اہم اور نمایاں ہیں، ان کے افسانوں میں اسلوب کو بڑا مانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اجزائے ترکیبی، تشبیہات، فکشن، زبان اور تکنیک کا بڑا عمدہ استعمال ملتا ہے۔ منٹو ایک آزاد خیال اور باغیانہ سوچ کے مالک ہیں کہ جو آزادی رائے سے جینے کے قائل ہیں۔

منٹو ترقی پسند ادیبوں کے زمانے میں رہے مگر ان کا انداز ترقی پسندوں سے بالکل الگ اور نمایاں ہے۔ منٹو بذات خود ایک تحریک کا نام ہے اور اس تحریک کے رکن بانی وہ خود ہیں۔ بنیادی طور پر منٹو نے کبھی بھی اپنی ذات کو کسی خاص تحریک کے اندر یا باہر قید نہیں کیا بلکہ ہر بات اس انداز سے کی کہ تحریک کا عنصر سامنے آتا دکھائی دیا۔

منٹو جیسے شخص کو خود پسندی کا شکار کہا جا سکتا ہے مگر نرگسیت کے اس موڑ پر نفسیاتی پہلو سے دیکھیں تو ایسے لوگ بہت زیادہ جذباتی ہوتے ہیں، اپنی بات کو منوانا اور خود پسندی کا مروجہ شکار ہوتے ہیں اور منٹو بھی اسی چیز کا شکار رہے۔ سعادت حسن منٹو معاشرے کے حساس پہلو لکھنے والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے گردوپیش کی زندگی سے اپنی تحریروں کو جنم دیا۔ منٹو پردے کے پیچھے کی کہانی سامنے لاتا اور اسے بے نقاب کرتا ہے۔ منٹو رسم و رواج پر طنز کرتے دکھائی دیتا ہے۔

منٹو ایک ایسی تحریک اور سوچ ہے جو ہر دور میں آنے والے لوگوں کے لیے لمحہ فکر پیش کرتی ہے۔

Latest posts by اقرا ریاض (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقرا ریاض کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments